صحافت کسی بھی سماج میں انسانی شعور و تربیت اور علم آگاہی کے لئے ایک
کامیاب ستون کے طور پر تسلیم شدہ ہے، جو حقائق کو لے کر واقعات کی منظر کشی
کرتا ہے۔ انسانی سماج میں گرد و پیش کے حالات، تغیر و تبدل اور روز مرہ
واقعات کو آشکار کرنے یا سماج میں لا کر وہاں رہنے والے انسانوں کو باخبر
رکھنے میں صحافت ایک ذمہ دار ادارہ کے طور پر قابل بھروسہ ہوتا ہے، جس کی
ضرورت ہر سماج میں رہنے والے انسانوں کو ہے کیونکہ صحافت ایک غیر جانبدار
اور معاشرے کی مثبت انداز میں تعمیر نو کا شعبہ ہوتا ہے۔ لیکن پاکستانی
میڈیا مروجہ اقدار نبھانے کی بجائے مجموعی طور پر بدترین کردار ادا رہا ہے،
جس نے صحافت کو حقیقت نگاری کی بجائے تمثیل آفرینی بنا دیا ہے۔
محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف جُھوٹے سیاسی مقدمات کے
سلسلے میں اسٹیبلشمنٹ اور شریفوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنے والے ججوں کے ساتھ
ساتھ دروغ گوئی کے عالمی چمپئین صحافیوں کا بھی اتحاد رہا ہے۔ اب سازشیں
کھل کر سامنے آ چکی ہیں کہ کس طرح اسٹیبلشمنٹ اور اس کے جموروں نے محترمہ
بینظیر بھٹو پر دباؤ ڈالنے کے لیے آصف علی زرداری کے خلاف صحافیوں کے ذریعے
پروپیگنڈہ کرنے کے لیے رچائی تھیں۔ اگر گوئبلز آج زندہ ہوتا اور آصف علی
زرداری کے خلاف کرپشن کا دھواں دھار واویلا مچانے والے صحافیوں کی
کارستانیاں ٹی وی سکرینوں اور اخبارات میں دیکھتا تو اسے پتہ چلتا کہ اصل
پروپیگنڈہ گُرو تو پاکستان میں پیدا ہوئے ہیں اور وہ ضرور اِن کے سامنے بصد
ادب زانوئے تلمذ تہہ کرتا۔
حیرت ہے کہ سوئس کیسز بارہا جھوٹے ثابت ہونے کے باوجود آج بھی اِن کیسز
سے متعلق میڈیا پر بڑی دلچسپ الف لیلوی داستانیں پورے ڈھیٹ پن کے ساتھ
سنائی جاتی ہیں۔ اِن لاتعداد من گھڑت کہانیوں میں سے ایک کہانی جگادری کالم
نگار اور ٹی وی اینکرز اکثر پورے اعتماد کے ساتھ سناتے نظر آتے ہیں کہ
برطانیہ میں سابق پاکستانی ہائی کمشنر واجد شمس الحسن نے جینوا میں ایک
انتہائی خفیہ آپریشن کیا تھا، جس میں انھوں نے سوئس کیسز سے معتلقہ اصلی
دستاویزات اور مضبوط شواہد پر مبنی بارہ ڈبے حاصل کر لیے تھے۔ بعض تو
فرماتے ہیں کہ چوری کر لیے تھے (جہالت کے منہ زور گدھوں کی تحقیق ملاحظہ ہو
کہ پاکستانی عدالتوں میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اِن ریفرنسز میں دستاویزات
تصدیق کے بغیر فقط فوٹو کاپیاں جمع کرائی گئی تھیں اور اِن فوٹو کاپیوں پر
اوریجنل دستخط اور سٹیمپس تک موجود نہیں تھیں اور یہ اصل دستاویزات سوئٹرز
لینڈ کی عدالت میں جمع کرائے بیٹھے ہیں، جہاں بعد میں مقدمے فائل کرنے کی
کوششیں کی گئ تھیں)۔ جو حکومت پاکستان کے پراسیکیوٹر جنرل کی جانب سے جمع
کرائے گئے تھے۔ کوئی تو اِن صحافت کے نام پر جہالت پھیلاتے سیاپا فروشوں کو
بتائے کہ یورپ میں مقدمے کا فریق فیس ادا کر کے عدالتوں سے ریکارڈ کی فوٹو
کاپیاں بغیر کسی حیل و حج لے سکتا ہے۔ اور یہ بات بھی کوئی سمجھانے والی
ہے کہ کوئی بھی عدالت سوئس کیسز ایسے مشہور مقدمات تو کیا کسی عام کیس کے
ریکارڈ کی فوٹو کاپیوں کی بجائے اصل ریکارڈ اُٹھا کر ایک فریق کو دے دے گی
اور پیچھے سوفٹ یا ہارڈ کاپیز کی صورت میں کوئی بیک اپ بھی نہیں رکھے گی؟
عقل دنگ ہے کہ وطنِ عزیز میں کیسی کیسی بودی کہانیاں سنائی جاتی ہیں اور ہم
وطنوں کی اکثریت ایسی ہے جو ایسی جھوٹی کہانیوں کو سچ مان کر جھٹ سے ایمان
بھی لے آتی ہے۔ خاندانِ شریفیہ اپنے ہر بڑے پروجیکٹ کا ریکارڈ جلا کر اِسی
تھیوری کے تحت سب کو سمجھا دیتا ہے کہ اب ریکارڈ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا
ہے۔ ضیائی اولاد یہ سمجھتی ہے کہ شاید باقی دنیا میں بھی پاکستانی عوام
ایسے بغلول بیٹھے ہوئے ہیں کہ بیوروکریسی کے ساتھ مل کر بیک اپ سمیت
پروجیکٹس کا سارا ریکارڈ ختم کر دیا جاتا ہے اور مشہور یہ کر دیا جاتا ہے
کہ آگ لگنے کے دوران سارا ریکارڈ جل گیا ہے، لہذا اب گھپلوں کے بارے میں
انکوائری ممکن ہی نہیں۔ وطنِ عزیز کے علاوہ یہ کُھلا فراڈ پوری دنیا میں
کہیں بھی ناممکن ہے۔
وطنِ عزیز میں ایسے ڈھیٹ سیاستدان اور صحافی بھی پائے جاتے ہیں، جو ایک
سانس میں شریفوں پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ شریف برادران ججوں کو
ہمیشہ خریدتے رہے ہیں اور فون کر کے اپنے مخالفین کو اپنی پسند کی سزائیں
بھی دلواتے رہے ہیں (مگر یہ لوگ اس بات کا بھول کر بھی ذکر نہیں کرتے کہ
شریف برادران کِن مخالفین کو ججوں کے ذریعے سزائیں دلواتے رہے ہیں۔) اور
اگلی ہی سانس میں آصف علی زرداری کو کرپٹ ترین شخص بھی کہہ دیتے ہیں۔
سوئس کیسز چلانے والے صادق و امین فرشتوں کا فقط ایک ہی ایجنڈہ ہے کہ
آصف علی زرداری کی بھرپور کردار کشی کی جائے۔ سوئس کیسز کا نام لے کر
پروپیگنڈہ کرنے والے فقط پنجابی کہاوت کے مطابق ہزار جُجتوں والے ہیں ورنہ
یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ مندرجہ ذیل حقائق سے نا واقف ہوں:
1. ایس جی ایس اور کوٹیکنا نامی دونوں کمپنیوں سے نواز شریف حکومت نے
1992ء میں تجارت کے عالمی معاہدے کے تحت دستخط کیے۔ نواز شریف کی حکومت کے
بعد 1994ء میں محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت کو ڈبلیو ٹی او کے تحت دونوں
کمپنیوں کو پری شپمینٹ اِنسپیکشن کے یہ کنٹریکٹ دینے پڑے۔
2. نومبر 1996ء کو آصف علی زرداری گرفتار ہوئے۔ مئی 1997ء میں سوئس کیسز
گھڑنے کے لیے اے اے زی اور بی بی کے کوڈ نام سے سوئٹزر لینڈ میں دو
اکاؤنٹس کھولے گئے اور پھر جعلی خطوط بنائے گئے (اِن خطوط میں بیس بیس ملین
ڈالرز بطور کمیشن مندرجہ بالا اکاؤنٹس میں بھجوانے کا ذکر تھا)، جو عدالت
میں جعلی ثابت ہوئے۔
3. شریف حکومت نے سوئس حکام کے سامنے بار بار مواقف بدلے۔ سب سے پہلے
ثابت شدہ جعلی اکاؤنٹس میں موجود پیسوں کو کِک بیکس کہا، پھر منی لانڈرنگ
کا ڈھونگ رچایا اور آخر میں کہا کہ یہ تو منشیات کی کمائی تھی مگر سوئس
حکام نے اِن کے ہر من گھڑت اور جھوٹے الزام کو رد کیا۔
4. محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو 1999ء میں سزا دلوانے کے
لیے شریفوں کی چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ راشد عزیز اور جسٹس ملک محمد قیوم
کے ساتھ ملی بھگت، جو سپریم کورٹ میں 2001ء میں ثابت ہوئی اور شریفوں کے
ساتھ گٹھ جوڑ کرنے والے ججوں کو گھر جانا پڑا۔ اگر یہ کیسز سچے ہوتے تو
شریف برادران ججوں سے اس طرح کی گفتگو کرتے؟ (اِس آرٹیکل کی چوتھی قسط میں
