صحافت کسی بھی سماج میں انسانی شعور و تربیت اور علم آگاہی کے لئے ایک
کامیاب ستون کے طور پر تسلیم شدہ ہے، جو حقائق کو لے کر واقعات کی منظر کشی
کرتا ہے۔ انسانی سماج میں گرد و پیش کے حالات، تغیر و تبدل اور روز مرہ
واقعات کو آشکار کرنے یا سماج میں لا کر وہاں رہنے والے انسانوں کو باخبر
رکھنے میں صحافت ایک ذمہ دار ادارہ کے طور پر قابل بھروسہ ہوتا ہے، جس کی
ضرورت ہر سماج میں رہنے والے انسانوں کو ہے کیونکہ صحافت ایک غیر جانبدار
اور معاشرے کی مثبت انداز میں تعمیر نو کا شعبہ ہوتا ہے۔ لیکن پاکستانی
میڈیا مروجہ اقدار نبھانے کی بجائے مجموعی طور پر بدترین کردار ادا رہا ہے،
جس نے صحافت کو حقیقت نگاری کی بجائے تمثیل آفرینی بنا دیا ہے۔
محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف جُھوٹے سیاسی مقدمات کے
سلسلے میں اسٹیبلشمنٹ اور شریفوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنے والے ججوں کے ساتھ
ساتھ دروغ گوئی کے عالمی چمپئین صحافیوں کا بھی اتحاد رہا ہے۔ اب سازشیں
کھل کر سامنے آ چکی ہیں کہ کس طرح اسٹیبلشمنٹ اور اس کے جموروں نے محترمہ
بینظیر بھٹو پر دباؤ ڈالنے کے لیے آصف علی زرداری کے خلاف صحافیوں کے ذریعے
پروپیگنڈہ کرنے کے لیے رچائی تھیں۔ اگر گوئبلز آج زندہ ہوتا اور آصف علی
زرداری کے خلاف کرپشن کا دھواں دھار واویلا مچانے والے صحافیوں کی
کارستانیاں ٹی وی سکرینوں اور اخبارات میں دیکھتا تو اسے پتہ چلتا کہ اصل
پروپیگنڈہ گُرو تو پاکستان میں پیدا ہوئے ہیں اور وہ ضرور اِن کے سامنے بصد
ادب زانوئے تلمذ تہہ کرتا۔
حیرت ہے کہ سوئس کیسز بارہا جھوٹے ثابت ہونے کے باوجود آج بھی اِن کیسز
سے متعلق میڈیا پر بڑی دلچسپ الف لیلوی داستانیں پورے ڈھیٹ پن کے ساتھ
سنائی جاتی ہیں۔ اِن لاتعداد من گھڑت کہانیوں میں سے ایک کہانی جگادری کالم
نگار اور ٹی وی اینکرز اکثر پورے اعتماد کے ساتھ سناتے نظر آتے ہیں کہ
برطانیہ میں سابق پاکستانی ہائی کمشنر واجد شمس الحسن نے جینوا میں ایک
انتہائی خفیہ آپریشن کیا تھا، جس میں انھوں نے سوئس کیسز سے معتلقہ اصلی
دستاویزات اور مضبوط شواہد پر مبنی بارہ ڈبے حاصل کر لیے تھے۔ بعض تو
فرماتے ہیں کہ چوری کر لیے تھے (جہالت کے منہ زور گدھوں کی تحقیق ملاحظہ ہو
کہ پاکستانی عدالتوں میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اِن ریفرنسز میں دستاویزات
تصدیق کے بغیر فقط فوٹو کاپیاں جمع کرائی گئی تھیں اور اِن فوٹو کاپیوں پر
اوریجنل دستخط اور سٹیمپس تک موجود نہیں تھیں اور یہ اصل دستاویزات سوئٹرز
لینڈ کی عدالت میں جمع کرائے بیٹھے ہیں، جہاں بعد میں مقدمے فائل کرنے کی
کوششیں کی گئ تھیں)۔ جو حکومت پاکستان کے پراسیکیوٹر جنرل کی جانب سے جمع
کرائے گئے تھے۔ کوئی تو اِن صحافت کے نام پر جہالت پھیلاتے سیاپا فروشوں کو
بتائے کہ یورپ میں مقدمے کا فریق فیس ادا کر کے عدالتوں سے ریکارڈ کی فوٹو
کاپیاں بغیر کسی حیل و حج لے سکتا ہے۔ اور یہ بات بھی کوئی سمجھانے والی
ہے کہ کوئی بھی عدالت سوئس کیسز ایسے مشہور مقدمات تو کیا کسی عام کیس کے
ریکارڈ کی فوٹو کاپیوں کی بجائے اصل ریکارڈ اُٹھا کر ایک فریق کو دے دے گی
اور پیچھے سوفٹ یا ہارڈ کاپیز کی صورت میں کوئی بیک اپ بھی نہیں رکھے گی؟
عقل دنگ ہے کہ وطنِ عزیز میں کیسی کیسی بودی کہانیاں سنائی جاتی ہیں اور ہم
وطنوں کی اکثریت ایسی ہے جو ایسی جھوٹی کہانیوں کو سچ مان کر جھٹ سے ایمان
بھی لے آتی ہے۔ خاندانِ شریفیہ اپنے ہر بڑے پروجیکٹ کا ریکارڈ جلا کر اِسی
تھیوری کے تحت سب کو سمجھا دیتا ہے کہ اب ریکارڈ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا
ہے۔ ضیائی اولاد یہ سمجھتی ہے کہ شاید باقی دنیا میں بھی پاکستانی عوام
ایسے بغلول بیٹھے ہوئے ہیں کہ بیوروکریسی کے ساتھ مل کر بیک اپ سمیت
پروجیکٹس کا سارا ریکارڈ ختم کر دیا جاتا ہے اور مشہور یہ کر دیا جاتا ہے
کہ آگ لگنے کے دوران سارا ریکارڈ جل گیا ہے، لہذا اب گھپلوں کے بارے میں
انکوائری ممکن ہی نہیں۔ وطنِ عزیز کے علاوہ یہ کُھلا فراڈ پوری دنیا میں
کہیں بھی ناممکن ہے۔
وطنِ عزیز میں ایسے ڈھیٹ سیاستدان اور صحافی بھی پائے جاتے ہیں، جو ایک
سانس میں شریفوں پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ شریف برادران ججوں کو
ہمیشہ خریدتے رہے ہیں اور فون کر کے اپنے مخالفین کو اپنی پسند کی سزائیں
بھی دلواتے رہے ہیں (مگر یہ لوگ اس بات کا بھول کر بھی ذکر نہیں کرتے کہ
شریف برادران کِن مخالفین کو ججوں کے ذریعے سزائیں دلواتے رہے ہیں۔) اور
اگلی ہی سانس میں آصف علی زرداری کو کرپٹ ترین شخص بھی کہہ دیتے ہیں۔
سوئس کیسز چلانے والے صادق و امین فرشتوں کا فقط ایک ہی ایجنڈہ ہے کہ
آصف علی زرداری کی بھرپور کردار کشی کی جائے۔ سوئس کیسز کا نام لے کر
پروپیگنڈہ کرنے والے فقط پنجابی کہاوت کے مطابق ہزار جُجتوں والے ہیں ورنہ
یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ مندرجہ ذیل حقائق سے نا واقف ہوں:
1. ایس جی ایس اور کوٹیکنا نامی دونوں کمپنیوں سے نواز شریف حکومت نے
1992ء میں تجارت کے عالمی معاہدے کے تحت دستخط کیے۔ نواز شریف کی حکومت کے
بعد 1994ء میں محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت کو ڈبلیو ٹی او کے تحت دونوں
کمپنیوں کو پری شپمینٹ اِنسپیکشن کے یہ کنٹریکٹ دینے پڑے۔
2. نومبر 1996ء کو آصف علی زرداری گرفتار ہوئے۔ مئی 1997ء میں سوئس کیسز
گھڑنے کے لیے اے اے زی اور بی بی کے کوڈ نام سے سوئٹزر لینڈ میں دو
اکاؤنٹس کھولے گئے اور پھر جعلی خطوط بنائے گئے (اِن خطوط میں بیس بیس ملین
ڈالرز بطور کمیشن مندرجہ بالا اکاؤنٹس میں بھجوانے کا ذکر تھا)، جو عدالت
میں جعلی ثابت ہوئے۔
3. شریف حکومت نے سوئس حکام کے سامنے بار بار مواقف بدلے۔ سب سے پہلے
ثابت شدہ جعلی اکاؤنٹس میں موجود پیسوں کو کِک بیکس کہا، پھر منی لانڈرنگ
کا ڈھونگ رچایا اور آخر میں کہا کہ یہ تو منشیات کی کمائی تھی مگر سوئس
حکام نے اِن کے ہر من گھڑت اور جھوٹے الزام کو رد کیا۔
4. محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو 1999ء میں سزا دلوانے کے
لیے شریفوں کی چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ راشد عزیز اور جسٹس ملک محمد قیوم
کے ساتھ ملی بھگت، جو سپریم کورٹ میں 2001ء میں ثابت ہوئی اور شریفوں کے