آڈیو ٹیپس میں ریکارڈڈ گفتگو کی مکمل تفصیل موجود ہے۔)
5. شریفوں نے پاکستانی ججوں کے ساتھ ملی بھگت کی طرز پر سوئس حکام سے
بھی ملی بھگت کرنے کی بھرپور کوششیں کیں مگر سوئس انویسٹیگیٹنگ جج ڈینیل
ڈیواؤ نے ابتدائی انکوائری میں بوگس ثبوت دیکھ کر مقدمات چلانا تو دور کی
بات، فائل تک کرنے سے انکار کر دیا۔
6. شریف حکومت کے سوئس وکیل جیکؤس پاتھن، جنیوا کے اٹارنی جنرل
(پراسیکیوٹر جنرل) ڈینیل زیپیلی، جنیوا کے دوسرے اٹارنی جنرل فرانکوئس راجر
مچلی کا ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز سے متعلقہ مقدمات (سوئس کیسز) کے
بارے میں کھلے مواقف دے چکے تھے کہ پیش کردہ ثبوتوں کی بنا پر محترمہ
بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف کاروائی نہیں ہو سکتی۔
7. راولپنڈی کی احتساب عدالت نے 30 جولائی 2011ء کو اٹھارہ گواہان کی
گواہیوں کے بعد ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز سے متعلقہ کیسز کو خارج
کرتے ہوئے واضح طور پر اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ان مقدمات میں کسی بھی
ملزم کے خلاف کرپشن، رشوت، کمیشن اور سیاسی دباؤ ڈالنے کے الزامات ثابت
نہیں ہوتے۔ تمام الزامات من گھڑت اور جھوٹے تھے۔ ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا
کمپنیز کو پری شپمنٹ انسپیکشن کے ٹھیکے خالصتاً میرٹ پر دیئے گئے۔ ان دونوں
ٹھیکوں کے عوض قومی خزانے کو ایک پائی کا نقصان ثابت نہیں ہوتا بلکہ اِن
معاہدوں سے پاکستان کو سالانہ 58 ارب روپے کا فائدہ پہنچا تھا، جس کی تصدیق
ایک آڈٹ فرم کر چکی ہے۔
آصف علی زرداری کی عہدہ صدارت سے سبکدوشی کے بعد عدالت کی بار بار کی
ہدایات کے باوجود استغاثہ عدالت میں کوئی ثبوت پیش نہ کر سکا۔ اس طرح 24
نومبر 2015ء کو عدالت نے آصف علی زرداری کو بھی سوئس کیسز میں باعزت بری کر
دیا۔
8. سوئس کیسز بنانے والے یعنی احتساب بیورو کے چیئرمین سیف الرحمٰن اور
نواز شریف نے آصف علی زرداری سے معافیاں مانگیں اور یہ بھی تسلیم کیا کہ
انھوں نے جھوٹے مقدمات بنائے تھے۔ مزید برآں، شریف حکومت کے بعد سوئس کیسز
جاری رکھنے والے ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے بھی ان کیسز کو میڈیا کے سامنے جعلی
تسلیم کیا۔
9. جب آئین کا آرٹیکل 248 واضح طور پر کہتا ہے کہ “صدر یا گورنر کے
خلاف، اس کے عہدے کی میعاد کے دوران کسی عدالت میں کوئی فوجداری مقدمات نہ
قائم کیے جائیں گے اور نہ ہی جاری رکھے جائیں گے”۔ پھر سپریم کورٹ آف
پاکستان صدرِ پاکستان کے خلاف اُن کی صدارت کے دوران ایک غیر ملکی عدالت
میں مقدمہ چلانے کے لیے پورے تین سال تک کیوں بضد رہی؟ یاد رہے کہ
انٹرنیشنل قانون کے مطابق صدر، وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ کو عالمی استثنٰی
حاصل ہوتا ہے۔ مزید برآں، سوئس حکام بار بار واضح کر رہے تھے کہ پاکستانی
سپریم کورٹ کا جو مرضی فیصلہ آئے مگر سوئس قوانین اور انٹرنیشنل لاء اس
بات کی اجازت نہیں دیتے کہ کسی ملک کے صدر مملکت کے خلاف کیسز شروع کیے جا
سکیں۔
10. عدالتِ عظمٰی وزراء اعظم کو صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے خلاف
سوئٹرزلینڈ میں ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز سے متعلقہ اُن بند کیسز
(سوئس کیسز) کو کھلوانے کے لیے خط لکھوانے پر بضد تھی، جو سرے سے موجود ہی
نہیں تھے۔ حقیقت یہ تھی کہ سوئٹرز لینڈ میں اِن کیسز کی فقط انکوائری ہوئی،
جس کی کوئی عدالتی اہمیت نہیں تھی اور شواہد نہ ہونے پر سوئٹزر لینڈ میں
مقدمے فائل ہی نہیں ہو سکے تھے۔ مزید برآں، یہ بوگس کیسز پاکستانی احتساب
عدالت میں بھی خارج ہو چکے تھے۔
11. وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی عدالتِ عظمٰی کے حکم پر جب آئین کے
آرٹیکل 248 کے مطابق سوئس حکام کو خط لکھنے کے لیے تیار تھے مگر عدالت اِس
آرٹیکل کو پس پشت ڈال کر خط لکھوانا چاہتی تھی، جس پر عدلیہ نے ڈکٹیٹر
پرویز مشرف کے دور میں جاری کیے گئے توہین عدالت کے آرڈیننس 2003ء کے سیکشن
پانچ کے تحت جرم کا مرتکب قرار دے کر منتخب وزیرِ اعظم کو نااہل قرار دے
کر گھر بھیج دیا۔ ایک ڈکٹیٹر کو تین سال کے لیے آئینِ پاکستان سے کھلا
کھلواڑ کرنے کی اجازت دینے والے ججوں نے قومی اسمبلی میں وزیرِ اعظم کے حق
میں قرارداد اور اسپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کو بھی درخور اعتنا نہ سمجھا۔
مگر بعد ازاں وزیرِ اعظم پرویز اشرف سے عدالت نے سوئس حکام کو اُسی متن کے
ساتھ خط لکھوایا، جس کے لیے یوسف رضا گیلانی رضامند تھے۔
12. ڈبل جیوپرڈی پوری دنیا کا مسلمہ قانون ہے یعنی ایک مقدمے کی دو بار
سماعت نہیں ہو سکتی۔ پھر عدالتِ عظمٰی اپنے ہاتھ سے مئی 2001ء میں ان
مقدمات کی سزاؤں کو خلاف قانون قرار دینے کے بعد دوبارہ سوئٹزر لینڈ میں کس
طرح کھلوانا چاہتی تھی؟ اِس کے باوجود کہ راولپنڈی کی احتساب عدالت بھی
مقدمات کو من گھڑت قرار دے کر خارج کر چکی تھی۔
13. سپریم کورٹ کے حکم پر حکومتِ پاکستان کی طرف سے سوئس حکام کو
بھجوائے گئے خط کا کورا جواب آیا اور سوئس حکام نے آصف علی زرداری کے خلاف
کاروائی کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ سوئس حکام نے اپنے جواب میں بالکل وہی
موقف اختیار کیا، جو وہ ہمیشہ سے میڈیا پر دیتے چلے آ رہے تھے۔ کیا عدالتِ
عُظمٰی اس قانونی موفف سے نا واقف تھی؟
حیرت ہے کہ سوئس کیسز میں ملوث صادق و امین فرشتوں کے ضمیروں سے اٹھارہ
سالوں کے دوران ایک بار بھی آواز نہیں اُٹھی کہ یہ کہاں کی سیاست ہے؟ یہ
کہاں کی حُب الوطنی ہے؟ یہ کہاں کی سرحدوں کی رکھوالی ہے؟ یہ کہاں کی دینِ
اسلام کی پیروی ہے؟ یہ کہاں کی صحافت ہے؟ اور یہ کہاں کا اِنصاف ہے؟
محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف سوئس کیسز سب سے بڑے
مقدمے تھے، جس میں صادق و امین فرشتوں نے ان مقدمات میں اٹھارہ سال کے
دوران قدم قدم پر دھونس، دھاندلی، لاقانونیت، پروپیگنڈے، بے شرمی اور ڈھیٹ
پن کے ریکارڈز قائم کیے۔ یاد رہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری
پر سوئس کیسز کے علاوہ بھی لاتعداد ریفرنسز دائر کیے گئے تھے، جن میں صادق
و امین فرشتوں کا بالکل یہی طریقہ واردات رہا، جن میں اولین مقصد صرف اور
صرف محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی کردار کشی اور میڈیا ٹرائل
کے ساتھ ساتھ قید و بند کی صعوبتیں دے کر سیاست سے بے دخل کرنا تھا۔
سوئس کیسز کی تفصیل جاننے کے بعد اپنے تئیں صادق و امین فرشتوں اور آصف