ساتھ گٹھ جوڑ کرنے والے ججوں کو گھر جانا پڑا۔ اگر یہ کیسز سچے ہوتے تو
شریف برادران ججوں سے اس طرح کی گفتگو کرتے؟ (اِس آرٹیکل کی چوتھی قسط میں
آڈیو ٹیپس میں ریکارڈڈ گفتگو کی مکمل تفصیل موجود ہے۔)
5. شریفوں نے پاکستانی ججوں کے ساتھ ملی بھگت کی طرز پر سوئس حکام سے
بھی ملی بھگت کرنے کی بھرپور کوششیں کیں مگر سوئس انویسٹیگیٹنگ جج ڈینیل
ڈیواؤ نے ابتدائی انکوائری میں بوگس ثبوت دیکھ کر مقدمات چلانا تو دور کی
بات، فائل تک کرنے سے انکار کر دیا۔
6. شریف حکومت کے سوئس وکیل جیکؤس پاتھن، جنیوا کے اٹارنی جنرل
(پراسیکیوٹر جنرل) ڈینیل زیپیلی، جنیوا کے دوسرے اٹارنی جنرل فرانکوئس راجر
مچلی کا ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز سے متعلقہ مقدمات (سوئس کیسز) کے
بارے میں کھلے مواقف دے چکے تھے کہ پیش کردہ ثبوتوں کی بنا پر محترمہ
بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف کاروائی نہیں ہو سکتی۔
7. راولپنڈی کی احتساب عدالت نے 30 جولائی 2011ء کو اٹھارہ گواہان کی
گواہیوں کے بعد ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز سے متعلقہ کیسز کو خارج
کرتے ہوئے واضح طور پر اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ان مقدمات میں کسی بھی
ملزم کے خلاف کرپشن، رشوت، کمیشن اور سیاسی دباؤ ڈالنے کے الزامات ثابت
نہیں ہوتے۔ تمام الزامات من گھڑت اور جھوٹے تھے۔ ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا
کمپنیز کو پری شپمنٹ انسپیکشن کے ٹھیکے خالصتاً میرٹ پر دیئے گئے۔ ان دونوں
ٹھیکوں کے عوض قومی خزانے کو ایک پائی کا نقصان ثابت نہیں ہوتا بلکہ اِن
معاہدوں سے پاکستان کو سالانہ 58 ارب روپے کا فائدہ پہنچا تھا، جس کی تصدیق
ایک آڈٹ فرم کر چکی ہے۔
آصف علی زرداری کی عہدہ صدارت سے سبکدوشی کے بعد عدالت کی بار بار کی
ہدایات کے باوجود استغاثہ عدالت میں کوئی ثبوت پیش نہ کر سکا۔ اس طرح 24
نومبر 2015ء کو عدالت نے آصف علی زرداری کو بھی سوئس کیسز میں باعزت بری کر
دیا۔
8. سوئس کیسز بنانے والے یعنی احتساب بیورو کے چیئرمین سیف الرحمٰن اور
نواز شریف نے آصف علی زرداری سے معافیاں مانگیں اور یہ بھی تسلیم کیا کہ
انھوں نے جھوٹے مقدمات بنائے تھے۔ مزید برآں، شریف حکومت کے بعد سوئس کیسز
جاری رکھنے والے ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے بھی ان کیسز کو میڈیا کے سامنے جعلی
تسلیم کیا۔
9. جب آئین کا آرٹیکل 248 واضح طور پر کہتا ہے کہ “صدر یا گورنر کے
خلاف، اس کے عہدے کی میعاد کے دوران کسی عدالت میں کوئی فوجداری مقدمات نہ
قائم کیے جائیں گے اور نہ ہی جاری رکھے جائیں گے”۔ پھر سپریم کورٹ آف
پاکستان صدرِ پاکستان کے خلاف اُن کی صدارت کے دوران ایک غیر ملکی عدالت
میں مقدمہ چلانے کے لیے پورے تین سال تک کیوں بضد رہی؟ یاد رہے کہ
انٹرنیشنل قانون کے مطابق صدر، وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ کو عالمی استثنٰی
حاصل ہوتا ہے۔ مزید برآں، سوئس حکام بار بار واضح کر رہے تھے کہ پاکستانی
سپریم کورٹ کا جو مرضی فیصلہ آئے مگر سوئس قوانین اور انٹرنیشنل لاء اس
بات کی اجازت نہیں دیتے کہ کسی ملک کے صدر مملکت کے خلاف کیسز شروع کیے جا
سکیں۔
10. عدالتِ عظمٰی وزراء اعظم کو صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے خلاف
سوئٹرزلینڈ میں ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز سے متعلقہ اُن بند کیسز
(سوئس کیسز) کو کھلوانے کے لیے خط لکھوانے پر بضد تھی، جو سرے سے موجود ہی
نہیں تھے۔ حقیقت یہ تھی کہ سوئٹرز لینڈ میں اِن کیسز کی فقط انکوائری ہوئی،
جس کی کوئی عدالتی اہمیت نہیں تھی اور شواہد نہ ہونے پر سوئٹزر لینڈ میں
مقدمے فائل ہی نہیں ہو سکے تھے۔ مزید برآں، یہ بوگس کیسز پاکستانی احتساب
عدالت میں بھی خارج ہو چکے تھے۔
11. وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی عدالتِ عظمٰی کے حکم پر جب آئین کے
آرٹیکل 248 کے مطابق سوئس حکام کو خط لکھنے کے لیے تیار تھے مگر عدالت اِس
آرٹیکل کو پس پشت ڈال کر خط لکھوانا چاہتی تھی، جس پر عدلیہ نے ڈکٹیٹر
پرویز مشرف کے دور میں جاری کیے گئے توہین عدالت کے آرڈیننس 2003ء کے سیکشن
پانچ کے تحت جرم کا مرتکب قرار دے کر منتخب وزیرِ اعظم کو نااہل قرار دے
کر گھر بھیج دیا۔ ایک ڈکٹیٹر کو تین سال کے لیے آئینِ پاکستان سے کھلا
کھلواڑ کرنے کی اجازت دینے والے ججوں نے قومی اسمبلی میں وزیرِ اعظم کے حق
میں قرارداد اور اسپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کو بھی درخور اعتنا نہ سمجھا۔
مگر بعد ازاں وزیرِ اعظم پرویز اشرف سے عدالت نے سوئس حکام کو اُسی متن کے
ساتھ خط لکھوایا، جس کے لیے یوسف رضا گیلانی رضامند تھے۔
12. ڈبل جیوپرڈی پوری دنیا کا مسلمہ قانون ہے یعنی ایک مقدمے کی دو بار
سماعت نہیں ہو سکتی۔ پھر عدالتِ عظمٰی اپنے ہاتھ سے مئی 2001ء میں ان
مقدمات کی سزاؤں کو خلاف قانون قرار دینے کے بعد دوبارہ سوئٹزر لینڈ میں کس
طرح کھلوانا چاہتی تھی؟ اِس کے باوجود کہ راولپنڈی کی احتساب عدالت بھی
مقدمات کو من گھڑت قرار دے کر خارج کر چکی تھی۔
13. سپریم کورٹ کے حکم پر حکومتِ پاکستان کی طرف سے سوئس حکام کو
بھجوائے گئے خط کا کورا جواب آیا اور سوئس حکام نے آصف علی زرداری کے خلاف
کاروائی کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ سوئس حکام نے اپنے جواب میں بالکل وہی
موقف اختیار کیا، جو وہ ہمیشہ سے میڈیا پر دیتے چلے آ رہے تھے۔ کیا عدالتِ
عُظمٰی اس قانونی موفف سے نا واقف تھی؟
حیرت ہے کہ سوئس کیسز میں ملوث صادق و امین فرشتوں کے ضمیروں سے اٹھارہ
سالوں کے دوران ایک بار بھی آواز نہیں اُٹھی کہ یہ کہاں کی سیاست ہے؟ یہ
کہاں کی حُب الوطنی ہے؟ یہ کہاں کی سرحدوں کی رکھوالی ہے؟ یہ کہاں کی دینِ
اسلام کی پیروی ہے؟ یہ کہاں کی صحافت ہے؟ اور یہ کہاں کا اِنصاف ہے؟
محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف سوئس کیسز سب سے بڑے
مقدمے تھے، جس میں صادق و امین فرشتوں نے ان مقدمات میں اٹھارہ سال کے
دوران قدم قدم پر دھونس، دھاندلی، لاقانونیت، پروپیگنڈے، بے شرمی اور ڈھیٹ
پن کے ریکارڈز قائم کیے۔ یاد رہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری
پر سوئس کیسز کے علاوہ بھی لاتعداد ریفرنسز دائر کیے گئے تھے، جن میں صادق
و امین فرشتوں کا بالکل یہی طریقہ واردات رہا، جن میں اولین مقصد صرف اور
صرف محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی کردار کشی اور میڈیا ٹرائل
کے ساتھ ساتھ قید و بند کی صعوبتیں دے کر سیاست سے بے دخل کرنا تھا۔
سوئس کیسز کی تفصیل جاننے کے بعد اپنے تئیں صادق و امین فرشتوں اور آصف
علی زرداری کی کرپشن کی حقانیت بخوبی سمجھی جا سکتی ہے۔ ہاں البتہ ایک ذہنی
کیفیت، جسے willingness to believe کہا جاتا ہے، میں مبتلا مریض کی اور
بات ہے (اِس کیفیت میں آدمی ناپسندیدہ کے خلاف اور پسندیدہ کے حق میں ہر
بات مان لینے پر فوراً آمادہ ہوتا ہے)۔
وطنِ عزیز میں اگر انصاف ہو تو سوئس کیسز میں ملوث شریف برادران (اپنے
سرکاری اور غیر سرکاری حواریوں سمیت) اور انصاف کا سرعام قتل کرنے والے
ججوں کے لیے ساری عمر کی نااہلی کے ساتھ ساتھ کم از کم اُتنی جیل کی سزا
ضرور بنتی ہے، جتنی اِنھوں نے کوئی مقدمہ ثابت کیے بغیر آصف علی زرداری کو
پابند سلاسل رکھ کر دی ہے۔
محترمہ بینظیر بھٹو کی زندگی میں آنے کے بعد آصف علی زرداری کے خلاف بے
بُنیاد جُھوٹے مقدمات کے سلسلے میں صداقت و امانت کا لبادہ اوڑھے مقدس
عدالتی منصب پر بیٹھے جج اور ضمیر فروش صحافی آئین شکن ضیاءالحق کی باقیادت
کا مکمل ساتھ دیتے چلے آ رہے ہیں۔ آصف علی زرداری کے تمام مقدمات میں
باعزت بری ہونے کے بعد آج بھی اُن کے خلاف مبالغہ آرائی کے بھرپور رنگ بھرے
جا رہے ہیں اور آج بھی اُن کے مخالفین انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ انھیں کرپٹ
کہتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد اُن کی بیٹی محترمہ بینظیر بھٹو، دونوں
بیٹوں مرتضٰی بھٹو اور شاہ نواز بھٹو کی جانیں لینے کے بعد آصف علی زرداری
کے خون کی پیاس میں گز گز بھر لٹکتی زبانیں یہ بات واضح کرتی ہیں کہ
پاکستان میں دو گروہوں میں ایک تاریخی معرکہ لڑا جا رہا ہے۔ ایک گروہ
جمہوریت، ووٹ اور آئین کی حرمت کو تار تار کرنے پر درپے ہے اور دوسرا گروہ
اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھے ان کا راستہ روکے کھڑا ہے۔ ان سے برسر پیکار ہے،
ان سے پنجہ آزمائی کرنے، گتھم گتھا ہونے یا ملکی اداروں کی توہین کرنے کی
بجائے ایک جہد مسلسل، ایک عزم اور ایک صبر مسلسل کے ساتھ ستمگروں کے سب ستم
ہراتے ہوئے ارتقائی طریقے سے قوم کو درکار اصل منزل کے قریب تر کر رہا ہے۔
اپنے تئیں صادق و امین فرشتے مت بھولیں کہ غیر جانبدار مورخ اپنی تجربہ
کار آنکھوں سے ٹکٹکی باندھے سب کچھ دیکھ رہا ہے، سب مناظر اُس کے ذہن کی
لائبریری میں محفوظ ہو رہے ہیں اور وہ معاملات کی گہرائی میں اتر کر کسی
پروپیگنڈے سے متاثر ہوئے بغیر انتہائی بے دردی سے کسی لیپا پوتی کے بغیر
اپنے قلم سے تاریخ لکھ رہا ہے۔ جس سے سب کچھ واضح ہو کر رہے گا۔ اسی حساب
سے آج کے کردار آئندہ تاریخ میں پہچانے جائیں گے کہ کون قوم کا غدار تھا
اور کون وفادار؟
(ختم شُد)
“کرپٹ زرداری” اور صادق و امین فرشتوں کی اصل کہانی (10)
جب دوسری جنگِ عظیم میں برطانوی وزیرِ اعظم ونسٹن چرچل کو اْس کے سپہ
سالار نے بتایا کہ ہم شکست کھانے والے ہیں اور جاپانی فوجیں لندن کا محاصرہ
کر چکی ہیں تو چرچل نے صرف ایک سوال کیا، ’’کیا ہماری عدالتیں ابھی تک
انصاف کر رہی ہیں؟ جواب ملا، جی ہاں! تو چرچل نے کہا، ’’پھر ہمیں کوئی شکست
نہیں دے سکتا‘‘۔ تاریخ گواہ ہے کہ ناصرف جاپانی فوجوں کو پسپا ہونا پڑا
بلکہ دوسری جنگِ عظیم میں چرچل اور اس کے اتحادی بھی کامیاب ہوئے۔
انصاف قوموں کی زندگی کو توانا رکھتا ہے۔ بے شک اِس حقیقت میں کوئی شُبہ نہیں لیکن اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کو دیکھیں تو معاملہ اِس سے بھی کہیں زیادہ سنگین ہے۔ آپ کا ارشاد ہے، ’’کوئی معاشرہ کفر پر تو قائم رہ سکتا ہے لیکن ظلم پر نہیں‘‘۔ کوئی معاشرہ ظلم پر قائم نہیں رہ سکتا چنانچہ نا انصافی کی وجہ سے تو سِرے سے قوم ہی نہیں رہتی پھر قومی زندگی کی توانائی کا سوال کیا باقی رہ جاتا ہے؟
عظیم چینی فلسفی کنفیوشس سے کسی نے پوچھا کہ اگر ایک قوم کے پاس تین چیزیں انصاف، معیشت اور دفاع ہوں اور بوجہ مجبوری اِن تین چیزوں میں سے کسی ایک چیز کو ترک کرنا مقصود ہو تو کس چیز کو ترک کیا جائے؟ کنفیوشس نے جواب دیا۔ دفاع کو ترک کر دو۔ سوال کرنے والے نے پھر پوچھا اگر باقی ماندہ دو چیزوں یعنی انصاف اور معیشت میں سے ایک کو ترک کرنا لازمی ہو تو کیا کیا جائے؟ کنفیوشس نے جواب دیا، معیشت کو چھوڑ دو۔ اس پر سوال کرنے والے نے حیرت سے کہا۔ معیشت اور دفاع کو ترک کیا تو قوم بھوکوں مر جائے گی اور دشمن حملہ کر دیں گے۔ تب کنفیوشس نے جواب دیا، نہیں! ایسا نہیں ہو گا بلکہ انصاف کی وجہ سے اْس قوم کو اپنی حکومت پر اعتماد ہو گا اور لوگ معیشت اور دفاع کا حل اِس طرح کریں گے کہ پیٹ پر پتھر باندھ کر دشمن کا راستہ روک لیں گے۔ اگر ہمیں کنفیوشس کے نقطہ نظر پر یقین نہیں ہے تو غزوہ اُحد کا عملی ثبوت دیکھ لیں کہ کس طرح عوام نے اپنی ریاست کو بچانے کے لیے پیٹ پر پتھر باندھ کر دشمن کا راستہ روک دیا تھا۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ انصاف جس قوم میں ناپید ہو جائے تو وہ کسی بھی شعبے میں ترقی نہیں کر سکتی۔ آج وطنِ عزیز کی ہر شعبے میں زوال پذیری کی بنیادی وجہ عدل و انصاف کا نہ ہونا ہے۔ ہماری عدلیہ کی پوری تاریخ جسٹس منیر سے لے کر آج تک سیاہ ترین ہے۔ وطن عزیز میں جیسے ہی ایک آئین شکن مارشل لاء لگاتا ہے، ججوں کی بھاری اکثریت باجماعت ہو کر پی سی او کے تحت حلف اُٹھا لیتی ہے۔ جب تک آئین شکن اقتدار میں رہتا ہے، اُس کے سامنے اِن “صادق و امین فرشتوں” کا کردار فقط سٹینو گرافرز کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ آئین اور پاکستانی قوم کی توہین کرنے میں یہ بدبو دار کردار کے مالک لوگ پوری طرح آئین شکن کے ہمنوا ہوتے ہیں۔ یہ آمر کے سب غیر آئینی اقدامات کی جھٹ سے توثیق کر دیتے ہیں۔ یہ اس حد تک بھی چلے جاتے ہیں کہ فردِ واحد مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کو تین سال کے لیے آئین میں تبدیلی تک کا اختیار تک دے دیتے ہیں۔ مگر یہ سویلینز کے لیے ایسے فرعون ہیں کہ اِن کا ناپسندیدہ شخص اگر اُونچی آواز میں سانس بھی لے لے تو اِنتہائی ڈھٹائی سے توہینِ عدالت کی تلوار نکال لیتے ہیں۔ ایک منتخب وزیرِ اعظم کو اپنے غیر آئینی اِقدام کی حکم عدولی پر تیس سینکنڈ کی سزا سنا کر گھر تک بھیج دیتے ہیں۔