علی زرداری کی کرپشن کی حقانیت بخوبی سمجھی جا سکتی ہے۔ ہاں البتہ ایک ذہنی
کیفیت، جسے willingness to believe کہا جاتا ہے، میں مبتلا مریض کی اور
بات ہے (اِس کیفیت میں آدمی ناپسندیدہ کے خلاف اور پسندیدہ کے حق میں ہر
بات مان لینے پر فوراً آمادہ ہوتا ہے)۔
وطنِ عزیز میں اگر انصاف ہو تو سوئس کیسز میں ملوث شریف برادران (اپنے
سرکاری اور غیر سرکاری حواریوں سمیت) اور انصاف کا سرعام قتل کرنے والے
ججوں کے لیے ساری عمر کی نااہلی کے ساتھ ساتھ کم از کم اُتنی جیل کی سزا
ضرور بنتی ہے، جتنی اِنھوں نے کوئی مقدمہ ثابت کیے بغیر آصف علی زرداری کو
پابند سلاسل رکھ کر دی ہے۔
محترمہ بینظیر بھٹو کی زندگی میں آنے کے بعد آصف علی زرداری کے خلاف بے
بُنیاد جُھوٹے مقدمات کے سلسلے میں صداقت و امانت کا لبادہ اوڑھے مقدس
عدالتی منصب پر بیٹھے جج اور ضمیر فروش صحافی آئین شکن ضیاءالحق کی باقیادت
کا مکمل ساتھ دیتے چلے آ رہے ہیں۔ آصف علی زرداری کے تمام مقدمات میں
باعزت بری ہونے کے بعد آج بھی اُن کے خلاف مبالغہ آرائی کے بھرپور رنگ بھرے
جا رہے ہیں اور آج بھی اُن کے مخالفین انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ انھیں کرپٹ
کہتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد اُن کی بیٹی محترمہ بینظیر بھٹو، دونوں
بیٹوں مرتضٰی بھٹو اور شاہ نواز بھٹو کی جانیں لینے کے بعد آصف علی زرداری
کے خون کی پیاس میں گز گز بھر لٹکتی زبانیں یہ بات واضح کرتی ہیں کہ
پاکستان میں دو گروہوں میں ایک تاریخی معرکہ لڑا جا رہا ہے۔ ایک گروہ
جمہوریت، ووٹ اور آئین کی حرمت کو تار تار کرنے پر درپے ہے اور دوسرا گروہ
اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھے ان کا راستہ روکے کھڑا ہے۔ ان سے برسر پیکار ہے،
ان سے پنجہ آزمائی کرنے، گتھم گتھا ہونے یا ملکی اداروں کی توہین کرنے کی
بجائے ایک جہد مسلسل، ایک عزم اور ایک صبر مسلسل کے ساتھ ستمگروں کے سب ستم
ہراتے ہوئے ارتقائی طریقے سے قوم کو درکار اصل منزل کے قریب تر کر رہا ہے۔
اپنے تئیں صادق و امین فرشتے مت بھولیں کہ غیر جانبدار مورخ اپنی تجربہ
کار آنکھوں سے ٹکٹکی باندھے سب کچھ دیکھ رہا ہے، سب مناظر اُس کے ذہن کی
لائبریری میں محفوظ ہو رہے ہیں اور وہ معاملات کی گہرائی میں اتر کر کسی
پروپیگنڈے سے متاثر ہوئے بغیر انتہائی بے دردی سے کسی لیپا پوتی کے بغیر
اپنے قلم سے تاریخ لکھ رہا ہے۔ جس سے سب کچھ واضح ہو کر رہے گا۔ اسی حساب
سے آج کے کردار آئندہ تاریخ میں پہچانے جائیں گے کہ کون قوم کا غدار تھا
اور کون وفادار؟
(ختم شُد)
“کرپٹ زرداری” اور صادق و امین فرشتوں کی اصل کہانی (10)
جب دوسری جنگِ عظیم میں برطانوی وزیرِ اعظم ونسٹن چرچل کو اْس کے سپہ
سالار نے بتایا کہ ہم شکست کھانے والے ہیں اور جاپانی فوجیں لندن کا محاصرہ
کر چکی ہیں تو چرچل نے صرف ایک سوال کیا، ’’کیا ہماری عدالتیں ابھی تک
انصاف کر رہی ہیں؟ جواب ملا، جی ہاں! تو چرچل نے کہا، ’’پھر ہمیں کوئی شکست
نہیں دے سکتا‘‘۔ تاریخ گواہ ہے کہ ناصرف جاپانی فوجوں کو پسپا ہونا پڑا
بلکہ دوسری جنگِ عظیم میں چرچل اور اس کے اتحادی بھی کامیاب ہوئے۔
انصاف قوموں کی زندگی کو توانا رکھتا ہے۔ بے شک اِس حقیقت میں کوئی شُبہ نہیں لیکن اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کو دیکھیں تو معاملہ اِس سے بھی کہیں زیادہ سنگین ہے۔ آپ کا ارشاد ہے، ’’کوئی معاشرہ کفر پر تو قائم رہ سکتا ہے لیکن ظلم پر نہیں‘‘۔ کوئی معاشرہ ظلم پر قائم نہیں رہ سکتا چنانچہ نا انصافی کی وجہ سے تو سِرے سے قوم ہی نہیں رہتی پھر قومی زندگی کی توانائی کا سوال کیا باقی رہ جاتا ہے؟
عظیم چینی فلسفی کنفیوشس سے کسی نے پوچھا کہ اگر ایک قوم کے پاس تین چیزیں انصاف، معیشت اور دفاع ہوں اور بوجہ مجبوری اِن تین چیزوں میں سے کسی ایک چیز کو ترک کرنا مقصود ہو تو کس چیز کو ترک کیا جائے؟ کنفیوشس نے جواب دیا۔ دفاع کو ترک کر دو۔ سوال کرنے والے نے پھر پوچھا اگر باقی ماندہ دو چیزوں یعنی انصاف اور معیشت میں سے ایک کو ترک کرنا لازمی ہو تو کیا کیا جائے؟ کنفیوشس نے جواب دیا، معیشت کو چھوڑ دو۔ اس پر سوال کرنے والے نے حیرت سے کہا۔ معیشت اور دفاع کو ترک کیا تو قوم بھوکوں مر جائے گی اور دشمن حملہ کر دیں گے۔ تب کنفیوشس نے جواب دیا، نہیں! ایسا نہیں ہو گا بلکہ انصاف کی وجہ سے اْس قوم کو اپنی حکومت پر اعتماد ہو گا اور لوگ معیشت اور دفاع کا حل اِس طرح کریں گے کہ پیٹ پر پتھر باندھ کر دشمن کا راستہ روک لیں گے۔ اگر ہمیں کنفیوشس کے نقطہ نظر پر یقین نہیں ہے تو غزوہ اُحد کا عملی ثبوت دیکھ لیں کہ کس طرح عوام نے اپنی ریاست کو بچانے کے لیے پیٹ پر پتھر باندھ کر دشمن کا راستہ روک دیا تھا۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ انصاف جس قوم میں ناپید ہو جائے تو وہ کسی بھی شعبے میں ترقی نہیں کر سکتی۔ آج وطنِ عزیز کی ہر شعبے میں زوال پذیری کی بنیادی وجہ عدل و انصاف کا نہ ہونا ہے۔ ہماری عدلیہ کی پوری تاریخ جسٹس منیر سے لے کر آج تک سیاہ ترین ہے۔ وطن عزیز میں جیسے ہی ایک آئین شکن مارشل لاء لگاتا ہے، ججوں کی بھاری اکثریت باجماعت ہو کر پی سی او کے تحت حلف اُٹھا لیتی ہے۔ جب تک آئین شکن اقتدار میں رہتا ہے، اُس کے سامنے اِن “صادق و امین فرشتوں” کا کردار فقط سٹینو گرافرز کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ آئین اور پاکستانی قوم کی توہین کرنے میں یہ بدبو دار کردار کے مالک لوگ پوری طرح آئین شکن کے ہمنوا ہوتے ہیں۔ یہ آمر کے سب غیر آئینی اقدامات کی جھٹ سے توثیق کر دیتے ہیں۔ یہ اس حد تک بھی چلے جاتے ہیں کہ فردِ واحد مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کو تین سال کے لیے آئین میں تبدیلی تک کا اختیار تک دے دیتے ہیں۔ مگر یہ سویلینز کے لیے ایسے فرعون ہیں کہ اِن کا ناپسندیدہ شخص اگر اُونچی آواز میں سانس بھی لے لے تو اِنتہائی ڈھٹائی سے توہینِ عدالت کی تلوار نکال لیتے ہیں۔ ایک منتخب وزیرِ اعظم کو اپنے غیر آئینی اِقدام کی حکم عدولی پر تیس سینکنڈ کی سزا سنا کر گھر تک بھیج دیتے ہیں۔
اب اگر ہم ونسٹن چرچل، کنفیوشس اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اقوال کے ساتھ ساتھ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سربراہی میں غزوہ اُحد میں عملی ثبوت دینے والے صحابہ اکرامؓ کے کردار کی روشنی میں دیکھیں تو ہم خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پاکستان کی تباہی و بربادی میں عدلیہ کا کتنا بھرپور کردار ہے۔
آصف علی زرداری کے خلاف بے بُنیاد جُھوٹے مقدمات کے سلسلے میں پاکستانی عدالتوں نے آئین شکن ضیاءالحق کی باقیادت کا ستائیس سال تک کامل ساتھ دیا۔ حکمرانوں نے آصف علی زرداری کو پابند سلاسل رکھنے کے لیے قوانین تبدیل تک کیے۔ مثال کے طور پر 497 اے ضابطہ فوجداری میں قرار دیا گیا ہے کہ اگر سزائے موت یا عمر قید والا کیس عدالت دو سال میں فیصلہ نہ کر پائے تو ملزم کو ضمانت پر رہائی ملنا اس کا حق ہے۔ اسی طرح بقیہ تمام مقدمات میں ایک سال بعد ضمانت حق کے طور پر دی جائے گی۔ مگر آصف علی زرداری کے لیے اس شق کو ختم کیا گیا اور عدالت سوئی رہی۔
آصف علی زرداری کی قید کے دوران کئی حکومتیں بدلیں، کئی وزرائے اعظم آئے اور گئے، کئی چیف جسٹس انصاف کی مسند پر پدھارے اور “عدل” بانٹتے ہوئے چلے گئے، لیکن زرداری جیل سے باہر نہ نکل سکے۔ اُنھوں نے تقریباً دو درجن عیدیں اپنے خاندان اور پیاروں سے دور جیل کی تنہائیوں کے ساتھ گذاریں۔ وہ اپنے بچوں کا بچپن نہ دیکھ سکے، قید کے دوران ان کی والدہ سمیت کئی قریبی رشتہ دار وفات پا گئے، لیکن حکومت اور عدلیہ نے انہیں ہردفعہ پیرول پر عبوری رہائی کا حق تک دینے سے انکار کر دیا۔ اسیر زرداری پر دورانِ قید بد ترین غیر قانونی جسمانی تشدد بجائے خود ایک الگ داستان ہے۔
آخری مقدمے (اثاثہ جات ریفرنس) میں باعزت بری ہونے کے بعد آصف علی زرداری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا:
“جیل میں میری گردن اور زبان بھی کاٹی گئی، شدید تشدد کی وجہ سے میری حالت نازک ہو گئی، سب جانتے ہیں کہ مجھے کن حالات میں آغا خان اسپتال منتقل کیا گیا۔ جب اسپتال منتقل کیا گیا تو پولیس نے خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی، عدالت میں ثابت ہوا کہ یہ خودکُشی نہیں، تشدد ہے۔
2002ء میں جب تمام کیسز میں میری ضمانت ہوئی اور میں جیل سے اپنا سامان لے کر باہر آنے لگا تو جیل سپرٹنڈنٹ نے مجھے کہا “جناب اپنا سامان یہیں رہنے دیں کیوںکہ یہ آپ کو پکڑ کر دوبارہ یہیں لائیں گے”۔ اور بالکل ویسے ہی ہوا۔ قید سے نکلنے سے قبل ہی مجھ پر ایک سیکنڈ ہینڈ بی ایم ڈبلیو کار پر کسٹم ڈیوٹی کم ادا کرنے کا کیس بنا کر گرفتار کر کے عدالت کے سامنے پیش کر دیا گیا۔ میں نے جج صاحب سے کہا کہ “اول تو یہ گاڑی میری نہیں ہے اور نہ ہی میرے نام پر منگوائی گئی۔ لیکن اگر فرض کیا کہ یہ گاڑی میری ہی ہے تو تب بھی ملک کا قانون یہ کہتا ہے کہ آپ ایسی گاڑی ضبط کر لیں”، جس کے جواب میں جج صاحب نے کہا “ہمیں گاڑی نہیں بلکہ آپ کو ضبط کرنے کے احکامات ہیں”۔ یوں مجھے نیب کے حوالے کر دیا گیا۔ اس طرح اٹک میں مزید میرا دو سال ٹرائل ہوا۔
اگر میرے خلاف تمام جھوٹے کیسز کو سچ بھی مان لیا جائے تو سات سال کی سزا بنتی ہے مگر میں نے چوبیس سال قید کاٹی ہے (جیل کا دن بارہ گھنٹے کا ہوتا ہے چنانچہ چوبیس سال عملاً بارہ سال بنتے ہیں تھے۔ مزید برآں، عدالتیں پولیس حراست، حوالات اور مقدمے کے دوران گرفتاری کو بھی سزا سمجھتی ہیں)۔
مشرف دور میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں ہمارے خلاف کیسز کو پھر سے دوبارہ سیشن کورٹس میں منتقل کر دیا گیا۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں مجھے نہیں سنا گیا۔ سیشن کورٹس میں کیسز جانے کے بعد میں نے ایک سیشن جج صاحب کو اپنے خلاف جھوٹے کیسز کے ری ٹرائیل کے متعلق کہا تو جج صاحب نے جواب دیا کہ “ایڈے وڈے وڈے بندیاں نے تہاڈی نائیں سُنڑی، ہُنڑ اَسیں ماڑے بندے تہاڈی کی سُنڑاں گے؟” (جب سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے جج صاحبان نے آپ کو نہیں سُنا، تو ہم سیشن کورٹس کے جج کیا سُنیں گے؟)۔ تو ایسا ایسا میرے ساتھ مذاق ہوا اور ان تاریخی مذاقوں اور سازشوں کے گواہ آج بھی موجود ہیں۔ ہم پر تمام مقدمات سیاسی نوعیت کے بنائے گئے، ایسے لوگوں کو گواہ بنایا گیا، جنھیں میں جانتا پہچانتا تک نہیں۔ گواہوں سے جھوٹی گواہیاں دلوانے کے لیے پھانسی کی سزائیں تک سُنائیں گئیں۔ اب میاں نواز شریف قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے خلاف کیسز خود نہیں بنائے بلکہ آئی ایس آئی اور فوج نے پریشر ڈال کر بنوائے تھے۔ وہ اقرار کرتے ہیں کہ ہر ریفرنس جھوٹا ہے۔
میرا طریقہ ہے کہ میں کبھی عدلیہ سے لڑتا نہیں بلکہ ان کے ساتھ ساتھ بھاگتا رہتا ہوں، جب تک وہ تھک نہ جائیں۔ مُک مُکا کہہ دینا بہت آسان ہے، مگر ہر کیس کی ایک طویل داستان ہے۔ ہر مقدے میں آٹھ آٹھ پراسیکیوٹر ہوتے تھے اور مجھے ہر مقدمے میں چار سو سے پانچ سو تک پیشیاں بھگتنی پڑیں۔
میں نے اپنے پانچ سالہ دور میں کسی ایک شخص کے خلاف بھی انتقامی کارروائی نہیں کی۔ ہماری جنگ جمہوری ہے کبھی ذاتی ایشو نہیں رہا۔ اپنے دورِ صدارت میں اپنے خلاف مقدمے بنانے والوں کو ایوانِ صدر بلا کر کھانا کھلایا۔ تمام جُھوٹے مقدمات میں بری ہونے کے بعد کسی سے انتقام لینے کی بجائے میں اپنا معاملہ تاریخ پر چھوڑتا ہوں۔”
آصف علی زرداری کے تمام مقدمات میں باعزت بری ہونے کے بعد آج بھی اُن کے مخالفین انتہاتئی ڈھٹائی کے ساتھ انھیں کرپٹ کہتے ہیں۔ یہاں ہمیں پنجابی زبان کا محاورہ یاد آ رہا ہے کہ “من حرامی تے حُجتاں ہزار”۔ اگلی قسط آخری قسط ہو گی، جس میں ہم سوئس کیسز سے متعلق ہزار حُجتوں والوں کا جواب دیں گے۔ (جاری ہے۔)
انصاف قوموں کی زندگی کو توانا رکھتا ہے۔ بے شک اِس حقیقت میں کوئی شُبہ نہیں لیکن اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کو دیکھیں تو معاملہ اِس سے بھی کہیں زیادہ سنگین ہے۔ آپ کا ارشاد ہے، ’’کوئی معاشرہ کفر پر تو قائم رہ سکتا ہے لیکن ظلم پر نہیں‘‘۔ کوئی معاشرہ ظلم پر قائم نہیں رہ سکتا چنانچہ نا انصافی کی وجہ سے تو سِرے سے قوم ہی نہیں رہتی پھر قومی زندگی کی توانائی کا سوال کیا باقی رہ جاتا ہے؟