اب اگر ہم ونسٹن چرچل، کنفیوشس اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اقوال کے ساتھ ساتھ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سربراہی میں غزوہ اُحد میں عملی ثبوت دینے والے صحابہ اکرامؓ کے کردار کی روشنی میں دیکھیں تو ہم خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پاکستان کی تباہی و بربادی میں عدلیہ کا کتنا بھرپور کردار ہے۔
آصف علی زرداری کے خلاف بے بُنیاد جُھوٹے مقدمات کے سلسلے میں پاکستانی عدالتوں نے آئین شکن ضیاءالحق کی باقیادت کا ستائیس سال تک کامل ساتھ دیا۔ حکمرانوں نے آصف علی زرداری کو پابند سلاسل رکھنے کے لیے قوانین تبدیل تک کیے۔ مثال کے طور پر 497 اے ضابطہ فوجداری میں قرار دیا گیا ہے کہ اگر سزائے موت یا عمر قید والا کیس عدالت دو سال میں فیصلہ نہ کر پائے تو ملزم کو ضمانت پر رہائی ملنا اس کا حق ہے۔ اسی طرح بقیہ تمام مقدمات میں ایک سال بعد ضمانت حق کے طور پر دی جائے گی۔ مگر آصف علی زرداری کے لیے اس شق کو ختم کیا گیا اور عدالت سوئی رہی۔
آصف علی زرداری کی قید کے دوران کئی حکومتیں بدلیں، کئی وزرائے اعظم آئے اور گئے، کئی چیف جسٹس انصاف کی مسند پر پدھارے اور “عدل” بانٹتے ہوئے چلے گئے، لیکن زرداری جیل سے باہر نہ نکل سکے۔ اُنھوں نے تقریباً دو درجن عیدیں اپنے خاندان اور پیاروں سے دور جیل کی تنہائیوں کے ساتھ گذاریں۔ وہ اپنے بچوں کا بچپن نہ دیکھ سکے، قید کے دوران ان کی والدہ سمیت کئی قریبی رشتہ دار وفات پا گئے، لیکن حکومت اور عدلیہ نے انہیں ہردفعہ پیرول پر عبوری رہائی کا حق تک دینے سے انکار کر دیا۔ اسیر زرداری پر دورانِ قید بد ترین غیر قانونی جسمانی تشدد بجائے خود ایک الگ داستان ہے۔
آخری مقدمے (اثاثہ جات ریفرنس) میں باعزت بری ہونے کے بعد آصف علی زرداری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا:
“جیل میں میری گردن اور زبان بھی کاٹی گئی، شدید تشدد کی وجہ سے میری حالت نازک ہو گئی، سب جانتے ہیں کہ مجھے کن حالات میں آغا خان اسپتال منتقل کیا گیا۔ جب اسپتال منتقل کیا گیا تو پولیس نے خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی، عدالت میں ثابت ہوا کہ یہ خودکُشی نہیں، تشدد ہے۔
2002ء میں جب تمام کیسز میں میری ضمانت ہوئی اور میں جیل سے اپنا سامان لے کر باہر آنے لگا تو جیل سپرٹنڈنٹ نے مجھے کہا “جناب اپنا سامان یہیں رہنے دیں کیوںکہ یہ آپ کو پکڑ کر دوبارہ یہیں لائیں گے”۔ اور بالکل ویسے ہی ہوا۔ قید سے نکلنے سے قبل ہی مجھ پر ایک سیکنڈ ہینڈ بی ایم ڈبلیو کار پر کسٹم ڈیوٹی کم ادا کرنے کا کیس بنا کر گرفتار کر کے عدالت کے سامنے پیش کر دیا گیا۔ میں نے جج صاحب سے کہا کہ “اول تو یہ گاڑی میری نہیں ہے اور نہ ہی میرے نام پر منگوائی گئی۔ لیکن اگر فرض کیا کہ یہ گاڑی میری ہی ہے تو تب بھی ملک کا قانون یہ کہتا ہے کہ آپ ایسی گاڑی ضبط کر لیں”، جس کے جواب میں جج صاحب نے کہا “ہمیں گاڑی نہیں بلکہ آپ کو ضبط کرنے کے احکامات ہیں”۔ یوں مجھے نیب کے حوالے کر دیا گیا۔ اس طرح اٹک میں مزید میرا دو سال ٹرائل ہوا۔
اگر میرے خلاف تمام جھوٹے کیسز کو سچ بھی مان لیا جائے تو سات سال کی سزا بنتی ہے مگر میں نے چوبیس سال قید کاٹی ہے (جیل کا دن بارہ گھنٹے کا ہوتا ہے چنانچہ چوبیس سال عملاً بارہ سال بنتے ہیں تھے۔ مزید برآں، عدالتیں پولیس حراست، حوالات اور مقدمے کے دوران گرفتاری کو بھی سزا سمجھتی ہیں)۔
مشرف دور میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں ہمارے خلاف کیسز کو پھر سے دوبارہ سیشن کورٹس میں منتقل کر دیا گیا۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں مجھے نہیں سنا گیا۔ سیشن کورٹس میں کیسز جانے کے بعد میں نے ایک سیشن جج صاحب کو اپنے خلاف جھوٹے کیسز کے ری ٹرائیل کے متعلق کہا تو جج صاحب نے جواب دیا کہ “ایڈے وڈے وڈے بندیاں نے تہاڈی نائیں سُنڑی، ہُنڑ اَسیں ماڑے بندے تہاڈی کی سُنڑاں گے؟” (جب سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے جج صاحبان نے آپ کو نہیں سُنا، تو ہم سیشن کورٹس کے جج کیا سُنیں گے؟)۔ تو ایسا ایسا میرے ساتھ مذاق ہوا اور ان تاریخی مذاقوں اور سازشوں کے گواہ آج بھی موجود ہیں۔ ہم پر تمام مقدمات سیاسی نوعیت کے بنائے گئے، ایسے لوگوں کو گواہ بنایا گیا، جنھیں میں جانتا پہچانتا تک نہیں۔ گواہوں سے جھوٹی گواہیاں دلوانے کے لیے پھانسی کی سزائیں تک سُنائیں گئیں۔ اب میاں نواز شریف قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے خلاف کیسز خود نہیں بنائے بلکہ آئی ایس آئی اور فوج نے پریشر ڈال کر بنوائے تھے۔ وہ اقرار کرتے ہیں کہ ہر ریفرنس جھوٹا ہے۔
میرا طریقہ ہے کہ میں کبھی عدلیہ سے لڑتا نہیں بلکہ ان کے ساتھ ساتھ بھاگتا رہتا ہوں، جب تک وہ تھک نہ جائیں۔ مُک مُکا کہہ دینا بہت آسان ہے، مگر ہر کیس کی ایک طویل داستان ہے۔ ہر مقدے میں آٹھ آٹھ پراسیکیوٹر ہوتے تھے اور مجھے ہر مقدمے میں چار سو سے پانچ سو تک پیشیاں بھگتنی پڑیں۔
میں نے اپنے پانچ سالہ دور میں کسی ایک شخص کے خلاف بھی انتقامی کارروائی نہیں کی۔ ہماری جنگ جمہوری ہے کبھی ذاتی ایشو نہیں رہا۔ اپنے دورِ صدارت میں اپنے خلاف مقدمے بنانے والوں کو ایوانِ صدر بلا کر کھانا کھلایا۔ تمام جُھوٹے مقدمات میں بری ہونے کے بعد کسی سے انتقام لینے کی بجائے میں اپنا معاملہ تاریخ پر چھوڑتا ہوں۔”
آصف علی زرداری کے تمام مقدمات میں باعزت بری ہونے کے بعد آج بھی اُن کے مخالفین انتہاتئی ڈھٹائی کے ساتھ انھیں کرپٹ کہتے ہیں۔ یہاں ہمیں پنجابی زبان کا محاورہ یاد آ رہا ہے کہ “من حرامی تے حُجتاں ہزار”۔ اگلی قسط آخری قسط ہو گی، جس میں ہم سوئس کیسز سے متعلق ہزار حُجتوں والوں کا جواب دیں گے۔ (جاری ہے۔)
انصاف قوموں کی زندگی کو توانا رکھتا ہے۔ بے شک اِس حقیقت میں کوئی شُبہ نہیں لیکن اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کو دیکھیں تو معاملہ اِس سے بھی کہیں زیادہ سنگین ہے۔ آپ کا ارشاد ہے، ’’کوئی معاشرہ کفر پر تو قائم رہ سکتا ہے لیکن ظلم پر نہیں‘‘۔ کوئی معاشرہ ظلم پر قائم نہیں رہ سکتا چنانچہ نا انصافی کی وجہ سے تو سِرے سے قوم ہی نہیں رہتی پھر قومی زندگی کی توانائی کا سوال کیا باقی رہ جاتا ہے؟