عظیم چینی فلسفی کنفیوشس سے کسی نے پوچھا کہ اگر ایک قوم کے پاس تین چیزیں انصاف، معیشت اور دفاع ہوں اور بوجہ مجبوری اِن تین چیزوں میں سے کسی ایک چیز کو ترک کرنا مقصود ہو تو کس چیز کو ترک کیا جائے؟ کنفیوشس نے جواب دیا۔ دفاع کو ترک کر دو۔ سوال کرنے والے نے پھر پوچھا اگر باقی ماندہ دو چیزوں یعنی انصاف اور معیشت میں سے ایک کو ترک کرنا لازمی ہو تو کیا کیا جائے؟ کنفیوشس نے جواب دیا، معیشت کو چھوڑ دو۔ اس پر سوال کرنے والے نے حیرت سے کہا۔ معیشت اور دفاع کو ترک کیا تو قوم بھوکوں مر جائے گی اور دشمن حملہ کر دیں گے۔ تب کنفیوشس نے جواب دیا، نہیں! ایسا نہیں ہو گا بلکہ انصاف کی وجہ سے اْس قوم کو اپنی حکومت پر اعتماد ہو گا اور لوگ معیشت اور دفاع کا حل اِس طرح کریں گے کہ پیٹ پر پتھر باندھ کر دشمن کا راستہ روک لیں گے۔ اگر ہمیں کنفیوشس کے نقطہ نظر پر یقین نہیں ہے تو غزوہ اُحد کا عملی ثبوت دیکھ لیں کہ کس طرح عوام نے اپنی ریاست کو بچانے کے لیے پیٹ پر پتھر باندھ کر دشمن کا راستہ روک دیا تھا۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ انصاف جس قوم میں ناپید ہو جائے تو وہ کسی بھی شعبے میں ترقی نہیں کر سکتی۔ آج وطنِ عزیز کی ہر شعبے میں زوال پذیری کی بنیادی وجہ عدل و انصاف کا نہ ہونا ہے۔ ہماری عدلیہ کی پوری تاریخ جسٹس منیر سے لے کر آج تک سیاہ ترین ہے۔ وطن عزیز میں جیسے ہی ایک آئین شکن مارشل لاء لگاتا ہے، ججوں کی بھاری اکثریت باجماعت ہو کر پی سی او کے تحت حلف اُٹھا لیتی ہے۔ جب تک آئین شکن اقتدار میں رہتا ہے، اُس کے سامنے اِن “صادق و امین فرشتوں” کا کردار فقط سٹینو گرافرز کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ آئین اور پاکستانی قوم کی توہین کرنے میں یہ بدبو دار کردار کے مالک لوگ پوری طرح آئین شکن کے ہمنوا ہوتے ہیں۔ یہ آمر کے سب غیر آئینی اقدامات کی جھٹ سے توثیق کر دیتے ہیں۔ یہ اس حد تک بھی چلے جاتے ہیں کہ فردِ واحد مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کو تین سال کے لیے آئین میں تبدیلی تک کا اختیار تک دے دیتے ہیں۔ مگر یہ سویلینز کے لیے ایسے فرعون ہیں کہ اِن کا ناپسندیدہ شخص اگر اُونچی آواز میں سانس بھی لے لے تو اِنتہائی ڈھٹائی سے توہینِ عدالت کی تلوار نکال لیتے ہیں۔ ایک منتخب وزیرِ اعظم کو اپنے غیر آئینی اِقدام کی حکم عدولی پر تیس سینکنڈ کی سزا سنا کر گھر تک بھیج دیتے ہیں۔
اب اگر ہم ونسٹن چرچل، کنفیوشس اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اقوال کے ساتھ ساتھ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سربراہی میں غزوہ اُحد میں عملی ثبوت دینے والے صحابہ اکرامؓ کے کردار کی روشنی میں دیکھیں تو ہم خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پاکستان کی تباہی و بربادی میں عدلیہ کا کتنا بھرپور کردار ہے۔
آصف علی زرداری کے خلاف بے بُنیاد جُھوٹے مقدمات کے سلسلے میں پاکستانی عدالتوں نے آئین شکن ضیاءالحق کی باقیادت کا ستائیس سال تک کامل ساتھ دیا۔ حکمرانوں نے آصف علی زرداری کو پابند سلاسل رکھنے کے لیے قوانین تبدیل تک کیے۔ مثال کے طور پر 497 اے ضابطہ فوجداری میں قرار دیا گیا ہے کہ اگر سزائے موت یا عمر قید والا کیس عدالت دو سال میں فیصلہ نہ کر پائے تو ملزم کو ضمانت پر رہائی ملنا اس کا حق ہے۔ اسی طرح بقیہ تمام مقدمات میں ایک سال بعد ضمانت حق کے طور پر دی جائے گی۔ مگر آصف علی زرداری کے لیے اس شق کو ختم کیا گیا اور عدالت سوئی رہی۔
آصف علی زرداری کی قید کے دوران کئی حکومتیں بدلیں، کئی وزرائے اعظم آئے اور گئے، کئی چیف جسٹس انصاف کی مسند پر پدھارے اور “عدل” بانٹتے ہوئے چلے گئے، لیکن زرداری جیل سے باہر نہ نکل سکے۔ اُنھوں نے تقریباً دو درجن عیدیں اپنے خاندان اور پیاروں سے دور جیل کی تنہائیوں کے ساتھ گذاریں۔ وہ اپنے بچوں کا بچپن نہ دیکھ سکے، قید کے دوران ان کی والدہ سمیت کئی قریبی رشتہ دار وفات پا گئے، لیکن حکومت اور عدلیہ نے انہیں ہردفعہ پیرول پر عبوری رہائی کا حق تک دینے سے انکار کر دیا۔ اسیر زرداری پر دورانِ قید بد ترین غیر قانونی جسمانی تشدد بجائے خود ایک الگ داستان ہے۔
آخری مقدمے (اثاثہ جات ریفرنس) میں باعزت بری ہونے کے بعد آصف علی زرداری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا:
“جیل میں میری گردن اور زبان بھی کاٹی گئی، شدید تشدد کی وجہ سے میری حالت نازک ہو گئی، سب جانتے ہیں کہ مجھے کن حالات میں آغا خان اسپتال منتقل کیا گیا۔ جب اسپتال منتقل کیا گیا تو پولیس نے خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی، عدالت میں ثابت ہوا کہ یہ خودکُشی نہیں، تشدد ہے۔
2002ء میں جب تمام کیسز میں میری ضمانت ہوئی اور میں جیل سے اپنا سامان لے کر باہر آنے لگا تو جیل سپرٹنڈنٹ نے مجھے کہا “جناب اپنا سامان یہیں رہنے دیں کیوںکہ یہ آپ کو پکڑ کر دوبارہ یہیں لائیں گے”۔ اور بالکل ویسے ہی ہوا۔ قید سے نکلنے سے قبل ہی مجھ پر ایک سیکنڈ ہینڈ بی ایم ڈبلیو کار پر کسٹم ڈیوٹی کم ادا کرنے کا کیس بنا کر گرفتار کر کے عدالت کے سامنے پیش کر دیا گیا۔ میں نے جج صاحب سے کہا کہ “اول تو یہ گاڑی میری نہیں ہے اور نہ ہی میرے نام پر منگوائی گئی۔ لیکن اگر فرض کیا کہ یہ گاڑی میری ہی ہے تو تب بھی ملک کا قانون یہ کہتا ہے کہ آپ ایسی گاڑی ضبط کر لیں”، جس کے جواب میں جج صاحب نے کہا “ہمیں گاڑی نہیں بلکہ آپ کو ضبط کرنے کے احکامات ہیں”۔ یوں مجھے نیب کے حوالے کر دیا گیا۔ اس طرح اٹک میں مزید میرا دو سال ٹرائل ہوا۔
اگر میرے خلاف تمام جھوٹے کیسز کو سچ بھی مان لیا جائے تو سات سال کی سزا بنتی ہے مگر میں نے چوبیس سال قید کاٹی ہے (جیل کا دن بارہ گھنٹے کا ہوتا ہے چنانچہ چوبیس سال عملاً بارہ سال بنتے ہیں تھے۔ مزید برآں، عدالتیں پولیس حراست، حوالات اور مقدمے کے دوران گرفتاری کو بھی سزا سمجھتی ہیں)۔
مشرف دور میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں ہمارے خلاف کیسز کو پھر سے دوبارہ سیشن کورٹس میں منتقل کر دیا گیا۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں مجھے نہیں سنا گیا۔ سیشن کورٹس میں کیسز جانے کے بعد میں نے ایک سیشن جج صاحب کو اپنے خلاف جھوٹے کیسز کے ری ٹرائیل کے متعلق کہا تو جج صاحب نے جواب دیا کہ “ایڈے وڈے وڈے بندیاں نے تہاڈی نائیں سُنڑی، ہُنڑ اَسیں ماڑے بندے تہاڈی کی سُنڑاں گے؟” (جب سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے جج صاحبان نے آپ کو نہیں سُنا، تو ہم سیشن کورٹس کے جج کیا سُنیں گے؟)۔ تو ایسا ایسا میرے ساتھ مذاق ہوا اور ان تاریخی مذاقوں اور سازشوں کے گواہ آج بھی موجود ہیں۔ ہم پر تمام مقدمات سیاسی نوعیت کے بنائے گئے، ایسے لوگوں کو گواہ بنایا گیا، جنھیں میں جانتا پہچانتا تک نہیں۔ گواہوں سے جھوٹی گواہیاں دلوانے کے لیے پھانسی کی سزائیں تک سُنائیں گئیں۔ اب میاں نواز شریف قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے خلاف کیسز خود نہیں بنائے بلکہ آئی ایس آئی اور فوج نے پریشر ڈال کر بنوائے تھے۔ وہ اقرار کرتے ہیں کہ ہر ریفرنس جھوٹا ہے۔