عظیم چینی فلسفی کنفیوشس سے کسی نے پوچھا کہ اگر ایک قوم کے پاس تین چیزیں انصاف، معیشت اور دفاع ہوں اور بوجہ مجبوری اِن تین چیزوں میں سے کسی ایک چیز کو ترک کرنا مقصود ہو تو کس چیز کو ترک کیا جائے؟ کنفیوشس نے جواب دیا۔ دفاع کو ترک کر دو۔ سوال کرنے والے نے پھر پوچھا اگر باقی ماندہ دو چیزوں یعنی انصاف اور معیشت میں سے ایک کو ترک کرنا لازمی ہو تو کیا کیا جائے؟ کنفیوشس نے جواب دیا، معیشت کو چھوڑ دو۔ اس پر سوال کرنے والے نے حیرت سے کہا۔ معیشت اور دفاع کو ترک کیا تو قوم بھوکوں مر جائے گی اور دشمن حملہ کر دیں گے۔ تب کنفیوشس نے جواب دیا، نہیں! ایسا نہیں ہو گا بلکہ انصاف کی وجہ سے اْس قوم کو اپنی حکومت پر اعتماد ہو گا اور لوگ معیشت اور دفاع کا حل اِس طرح کریں گے کہ پیٹ پر پتھر باندھ کر دشمن کا راستہ روک لیں گے۔ اگر ہمیں کنفیوشس کے نقطہ نظر پر یقین نہیں ہے تو غزوہ اُحد کا عملی ثبوت دیکھ لیں کہ کس طرح عوام نے اپنی ریاست کو بچانے کے لیے پیٹ پر پتھر باندھ کر دشمن کا راستہ روک دیا تھا۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ انصاف جس قوم میں ناپید ہو جائے تو وہ کسی بھی شعبے میں ترقی نہیں کر سکتی۔ آج وطنِ عزیز کی ہر شعبے میں زوال پذیری کی بنیادی وجہ عدل و انصاف کا نہ ہونا ہے۔ ہماری عدلیہ کی پوری تاریخ جسٹس منیر سے لے کر آج تک سیاہ ترین ہے۔ وطن عزیز میں جیسے ہی ایک آئین شکن مارشل لاء لگاتا ہے، ججوں کی بھاری اکثریت باجماعت ہو کر پی سی او کے تحت حلف اُٹھا لیتی ہے۔ جب تک آئین شکن اقتدار میں رہتا ہے، اُس کے سامنے اِن “صادق و امین فرشتوں” کا کردار فقط سٹینو گرافرز کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ آئین اور پاکستانی قوم کی توہین کرنے میں یہ بدبو دار کردار کے مالک لوگ پوری طرح آئین شکن کے ہمنوا ہوتے ہیں۔ یہ آمر کے سب غیر آئینی اقدامات کی جھٹ سے توثیق کر دیتے ہیں۔ یہ اس حد تک بھی چلے جاتے ہیں کہ فردِ واحد مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کو تین سال کے لیے آئین میں تبدیلی تک کا اختیار تک دے دیتے ہیں۔ مگر یہ سویلینز کے لیے ایسے فرعون ہیں کہ اِن کا ناپسندیدہ شخص اگر اُونچی آواز میں سانس بھی لے لے تو اِنتہائی ڈھٹائی سے توہینِ عدالت کی تلوار نکال لیتے ہیں۔ ایک منتخب وزیرِ اعظم کو اپنے غیر آئینی اِقدام کی حکم عدولی پر تیس سینکنڈ کی سزا سنا کر گھر تک بھیج دیتے ہیں۔
اب اگر ہم ونسٹن چرچل، کنفیوشس اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اقوال کے ساتھ ساتھ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سربراہی میں غزوہ اُحد میں عملی ثبوت دینے والے صحابہ اکرامؓ کے کردار کی روشنی میں دیکھیں تو ہم خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پاکستان کی تباہی و بربادی میں عدلیہ کا کتنا بھرپور کردار ہے۔
آصف علی زرداری کے خلاف بے بُنیاد جُھوٹے مقدمات کے سلسلے میں پاکستانی عدالتوں نے آئین شکن ضیاءالحق کی باقیادت کا ستائیس سال تک کامل ساتھ دیا۔ حکمرانوں نے آصف علی زرداری کو پابند سلاسل رکھنے کے لیے قوانین تبدیل تک کیے۔ مثال کے طور پر 497 اے ضابطہ فوجداری میں قرار دیا گیا ہے کہ اگر سزائے موت یا عمر قید والا کیس عدالت دو سال میں فیصلہ نہ کر پائے تو ملزم کو ضمانت پر رہائی ملنا اس کا حق ہے۔ اسی طرح بقیہ تمام مقدمات میں ایک سال بعد ضمانت حق کے طور پر دی جائے گی۔ مگر آصف علی زرداری کے لیے اس شق کو ختم کیا گیا اور عدالت سوئی رہی۔
آصف علی زرداری کی قید کے دوران کئی حکومتیں بدلیں، کئی وزرائے اعظم آئے اور گئے، کئی چیف جسٹس انصاف کی مسند پر پدھارے اور “عدل” بانٹتے ہوئے چلے گئے، لیکن زرداری جیل سے باہر نہ نکل سکے۔ اُنھوں نے تقریباً دو درجن عیدیں اپنے خاندان اور پیاروں سے دور جیل کی تنہائیوں کے ساتھ گذاریں۔ وہ اپنے بچوں کا بچپن نہ دیکھ سکے، قید کے دوران ان کی والدہ سمیت کئی قریبی رشتہ دار وفات پا گئے، لیکن حکومت اور عدلیہ نے انہیں ہردفعہ پیرول پر عبوری رہائی کا حق تک دینے سے انکار کر دیا۔ اسیر زرداری پر دورانِ قید بد ترین غیر قانونی جسمانی تشدد بجائے خود ایک الگ داستان ہے۔
آخری مقدمے (اثاثہ جات ریفرنس) میں باعزت بری ہونے کے بعد آصف علی زرداری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا:
“جیل میں میری گردن اور زبان بھی کاٹی گئی، شدید تشدد کی وجہ سے میری حالت نازک ہو گئی، سب جانتے ہیں کہ مجھے کن حالات میں آغا خان اسپتال منتقل کیا گیا۔ جب اسپتال منتقل کیا گیا تو پولیس نے خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی، عدالت میں ثابت ہوا کہ یہ خودکُشی نہیں، تشدد ہے۔
2002ء میں جب تمام کیسز میں میری ضمانت ہوئی اور میں جیل سے اپنا سامان لے کر باہر آنے لگا تو جیل سپرٹنڈنٹ نے مجھے کہا “جناب اپنا سامان یہیں رہنے دیں کیوںکہ یہ آپ کو پکڑ کر دوبارہ یہیں لائیں گے”۔ اور بالکل ویسے ہی ہوا۔ قید سے نکلنے سے قبل ہی مجھ پر ایک سیکنڈ ہینڈ بی ایم ڈبلیو کار پر کسٹم ڈیوٹی کم ادا کرنے کا کیس بنا کر گرفتار کر کے عدالت کے سامنے پیش کر دیا گیا۔ میں نے جج صاحب سے کہا کہ “اول تو یہ گاڑی میری نہیں ہے اور نہ ہی میرے نام پر منگوائی گئی۔ لیکن اگر فرض کیا کہ یہ گاڑی میری ہی ہے تو تب بھی ملک کا قانون یہ کہتا ہے کہ آپ ایسی گاڑی ضبط کر لیں”، جس کے جواب میں جج صاحب نے کہا “ہمیں گاڑی نہیں بلکہ آپ کو ضبط کرنے کے احکامات ہیں”۔ یوں مجھے نیب کے حوالے کر دیا گیا۔ اس طرح اٹک میں مزید میرا دو سال ٹرائل ہوا۔
اگر میرے خلاف تمام جھوٹے کیسز کو سچ بھی مان لیا جائے تو سات سال کی سزا بنتی ہے مگر میں نے چوبیس سال قید کاٹی ہے (جیل کا دن بارہ گھنٹے کا ہوتا ہے چنانچہ چوبیس سال عملاً بارہ سال بنتے ہیں تھے۔ مزید برآں، عدالتیں پولیس حراست، حوالات اور مقدمے کے دوران گرفتاری کو بھی سزا سمجھتی ہیں)۔
مشرف دور میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں ہمارے خلاف کیسز کو پھر سے دوبارہ سیشن کورٹس میں منتقل کر دیا گیا۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں مجھے نہیں سنا گیا۔ سیشن کورٹس میں کیسز جانے کے بعد میں نے ایک سیشن جج صاحب کو اپنے خلاف جھوٹے کیسز کے ری ٹرائیل کے متعلق کہا تو جج صاحب نے جواب دیا کہ “ایڈے وڈے وڈے بندیاں نے تہاڈی نائیں سُنڑی، ہُنڑ اَسیں ماڑے بندے تہاڈی کی سُنڑاں گے؟” (جب سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے جج صاحبان نے آپ کو نہیں سُنا، تو ہم سیشن کورٹس کے جج کیا سُنیں گے؟)۔ تو ایسا ایسا میرے ساتھ مذاق ہوا اور ان تاریخی مذاقوں اور سازشوں کے گواہ آج بھی موجود ہیں۔ ہم پر تمام مقدمات سیاسی نوعیت کے بنائے گئے، ایسے لوگوں کو گواہ بنایا گیا، جنھیں میں جانتا پہچانتا تک نہیں۔ گواہوں سے جھوٹی گواہیاں دلوانے کے لیے پھانسی کی سزائیں تک سُنائیں گئیں۔ اب میاں نواز شریف قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے خلاف کیسز خود نہیں بنائے بلکہ آئی ایس آئی اور فوج نے پریشر ڈال کر بنوائے تھے۔ وہ اقرار کرتے ہیں کہ ہر ریفرنس جھوٹا ہے۔
میرا طریقہ ہے کہ میں کبھی عدلیہ سے لڑتا نہیں بلکہ ان کے ساتھ ساتھ بھاگتا رہتا ہوں، جب تک وہ تھک نہ جائیں۔ مُک مُکا کہہ دینا بہت آسان ہے، مگر ہر کیس کی ایک طویل داستان ہے۔ ہر مقدے میں آٹھ آٹھ پراسیکیوٹر ہوتے تھے اور مجھے ہر مقدمے میں چار سو سے پانچ سو تک پیشیاں بھگتنی پڑیں۔
میں نے اپنے پانچ سالہ دور میں کسی ایک شخص کے خلاف بھی انتقامی کارروائی نہیں کی۔ ہماری جنگ جمہوری ہے کبھی ذاتی ایشو نہیں رہا۔ اپنے دورِ صدارت میں اپنے خلاف مقدمے بنانے والوں کو ایوانِ صدر بلا کر کھانا کھلایا۔ تمام جُھوٹے مقدمات میں بری ہونے کے بعد کسی سے انتقام لینے کی بجائے میں اپنا معاملہ تاریخ پر چھوڑتا ہوں۔”
آصف علی زرداری کے تمام مقدمات میں باعزت بری ہونے کے بعد آج بھی اُن کے مخالفین انتہاتئی ڈھٹائی کے ساتھ انھیں کرپٹ کہتے ہیں۔ یہاں ہمیں پنجابی زبان کا محاورہ یاد آ رہا ہے کہ “من حرامی تے حُجتاں ہزار”۔ اگلی قسط آخری قسط ہو گی، جس میں ہم سوئس کیسز سے متعلق ہزار حُجتوں والوں کا جواب دیں گے۔ (جاری ہے۔)
“کرپٹ زرداری” اور صادق و امین فرشتوں کی اصل کہانی (9)
سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کے تحت 7 نومبر 2012ء کو حکومتِ پاکستان
کی طرف سے سوئس حکام کو خط لکھا گیا، جس میں کہا گیا تھا کہ آصف علی زرداری
کے خلاف ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز سے متعلقہ کیسز (سوئس کیسز)
دوبارہ کھولیں جائیں۔ 9 فروری 2013ء کو سوئس حکام کا حکومتِ پاکستان کو خط
کا جواب آیا، جس میں سوئس حکام نے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے خلاف
کیسز کھولنے سے صاف انکار کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ صدر زرداری کے خلاف
کیسز میرٹ پر ختم کیے گئے تھے اور اب دوبارہ کیسز کھولنے کی کوئی وجہ نہیں
ہے۔ سوئس حکام نے خط میں بالکل وہی موقف اختیار کیا، جو وہ ہمیشہ سے میڈیا
پر دیتے چلے آ رہے تھے۔
سوئس کیسز کے حوالے سے یہ خبر میرے جیسے عام پاکستانیوں کے لیے حیران کُن تھی کیونکہ ہم تو 1997ء سے مسلسل سُنتے چلے آ رہے تھے کہ پاکستانی قوم سے لُوٹے ہوئے کرپشن کے چھ ارب روپے سوئٹزر لینڈ میں اکاؤنٹس میں پڑے ہوئے ہیں۔ مگر یہ کیا ہوا، وہاں تو ایک ٹکہ بھی نہیں تھا۔ قوم کے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ؟ یہ بات سمجھ سے باہر تھی کہ یہ مقدمے پاکستان میں دو عدالتوں میں چلنے کے باوجود صاف طور پر جھوٹے ثابت ہو چکے تھے۔ جب سوئٹزر لینڈ میں یہ مقدمے بے بنیاد ثبوتوں کی وجہ سے فائل ہی نہ ہو سکے تھے تو پھر سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج صاحبان کیوں مُسلسل تین سال تک ایک منتخب حکومت کو رگڑا لگاتے رہے تھے؟ ایک وزیر اعظم کو غیر آئینی طور پر نا اہل قرار دے دیا اور دوسرے کو بھی گھر بھیجنے کے درپے تھے۔ کوئی اندازاہ لگا سکتا ہے کہ تین سالوں کے دوران سول حکومت کے سامنے رکاوٹوں کے پہاڑ کھڑے کر کے کتنا نقصان کیا گیا؟ کتنے وسائل ضائع ہوئے؟ غریب عوام کے خُون پسینے کی کمائی کی کتنی خطیر رقم سوئس کیسز چلانے والے منصفین کی تنخواہوں، الاؤنسز، پروٹوکولز اور دیگر سہولتوں پر بربادی ہوئی؟ اِن بھاری بھرکم بنیچوں میں بیٹھے صادق و امین فرشتوں کو پوری قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے ایک بار بھی شرم نہ آئی؟ کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی آئین پاکستان، عدلیہ اور قوم کی توہینِ ہو سکتی ہے؟
میڈیا ہاؤسز میں بیٹھے ڈھولچی بھی کیا اندھے اور خالی کھوپڑی کے ربوٹ تھے، یا پھر ان کے ضمیروں میں رتی برابر رمق باقی نہ تھی، جو سوئس کیسز کے حوالے سے مُسلسل زوردار جُھوٹا پروپیگنڈا کرتے رہے تھے؟
8 ستمبر 2013ء کو صدر آصف علی زرداری ملکی تاریخ میں پہلی بار اسٹیبلشمنٹ کی بار بار مداخلت کے باوجود پانچ سالہ جمہوری صدر کی آئینی مدت مکمل کرنے کے بعد پورے اعزاز کے ساتھ باوقار طریقے سے گارڈ آف آنر لے کر ایوانِ صدر سے رخصت ہو گئے۔
بطورِ صدر استثنٰی ہونے کی وجہ سے سوئس کیسز سمیت جن پانچ مقدمات پر آصف علی زرداری کے خلاف عدالتی کاروائی رُک گئی تھی، وہ مقدمات راولپنڈی کی احتساب عدالت نے 11 اکتوبر 2013ء کو دوبارہ کھول دیئے۔ عدالت نے آصف علی زرداری کو 14 اکتوبر 2013ء کو طلب کر لیا۔
واضح رہے کہ آصف علی زرداری صدرِ پاکستان بننے سے قبل اپنے خلاف سوائے پانچ مقدمات کے سب مقدمات سے باعزت بری ہو چکے تھے اور ان پانچوں مقدمات کو 16 ستمبر 2008ء کو اس وقت زیر التو ڈال دیا گیا تھا، جب آصف علی زرداری ملک کے صدر منتخب ہوئے تھے جبکہ ان مقدمات میں شریک ملزموں کو عدالت پہلے ہی باعزت بری کر چکی تھی۔ اِسی طرح سوئس کیسز کا بھی راولپنڈی کی احتساب عدالت نمبر 2 نے 30 جولائی 2011ء کو اپنا فیصلہ سنایا تھا، جس میں عدالت نے اٹھارہ گواہان کی گواہیوں کے بعد سوئس کیسز خارج کرتے ہوئے واضح طور پر اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ان مقدمات میں کسی بھی ملزم کے خلاف کرپشن، رشوت، کمیشن اور سیاسی دباؤ ڈالنے کے الزامات ثابت نہیں ہوتے۔ تمام الزامات من گھڑت اور جھوٹے تھے۔ ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز کو پری شپمنٹ انسپیکشن کے ٹھیکے خالصتاً میرٹ پر دیئے گئے۔ ان دونوں ٹھیکوں کے عوض قومی خزانے کو ایک پائی کا نقصان ثابت نہیں ہوا بلکہ اس کنٹریکٹ سے پاکستان کو سالانہ 58 ارب روپے کا فائدہ پہنچا تھا۔ عدالت نے آصف علی زرداری کے بارے میں اپنے فیصلے میں لکھا کہ انھیں اس وقت صدرِ پاکستان ہونے کی وجہ سے استثنٰی حاصل ہے، جب یہ استثنٰی حاصل نہیں رہے گا، تب اُس وقت ٹرائل دوبارہ شروع ہو گا۔