میرا طریقہ ہے کہ میں کبھی عدلیہ سے لڑتا نہیں بلکہ ان کے ساتھ ساتھ بھاگتا رہتا ہوں، جب تک وہ تھک نہ جائیں۔ مُک مُکا کہہ دینا بہت آسان ہے، مگر ہر کیس کی ایک طویل داستان ہے۔ ہر مقدے میں آٹھ آٹھ پراسیکیوٹر ہوتے تھے اور مجھے ہر مقدمے میں چار سو سے پانچ سو تک پیشیاں بھگتنی پڑیں۔
میں نے اپنے پانچ سالہ دور میں کسی ایک شخص کے خلاف بھی انتقامی کارروائی نہیں کی۔ ہماری جنگ جمہوری ہے کبھی ذاتی ایشو نہیں رہا۔ اپنے دورِ صدارت میں اپنے خلاف مقدمے بنانے والوں کو ایوانِ صدر بلا کر کھانا کھلایا۔ تمام جُھوٹے مقدمات میں بری ہونے کے بعد کسی سے انتقام لینے کی بجائے میں اپنا معاملہ تاریخ پر چھوڑتا ہوں۔”
آصف علی زرداری کے تمام مقدمات میں باعزت بری ہونے کے بعد آج بھی اُن کے مخالفین انتہاتئی ڈھٹائی کے ساتھ انھیں کرپٹ کہتے ہیں۔ یہاں ہمیں پنجابی زبان کا محاورہ یاد آ رہا ہے کہ “من حرامی تے حُجتاں ہزار”۔ اگلی قسط آخری قسط ہو گی، جس میں ہم سوئس کیسز سے متعلق ہزار حُجتوں والوں کا جواب دیں گے۔ (جاری ہے۔)
“کرپٹ زرداری” اور صادق و امین فرشتوں کی اصل کہانی (9)
سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کے تحت 7 نومبر 2012ء کو حکومتِ پاکستان
کی طرف سے سوئس حکام کو خط لکھا گیا، جس میں کہا گیا تھا کہ آصف علی زرداری
کے خلاف ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز سے متعلقہ کیسز (سوئس کیسز)
دوبارہ کھولیں جائیں۔ 9 فروری 2013ء کو سوئس حکام کا حکومتِ پاکستان کو خط
کا جواب آیا، جس میں سوئس حکام نے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے خلاف
کیسز کھولنے سے صاف انکار کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ صدر زرداری کے خلاف
کیسز میرٹ پر ختم کیے گئے تھے اور اب دوبارہ کیسز کھولنے کی کوئی وجہ نہیں
ہے۔ سوئس حکام نے خط میں بالکل وہی موقف اختیار کیا، جو وہ ہمیشہ سے میڈیا
پر دیتے چلے آ رہے تھے۔
سوئس کیسز کے حوالے سے یہ خبر میرے جیسے عام پاکستانیوں کے لیے حیران کُن تھی کیونکہ ہم تو 1997ء سے مسلسل سُنتے چلے آ رہے تھے کہ پاکستانی قوم سے لُوٹے ہوئے کرپشن کے چھ ارب روپے سوئٹزر لینڈ میں اکاؤنٹس میں پڑے ہوئے ہیں۔ مگر یہ کیا ہوا، وہاں تو ایک ٹکہ بھی نہیں تھا۔ قوم کے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ؟ یہ بات سمجھ سے باہر تھی کہ یہ مقدمے پاکستان میں دو عدالتوں میں چلنے کے باوجود صاف طور پر جھوٹے ثابت ہو چکے تھے۔ جب سوئٹزر لینڈ میں یہ مقدمے بے بنیاد ثبوتوں کی وجہ سے فائل ہی نہ ہو سکے تھے تو پھر سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج صاحبان کیوں مُسلسل تین سال تک ایک منتخب حکومت کو رگڑا لگاتے رہے تھے؟ ایک وزیر اعظم کو غیر آئینی طور پر نا اہل قرار دے دیا اور دوسرے کو بھی گھر بھیجنے کے درپے تھے۔ کوئی اندازاہ لگا سکتا ہے کہ تین سالوں کے دوران سول حکومت کے سامنے رکاوٹوں کے پہاڑ کھڑے کر کے کتنا نقصان کیا گیا؟ کتنے وسائل ضائع ہوئے؟ غریب عوام کے خُون پسینے کی کمائی کی کتنی خطیر رقم سوئس کیسز چلانے والے منصفین کی تنخواہوں، الاؤنسز، پروٹوکولز اور دیگر سہولتوں پر بربادی ہوئی؟ اِن بھاری بھرکم بنیچوں میں بیٹھے صادق و امین فرشتوں کو پوری قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے ایک بار بھی شرم نہ آئی؟ کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی آئین پاکستان، عدلیہ اور قوم کی توہینِ ہو سکتی ہے؟
میڈیا ہاؤسز میں بیٹھے ڈھولچی بھی کیا اندھے اور خالی کھوپڑی کے ربوٹ تھے، یا پھر ان کے ضمیروں میں رتی برابر رمق باقی نہ تھی، جو سوئس کیسز کے حوالے سے مُسلسل زوردار جُھوٹا پروپیگنڈا کرتے رہے تھے؟
8 ستمبر 2013ء کو صدر آصف علی زرداری ملکی تاریخ میں پہلی بار اسٹیبلشمنٹ کی بار بار مداخلت کے باوجود پانچ سالہ جمہوری صدر کی آئینی مدت مکمل کرنے کے بعد پورے اعزاز کے ساتھ باوقار طریقے سے گارڈ آف آنر لے کر ایوانِ صدر سے رخصت ہو گئے۔
بطورِ صدر استثنٰی ہونے کی وجہ سے سوئس کیسز سمیت جن پانچ مقدمات پر آصف علی زرداری کے خلاف عدالتی کاروائی رُک گئی تھی، وہ مقدمات راولپنڈی کی احتساب عدالت نے 11 اکتوبر 2013ء کو دوبارہ کھول دیئے۔ عدالت نے آصف علی زرداری کو 14 اکتوبر 2013ء کو طلب کر لیا۔
واضح رہے کہ آصف علی زرداری صدرِ پاکستان بننے سے قبل اپنے خلاف سوائے پانچ مقدمات کے سب مقدمات سے باعزت بری ہو چکے تھے اور ان پانچوں مقدمات کو 16 ستمبر 2008ء کو اس وقت زیر التو ڈال دیا گیا تھا، جب آصف علی زرداری ملک کے صدر منتخب ہوئے تھے جبکہ ان مقدمات میں شریک ملزموں کو عدالت پہلے ہی باعزت بری کر چکی تھی۔ اِسی طرح سوئس کیسز کا بھی راولپنڈی کی احتساب عدالت نمبر 2 نے 30 جولائی 2011ء کو اپنا فیصلہ سنایا تھا، جس میں عدالت نے اٹھارہ گواہان کی گواہیوں کے بعد سوئس کیسز خارج کرتے ہوئے واضح طور پر اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ان مقدمات میں کسی بھی ملزم کے خلاف کرپشن، رشوت، کمیشن اور سیاسی دباؤ ڈالنے کے الزامات ثابت نہیں ہوتے۔ تمام الزامات من گھڑت اور جھوٹے تھے۔ ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز کو پری شپمنٹ انسپیکشن کے ٹھیکے خالصتاً میرٹ پر دیئے گئے۔ ان دونوں ٹھیکوں کے عوض قومی خزانے کو ایک پائی کا نقصان ثابت نہیں ہوا بلکہ اس کنٹریکٹ سے پاکستان کو سالانہ 58 ارب روپے کا فائدہ پہنچا تھا۔ عدالت نے آصف علی زرداری کے بارے میں اپنے فیصلے میں لکھا کہ انھیں اس وقت صدرِ پاکستان ہونے کی وجہ سے استثنٰی حاصل ہے، جب یہ استثنٰی حاصل نہیں رہے گا، تب اُس وقت ٹرائل دوبارہ شروع ہو گا۔
المختصر سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئسز کیسز کی دوبارہ سماعت کے دوران عدالت کی بار بار کی ہدایات کے باوجود استغاثہ عدالت میں کوئی ثبوت پیش نہ کر سکا۔ 24 نومبر 2015ء کو عدالت نے آصف علی زرداری کو بھی سوئس کیسز میں باعزت بری کر دیا۔ 1997ء سے لے کر 2015ء یعنی اٹھارہ سال تک نیب سوئس کیسز (ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا ریفرنسز) کے سلسلے میں کوئی بھی ٹھوس شواہد پیش نہیں کر سکا تھا۔
یہاں سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کی صداقت، امانت، دیانت اور قابلیت کو داد دینا بنتا ہے۔ ڈبل جیوپرڈی پوری دنیا کا مسلمہ قانون ہے یعنی ایک مقدمہ دو بار سماعت نہیں ہو سکتا۔ یہ “انصاف پسند” منصف بذاتِ خود سپریم کورٹ کے اُس بینچ میں شامل تھے، جس نے مئی 2001ء میں شریفوں اور ججوں کی ملی بھگت طشتِ ازبام ہونے پر ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز سے متعلقہ مقدمات میں محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی سزائیں خلافِ قانون قرار دیں تھیں مگر مقدمات کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا۔ دوبارہ سماعت کے بعد جولائی 2011ء کو احتساب عدالت میں یہ مقدمات ایک بار پھر جھوٹے ثابت ہوئے۔ پھر اس کے باوجود چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور ان کے ساتھی جج صاحبان یعنی صادق و امین فرشتے سوئٹزرلینڈ میں کون سے مقدمات کو کھلوانا چاہتے تھے حالانکہ یہ اچھی طرح جانتے تھے یہ کیسز ابتدائی انکوائری کے بعد فائل ہی نہیں ہو سکے تھے؟ اِنصاف کے منصبِ اعلٰی پر بیٹھے صادق و امین فرشتوں کو یہ بھی اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ مقدمات بنانے اور چلانے والے حکمران معافیاں مانگ چکے اور برملا اِقرار کر چکے کہ یہ مقدمات صریحاً جُھوٹے بنائے گئے تھے۔ بعد میں جب سپریم کورٹ کے ججز تین سالہ خط کہانی چلا رہے تھے، تو سوئس حکام اپنے نقطہ نظر سے مُسلسل آگاہی دے رہے تھے، پھر ایک منتخب وزیراعظم کو غیر آئینی طور پر گھر بھیج کر انھوں کون سی ملک و قوم کی خدمت کی؟ آئین شکن ضیاءالحق کی باقیادت کی اس کھلی بدنیتی اور نا انصافی میں عقل والوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں۔
سوئس کیسز میں بریت کے بعد آصف علی زرداری کے خلاف ایک اثاثہ جات کا مقدمہ باقی تھا، جو نواز شریف نے سربراہ احتساب بیورو سیف الرحمٰن کے ذریعے اثاثہ جات ریفرنس احتساب ایکٹ 1997ء کے تحت 1998ء میں قائم کیا تھا، جس میں آصف علی زرداری پر ناجائز اثاثے بنانے کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس ریفرنس میں آصف علی زرداری کے علاوہ بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو بھی شریک ملزم تھیں، تاہم ان کی وفات کے بعد ان کے نام اس ریفرنس سے خارج کر دیئے گئے تھے۔ اس مقدمے کی سماعت کے دوران بھی نیب پراسیکیوٹر کوئی ثبوت پیش نہ کر سکا اور اِس کیس میں چالیس گواہوں پر جرح کی گئی، جو تمام کے تمام جھوٹے ثابت ہوئے۔ کسی ایک گواہی اور ڈاکومنٹ سے کوئی کرپشن، کوئی کک بیک اور کسی قسم کا کمیشن ثابت نہ ہوا۔ 26 اگست 2017ء کو عدالت نے اس آخری مقدمے میں بھی آصف علی زرداری کو باعزت بری کر دیا۔ اس طرح 1990ء سے شروع ہونے والے جھوٹے سیاسی مقدمات کا 27 سال بعد یعنی 2017ء کو اختتام ہوا۔
آصف علی زرداری نے تمام جھوٹے مقدمات سے باعزت بری ہونے کے بعد بجا طور پر کہا کہ “میرے دشمن میرے خلاف کچھ ثابت نہیں کر سکے۔ مجھ پر تمام کیسز سیاسی طور پر بنائے گئے اور سب کے سب ختم ہو گئے، ہر کیس میں چار چار پانچ پانچ سو پیشیاں ہوئی ہیں۔ ہر کیس میں آٹھ آٹھ پراسیکیوٹرز تھے۔ میرا طریقہ ہے کہ میں کبھی عدلیہ سے لڑتا نہیں بلکہ ان کے ساتھ ساتھ بھاگتا رہتا ہوں، جب تک وہ تھک نہ جائیں۔ مُک مُکا کہہ دینا بہت آسان ہے، مگر ہر کیس کی ایک طویل داستان ہے۔ تمام جُھوٹے مقدمات میں بری ہونے کے بعد کسی سے انتقام لینے کی بجائے میں اپنا معاملہ تاریخ پر چھوڑتا ہوں”۔
اگلی قسط میں ہم بتائیں گے کہ نام نہاد صادق و امین ججوں کا پاکستان کی تباہی و بربادی میں کتنا بھرپور کردار ہے۔ مزید برآں، آصف علی زرداری کے خلاف بے بُنیاد جُھوٹے مقدمات کے سلسلے میں پاکستانی عدالتوں نے آئین شکن ضیاءالحق کی باقیادت کا ستائیس سال تک کس طرح کامل ساتھ دیا۔ (جاری ہے۔)
سوئس کیسز کے حوالے سے یہ خبر میرے جیسے عام پاکستانیوں کے لیے حیران کُن تھی کیونکہ ہم تو 1997ء سے مسلسل سُنتے چلے آ رہے تھے کہ پاکستانی قوم سے لُوٹے ہوئے کرپشن کے چھ ارب روپے سوئٹزر لینڈ میں اکاؤنٹس میں پڑے ہوئے ہیں۔ مگر یہ کیا ہوا، وہاں تو ایک ٹکہ بھی نہیں تھا۔ قوم کے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ؟ یہ بات سمجھ سے باہر تھی کہ یہ مقدمے پاکستان میں دو عدالتوں میں چلنے کے باوجود صاف طور پر جھوٹے ثابت ہو چکے تھے۔ جب سوئٹزر لینڈ میں یہ مقدمے بے بنیاد ثبوتوں کی وجہ سے فائل ہی نہ ہو سکے تھے تو پھر سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج صاحبان کیوں مُسلسل تین سال تک ایک منتخب حکومت کو رگڑا لگاتے رہے تھے؟ ایک وزیر اعظم کو غیر آئینی طور پر نا اہل قرار دے دیا اور دوسرے کو بھی گھر بھیجنے کے درپے تھے۔ کوئی اندازاہ لگا سکتا ہے کہ تین سالوں کے دوران سول حکومت کے سامنے رکاوٹوں کے پہاڑ کھڑے کر کے کتنا نقصان کیا گیا؟ کتنے وسائل ضائع ہوئے؟ غریب عوام کے خُون پسینے کی کمائی کی کتنی خطیر رقم سوئس کیسز چلانے والے منصفین کی تنخواہوں، الاؤنسز، پروٹوکولز اور دیگر سہولتوں پر بربادی ہوئی؟ اِن بھاری بھرکم بنیچوں میں بیٹھے صادق و امین فرشتوں کو پوری قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے ایک بار بھی شرم نہ آئی؟ کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی آئین پاکستان، عدلیہ اور قوم کی توہینِ ہو سکتی ہے؟
میڈیا ہاؤسز میں بیٹھے ڈھولچی بھی کیا اندھے اور خالی کھوپڑی کے ربوٹ تھے، یا پھر ان کے ضمیروں میں رتی برابر رمق باقی نہ تھی، جو سوئس کیسز کے حوالے سے مُسلسل زوردار جُھوٹا پروپیگنڈا کرتے رہے تھے؟
8 ستمبر 2013ء کو صدر آصف علی زرداری ملکی تاریخ میں پہلی بار اسٹیبلشمنٹ کی بار بار مداخلت کے باوجود پانچ سالہ جمہوری صدر کی آئینی مدت مکمل کرنے کے بعد پورے اعزاز کے ساتھ باوقار طریقے سے گارڈ آف آنر لے کر ایوانِ صدر سے رخصت ہو گئے۔
بطورِ صدر استثنٰی ہونے کی وجہ سے سوئس کیسز سمیت جن پانچ مقدمات پر آصف علی زرداری کے خلاف عدالتی کاروائی رُک گئی تھی، وہ مقدمات راولپنڈی کی احتساب عدالت نے 11 اکتوبر 2013ء کو دوبارہ کھول دیئے۔ عدالت نے آصف علی زرداری کو 14 اکتوبر 2013ء کو طلب کر لیا۔
واضح رہے کہ آصف علی زرداری صدرِ پاکستان بننے سے قبل اپنے خلاف سوائے پانچ مقدمات کے سب مقدمات سے باعزت بری ہو چکے تھے اور ان پانچوں مقدمات کو 16 ستمبر 2008ء کو اس وقت زیر التو ڈال دیا گیا تھا، جب آصف علی زرداری ملک کے صدر منتخب ہوئے تھے جبکہ ان مقدمات میں شریک ملزموں کو عدالت پہلے ہی باعزت بری کر چکی تھی۔ اِسی طرح سوئس کیسز کا بھی راولپنڈی کی احتساب عدالت نمبر 2 نے 30 جولائی 2011ء کو اپنا فیصلہ سنایا تھا، جس میں عدالت نے اٹھارہ گواہان کی گواہیوں کے بعد سوئس کیسز خارج کرتے ہوئے واضح طور پر اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ان مقدمات میں کسی بھی ملزم کے خلاف کرپشن، رشوت، کمیشن اور سیاسی دباؤ ڈالنے کے الزامات ثابت نہیں ہوتے۔ تمام الزامات من گھڑت اور جھوٹے تھے۔ ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز کو پری شپمنٹ انسپیکشن کے ٹھیکے خالصتاً میرٹ پر دیئے گئے۔ ان دونوں ٹھیکوں کے عوض قومی خزانے کو ایک پائی کا نقصان ثابت نہیں ہوا بلکہ اس کنٹریکٹ سے پاکستان کو سالانہ 58 ارب روپے کا فائدہ پہنچا تھا۔ عدالت نے آصف علی زرداری کے بارے میں اپنے فیصلے میں لکھا کہ انھیں اس وقت صدرِ پاکستان ہونے کی وجہ سے استثنٰی حاصل ہے، جب یہ استثنٰی حاصل نہیں رہے گا، تب اُس وقت ٹرائل دوبارہ شروع ہو گا۔