المختصر سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئسز کیسز کی دوبارہ سماعت کے دوران عدالت کی بار بار کی ہدایات کے باوجود استغاثہ عدالت میں کوئی ثبوت پیش نہ کر سکا۔ 24 نومبر 2015ء کو عدالت نے آصف علی زرداری کو بھی سوئس کیسز میں باعزت بری کر دیا۔ 1997ء سے لے کر 2015ء یعنی اٹھارہ سال تک نیب سوئس کیسز (ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا ریفرنسز) کے سلسلے میں کوئی بھی ٹھوس شواہد پیش نہیں کر سکا تھا۔
یہاں سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کی صداقت، امانت، دیانت اور قابلیت کو داد دینا بنتا ہے۔ ڈبل جیوپرڈی پوری دنیا کا مسلمہ قانون ہے یعنی ایک مقدمہ دو بار سماعت نہیں ہو سکتا۔ یہ “انصاف پسند” منصف بذاتِ خود سپریم کورٹ کے اُس بینچ میں شامل تھے، جس نے مئی 2001ء میں شریفوں اور ججوں کی ملی بھگت طشتِ ازبام ہونے پر ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز سے متعلقہ مقدمات میں محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی سزائیں خلافِ قانون قرار دیں تھیں مگر مقدمات کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا۔ دوبارہ سماعت کے بعد جولائی 2011ء کو احتساب عدالت میں یہ مقدمات ایک بار پھر جھوٹے ثابت ہوئے۔ پھر اس کے باوجود چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور ان کے ساتھی جج صاحبان یعنی صادق و امین فرشتے سوئٹزرلینڈ میں کون سے مقدمات کو کھلوانا چاہتے تھے حالانکہ یہ اچھی طرح جانتے تھے یہ کیسز ابتدائی انکوائری کے بعد فائل ہی نہیں ہو سکے تھے؟ اِنصاف کے منصبِ اعلٰی پر بیٹھے صادق و امین فرشتوں کو یہ بھی اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ مقدمات بنانے اور چلانے والے حکمران معافیاں مانگ چکے اور برملا اِقرار کر چکے کہ یہ مقدمات صریحاً جُھوٹے بنائے گئے تھے۔ بعد میں جب سپریم کورٹ کے ججز تین سالہ خط کہانی چلا رہے تھے، تو سوئس حکام اپنے نقطہ نظر سے مُسلسل آگاہی دے رہے تھے، پھر ایک منتخب وزیراعظم کو غیر آئینی طور پر گھر بھیج کر انھوں کون سی ملک و قوم کی خدمت کی؟ آئین شکن ضیاءالحق کی باقیادت کی اس کھلی بدنیتی اور نا انصافی میں عقل والوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں۔
سوئس کیسز میں بریت کے بعد آصف علی زرداری کے خلاف ایک اثاثہ جات کا مقدمہ باقی تھا، جو نواز شریف نے سربراہ احتساب بیورو سیف الرحمٰن کے ذریعے اثاثہ جات ریفرنس احتساب ایکٹ 1997ء کے تحت 1998ء میں قائم کیا تھا، جس میں آصف علی زرداری پر ناجائز اثاثے بنانے کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس ریفرنس میں آصف علی زرداری کے علاوہ بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو بھی شریک ملزم تھیں، تاہم ان کی وفات کے بعد ان کے نام اس ریفرنس سے خارج کر دیئے گئے تھے۔ اس مقدمے کی سماعت کے دوران بھی نیب پراسیکیوٹر کوئی ثبوت پیش نہ کر سکا اور اِس کیس میں چالیس گواہوں پر جرح کی گئی، جو تمام کے تمام جھوٹے ثابت ہوئے۔ کسی ایک گواہی اور ڈاکومنٹ سے کوئی کرپشن، کوئی کک بیک اور کسی قسم کا کمیشن ثابت نہ ہوا۔ 26 اگست 2017ء کو عدالت نے اس آخری مقدمے میں بھی آصف علی زرداری کو باعزت بری کر دیا۔ اس طرح 1990ء سے شروع ہونے والے جھوٹے سیاسی مقدمات کا 27 سال بعد یعنی 2017ء کو اختتام ہوا۔
آصف علی زرداری نے تمام جھوٹے مقدمات سے باعزت بری ہونے کے بعد بجا طور پر کہا کہ “میرے دشمن میرے خلاف کچھ ثابت نہیں کر سکے۔ مجھ پر تمام کیسز سیاسی طور پر بنائے گئے اور سب کے سب ختم ہو گئے، ہر کیس میں چار چار پانچ پانچ سو پیشیاں ہوئی ہیں۔ ہر کیس میں آٹھ آٹھ پراسیکیوٹرز تھے۔ میرا طریقہ ہے کہ میں کبھی عدلیہ سے لڑتا نہیں بلکہ ان کے ساتھ ساتھ بھاگتا رہتا ہوں، جب تک وہ تھک نہ جائیں۔ مُک مُکا کہہ دینا بہت آسان ہے، مگر ہر کیس کی ایک طویل داستان ہے۔ تمام جُھوٹے مقدمات میں بری ہونے کے بعد کسی سے انتقام لینے کی بجائے میں اپنا معاملہ تاریخ پر چھوڑتا ہوں”۔
اگلی قسط میں ہم بتائیں گے کہ نام نہاد صادق و امین ججوں کا پاکستان کی تباہی و بربادی میں کتنا بھرپور کردار ہے۔ مزید برآں، آصف علی زرداری کے خلاف بے بُنیاد جُھوٹے مقدمات کے سلسلے میں پاکستانی عدالتوں نے آئین شکن ضیاءالحق کی باقیادت کا ستائیس سال تک کس طرح کامل ساتھ دیا۔ (جاری ہے۔)
سوئس کیسز کے حوالے سے یہ خبر میرے جیسے عام پاکستانیوں کے لیے حیران کُن تھی کیونکہ ہم تو 1997ء سے مسلسل سُنتے چلے آ رہے تھے کہ پاکستانی قوم سے لُوٹے ہوئے کرپشن کے چھ ارب روپے سوئٹزر لینڈ میں اکاؤنٹس میں پڑے ہوئے ہیں۔ مگر یہ کیا ہوا، وہاں تو ایک ٹکہ بھی نہیں تھا۔ قوم کے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ؟ یہ بات سمجھ سے باہر تھی کہ یہ مقدمے پاکستان میں دو عدالتوں میں چلنے کے باوجود صاف طور پر جھوٹے ثابت ہو چکے تھے۔ جب سوئٹزر لینڈ میں یہ مقدمے بے بنیاد ثبوتوں کی وجہ سے فائل ہی نہ ہو سکے تھے تو پھر سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج صاحبان کیوں مُسلسل تین سال تک ایک منتخب حکومت کو رگڑا لگاتے رہے تھے؟ ایک وزیر اعظم کو غیر آئینی طور پر نا اہل قرار دے دیا اور دوسرے کو بھی گھر بھیجنے کے درپے تھے۔ کوئی اندازاہ لگا سکتا ہے کہ تین سالوں کے دوران سول حکومت کے سامنے رکاوٹوں کے پہاڑ کھڑے کر کے کتنا نقصان کیا گیا؟ کتنے وسائل ضائع ہوئے؟ غریب عوام کے خُون پسینے کی کمائی کی کتنی خطیر رقم سوئس کیسز چلانے والے منصفین کی تنخواہوں، الاؤنسز، پروٹوکولز اور دیگر سہولتوں پر بربادی ہوئی؟ اِن بھاری بھرکم بنیچوں میں بیٹھے صادق و امین فرشتوں کو پوری قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے ایک بار بھی شرم نہ آئی؟ کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی آئین پاکستان، عدلیہ اور قوم کی توہینِ ہو سکتی ہے؟
میڈیا ہاؤسز میں بیٹھے ڈھولچی بھی کیا اندھے اور خالی کھوپڑی کے ربوٹ تھے، یا پھر ان کے ضمیروں میں رتی برابر رمق باقی نہ تھی، جو سوئس کیسز کے حوالے سے مُسلسل زوردار جُھوٹا پروپیگنڈا کرتے رہے تھے؟
8 ستمبر 2013ء کو صدر آصف علی زرداری ملکی تاریخ میں پہلی بار اسٹیبلشمنٹ کی بار بار مداخلت کے باوجود پانچ سالہ جمہوری صدر کی آئینی مدت مکمل کرنے کے بعد پورے اعزاز کے ساتھ باوقار طریقے سے گارڈ آف آنر لے کر ایوانِ صدر سے رخصت ہو گئے۔
بطورِ صدر استثنٰی ہونے کی وجہ سے سوئس کیسز سمیت جن پانچ مقدمات پر آصف علی زرداری کے خلاف عدالتی کاروائی رُک گئی تھی، وہ مقدمات راولپنڈی کی احتساب عدالت نے 11 اکتوبر 2013ء کو دوبارہ کھول دیئے۔ عدالت نے آصف علی زرداری کو 14 اکتوبر 2013ء کو طلب کر لیا۔
واضح رہے کہ آصف علی زرداری صدرِ پاکستان بننے سے قبل اپنے خلاف سوائے پانچ مقدمات کے سب مقدمات سے باعزت بری ہو چکے تھے اور ان پانچوں مقدمات کو 16 ستمبر 2008ء کو اس وقت زیر التو ڈال دیا گیا تھا، جب آصف علی زرداری ملک کے صدر منتخب ہوئے تھے جبکہ ان مقدمات میں شریک ملزموں کو عدالت پہلے ہی باعزت بری کر چکی تھی۔ اِسی طرح سوئس کیسز کا بھی راولپنڈی کی احتساب عدالت نمبر 2 نے 30 جولائی 2011ء کو اپنا فیصلہ سنایا تھا، جس میں عدالت نے اٹھارہ گواہان کی گواہیوں کے بعد سوئس کیسز خارج کرتے ہوئے واضح طور پر اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ان مقدمات میں کسی بھی ملزم کے خلاف کرپشن، رشوت، کمیشن اور سیاسی دباؤ ڈالنے کے الزامات ثابت نہیں ہوتے۔ تمام الزامات من گھڑت اور جھوٹے تھے۔ ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز کو پری شپمنٹ انسپیکشن کے ٹھیکے خالصتاً میرٹ پر دیئے گئے۔ ان دونوں ٹھیکوں کے عوض قومی خزانے کو ایک پائی کا نقصان ثابت نہیں ہوا بلکہ اس کنٹریکٹ سے پاکستان کو سالانہ 58 ارب روپے کا فائدہ پہنچا تھا۔ عدالت نے آصف علی زرداری کے بارے میں اپنے فیصلے میں لکھا کہ انھیں اس وقت صدرِ پاکستان ہونے کی وجہ سے استثنٰی حاصل ہے، جب یہ استثنٰی حاصل نہیں رہے گا، تب اُس وقت ٹرائل دوبارہ شروع ہو گا۔
المختصر سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئسز کیسز کی دوبارہ سماعت کے دوران عدالت کی بار بار کی ہدایات کے باوجود استغاثہ عدالت میں کوئی ثبوت پیش نہ کر سکا۔ 24 نومبر 2015ء کو عدالت نے آصف علی زرداری کو بھی سوئس کیسز میں باعزت بری کر دیا۔ 1997ء سے لے کر 2015ء یعنی اٹھارہ سال تک نیب سوئس کیسز (ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا ریفرنسز) کے سلسلے میں کوئی بھی ٹھوس شواہد پیش نہیں کر سکا تھا۔
یہاں سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کی صداقت، امانت، دیانت اور قابلیت کو داد دینا بنتا ہے۔ ڈبل جیوپرڈی پوری دنیا کا مسلمہ قانون ہے یعنی ایک مقدمہ دو بار سماعت نہیں ہو سکتا۔ یہ “انصاف پسند” منصف بذاتِ خود سپریم کورٹ کے اُس بینچ میں شامل تھے، جس نے مئی 2001ء میں شریفوں اور ججوں کی ملی بھگت طشتِ ازبام ہونے پر ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز سے متعلقہ مقدمات میں محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی سزائیں خلافِ قانون قرار دیں تھیں مگر مقدمات کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا۔ دوبارہ سماعت کے بعد جولائی 2011ء کو احتساب عدالت میں یہ مقدمات ایک بار پھر جھوٹے ثابت ہوئے۔ پھر اس کے باوجود چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور ان کے ساتھی جج صاحبان یعنی صادق و امین فرشتے سوئٹزرلینڈ میں کون سے مقدمات کو کھلوانا چاہتے تھے حالانکہ یہ اچھی طرح جانتے تھے یہ کیسز ابتدائی انکوائری کے بعد فائل ہی نہیں ہو سکے تھے؟ اِنصاف کے منصبِ اعلٰی پر بیٹھے صادق و امین فرشتوں کو یہ بھی اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ مقدمات بنانے اور چلانے والے حکمران معافیاں مانگ چکے اور برملا اِقرار کر چکے کہ یہ مقدمات صریحاً جُھوٹے بنائے گئے تھے۔ بعد میں جب سپریم کورٹ کے ججز تین سالہ خط کہانی چلا رہے تھے، تو سوئس حکام اپنے نقطہ نظر سے مُسلسل آگاہی دے رہے تھے، پھر ایک منتخب وزیراعظم کو غیر آئینی طور پر گھر بھیج کر انھوں کون سی ملک و قوم کی خدمت کی؟ آئین شکن ضیاءالحق کی باقیادت کی اس کھلی بدنیتی اور نا انصافی میں عقل والوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں۔
سوئس کیسز میں بریت کے بعد آصف علی زرداری کے خلاف ایک اثاثہ جات کا مقدمہ باقی تھا، جو نواز شریف نے سربراہ احتساب بیورو سیف الرحمٰن کے ذریعے اثاثہ جات ریفرنس احتساب ایکٹ 1997ء کے تحت 1998ء میں قائم کیا تھا، جس میں آصف علی زرداری پر ناجائز اثاثے بنانے کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس ریفرنس میں آصف علی زرداری کے علاوہ بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو بھی شریک ملزم تھیں، تاہم ان کی وفات کے بعد ان کے نام اس ریفرنس سے خارج کر دیئے گئے تھے۔ اس مقدمے کی سماعت کے دوران بھی نیب پراسیکیوٹر کوئی ثبوت پیش نہ کر سکا اور اِس کیس میں چالیس گواہوں پر جرح کی گئی، جو تمام کے تمام جھوٹے ثابت ہوئے۔ کسی ایک گواہی اور ڈاکومنٹ سے کوئی کرپشن، کوئی کک بیک اور کسی قسم کا کمیشن ثابت نہ ہوا۔ 26 اگست 2017ء کو عدالت نے اس آخری مقدمے میں بھی آصف علی زرداری کو باعزت بری کر دیا۔ اس طرح 1990ء سے شروع ہونے والے جھوٹے سیاسی مقدمات کا 27 سال بعد یعنی 2017ء کو اختتام ہوا۔
آصف علی زرداری نے تمام جھوٹے مقدمات سے باعزت بری ہونے کے بعد بجا طور پر کہا کہ “میرے دشمن میرے خلاف کچھ ثابت نہیں کر سکے۔ مجھ پر تمام کیسز سیاسی طور پر بنائے گئے اور سب کے سب ختم ہو گئے، ہر کیس میں چار چار پانچ پانچ سو پیشیاں ہوئی ہیں۔ ہر کیس میں آٹھ آٹھ پراسیکیوٹرز تھے۔ میرا طریقہ ہے کہ میں کبھی عدلیہ سے لڑتا نہیں بلکہ ان کے ساتھ ساتھ بھاگتا رہتا ہوں، جب تک وہ تھک نہ جائیں۔ مُک مُکا کہہ دینا بہت آسان ہے، مگر ہر کیس کی ایک طویل داستان ہے۔ تمام جُھوٹے مقدمات میں بری ہونے کے بعد کسی سے انتقام لینے کی بجائے میں اپنا معاملہ تاریخ پر چھوڑتا ہوں”۔
اگلی قسط میں ہم بتائیں گے کہ نام نہاد صادق و امین ججوں کا پاکستان کی تباہی و بربادی میں کتنا بھرپور کردار ہے۔ مزید برآں، آصف علی زرداری کے خلاف بے بُنیاد جُھوٹے مقدمات کے سلسلے میں پاکستانی عدالتوں نے آئین شکن ضیاءالحق کی باقیادت کا ستائیس سال تک کس طرح کامل ساتھ دیا۔ (جاری ہے۔)
Subscribe to:
Comments (Atom)