المختصر سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئسز کیسز کی دوبارہ سماعت کے دوران عدالت کی بار بار کی ہدایات کے باوجود استغاثہ عدالت میں کوئی ثبوت پیش نہ کر سکا۔ 24 نومبر 2015ء کو عدالت نے آصف علی زرداری کو بھی سوئس کیسز میں باعزت بری کر دیا۔ 1997ء سے لے کر 2015ء یعنی اٹھارہ سال تک نیب سوئس کیسز (ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا ریفرنسز) کے سلسلے میں کوئی بھی ٹھوس شواہد پیش نہیں کر سکا تھا۔
یہاں سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کی صداقت، امانت، دیانت اور قابلیت کو داد دینا بنتا ہے۔ ڈبل جیوپرڈی پوری دنیا کا مسلمہ قانون ہے یعنی ایک مقدمہ دو بار سماعت نہیں ہو سکتا۔ یہ “انصاف پسند” منصف بذاتِ خود سپریم کورٹ کے اُس بینچ میں شامل تھے، جس نے مئی 2001ء میں شریفوں اور ججوں کی ملی بھگت طشتِ ازبام ہونے پر ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز سے متعلقہ مقدمات میں محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی سزائیں خلافِ قانون قرار دیں تھیں مگر مقدمات کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا۔ دوبارہ سماعت کے بعد جولائی 2011ء کو احتساب عدالت میں یہ مقدمات ایک بار پھر جھوٹے ثابت ہوئے۔ پھر اس کے باوجود چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور ان کے ساتھی جج صاحبان یعنی صادق و امین فرشتے سوئٹزرلینڈ میں کون سے مقدمات کو کھلوانا چاہتے تھے حالانکہ یہ اچھی طرح جانتے تھے یہ کیسز ابتدائی انکوائری کے بعد فائل ہی نہیں ہو سکے تھے؟ اِنصاف کے منصبِ اعلٰی پر بیٹھے صادق و امین فرشتوں کو یہ بھی اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ مقدمات بنانے اور چلانے والے حکمران معافیاں مانگ چکے اور برملا اِقرار کر چکے کہ یہ مقدمات صریحاً جُھوٹے بنائے گئے تھے۔ بعد میں جب سپریم کورٹ کے ججز تین سالہ خط کہانی چلا رہے تھے، تو سوئس حکام اپنے نقطہ نظر سے مُسلسل آگاہی دے رہے تھے، پھر ایک منتخب وزیراعظم کو غیر آئینی طور پر گھر بھیج کر انھوں کون سی ملک و قوم کی خدمت کی؟ آئین شکن ضیاءالحق کی باقیادت کی اس کھلی بدنیتی اور نا انصافی میں عقل والوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں۔
سوئس کیسز میں بریت کے بعد آصف علی زرداری کے خلاف ایک اثاثہ جات کا مقدمہ باقی تھا، جو نواز شریف نے سربراہ احتساب بیورو سیف الرحمٰن کے ذریعے اثاثہ جات ریفرنس احتساب ایکٹ 1997ء کے تحت 1998ء میں قائم کیا تھا، جس میں آصف علی زرداری پر ناجائز اثاثے بنانے کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس ریفرنس میں آصف علی زرداری کے علاوہ بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو بھی شریک ملزم تھیں، تاہم ان کی وفات کے بعد ان کے نام اس ریفرنس سے خارج کر دیئے گئے تھے۔ اس مقدمے کی سماعت کے دوران بھی نیب پراسیکیوٹر کوئی ثبوت پیش نہ کر سکا اور اِس کیس میں چالیس گواہوں پر جرح کی گئی، جو تمام کے تمام جھوٹے ثابت ہوئے۔ کسی ایک گواہی اور ڈاکومنٹ سے کوئی کرپشن، کوئی کک بیک اور کسی قسم کا کمیشن ثابت نہ ہوا۔ 26 اگست 2017ء کو عدالت نے اس آخری مقدمے میں بھی آصف علی زرداری کو باعزت بری کر دیا۔ اس طرح 1990ء سے شروع ہونے والے جھوٹے سیاسی مقدمات کا 27 سال بعد یعنی 2017ء کو اختتام ہوا۔
آصف علی زرداری نے تمام جھوٹے مقدمات سے باعزت بری ہونے کے بعد بجا طور پر کہا کہ “میرے دشمن میرے خلاف کچھ ثابت نہیں کر سکے۔ مجھ پر تمام کیسز سیاسی طور پر بنائے گئے اور سب کے سب ختم ہو گئے، ہر کیس میں چار چار پانچ پانچ سو پیشیاں ہوئی ہیں۔ ہر کیس میں آٹھ آٹھ پراسیکیوٹرز تھے۔ میرا طریقہ ہے کہ میں کبھی عدلیہ سے لڑتا نہیں بلکہ ان کے ساتھ ساتھ بھاگتا رہتا ہوں، جب تک وہ تھک نہ جائیں۔ مُک مُکا کہہ دینا بہت آسان ہے، مگر ہر کیس کی ایک طویل داستان ہے۔ تمام جُھوٹے مقدمات میں بری ہونے کے بعد کسی سے انتقام لینے کی بجائے میں اپنا معاملہ تاریخ پر چھوڑتا ہوں”۔
اگلی قسط میں ہم بتائیں گے کہ نام نہاد صادق و امین ججوں کا پاکستان کی تباہی و بربادی میں کتنا بھرپور کردار ہے۔ مزید برآں، آصف علی زرداری کے خلاف بے بُنیاد جُھوٹے مقدمات کے سلسلے میں پاکستانی عدالتوں نے آئین شکن ضیاءالحق کی باقیادت کا ستائیس سال تک کس طرح کامل ساتھ دیا۔ (جاری ہے۔)
“کرپٹ زرداری” اور صادق و امین فرشتوں کی اصل کہانی (8)
زیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کی غیر آئینی نا اہلی کے بعد راجہ پرویز اشرف
وزیرِ اعظم بنے، تو عدالتِ عظمٰی نے اُن کو بھی صدر آصف علی زرداری کے
خلاف مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے سوئس حکام کو خط لکھنے کا حکم دیا۔ خط کے
متن پر عدالت عظمٰی اور دوسرے وزیرِ اعظم میں بھی اختلاف چلتا رہا۔ آخر
کار وزارتِ عظمٰی نے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو بھی توہینِ عدالت کا
نوٹس جاری کر دیا۔
ہم یہاں یاد دلاتے چلیں کہ جب عدالتِ عظمٰی وزراء اعظم کو صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے خلاف سوئٹرزلینڈ میں بند کیسز کھلوانے کے لیے خط لکھوانے پر بضد تھی، اُس وقت سوئس حکام اس کھیل پر حیران تھے کہ یہ کون سے بند مقدمے کھلوانا چاہتے ہیں کیونکہ ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز سے متعلقہ کیسز (سوئس کیسز) سرے سے موجود ہی نہیں تھے۔ سوئٹرزلینڈ میں اِن کیسز کی فقط انکوائری ہوئی، جس کی کوئی عدالتی اہمیت نہیں تھی اور شواہد نہ ہونے پر سوئٹزر لینڈ میں مقدمے فائل بھی نہیں ہو سکے تھے۔ سوئس حکام اس سے قبل بھی ایسی صورتحال سے دوچار ہوئے تھے، جب سوئس کیسز میں جسٹس قیوم ملک کی طرف سے سنائی جانے والی گٹھ جوڑ پر مبنی سزائیں سُنائی گئی تھیں۔
سوئس حکام یہ حقیقت بھی جان چکے تھے کہ محترمہ بینظیر بھٹو کی دوسری حکومت ختم ہونے کے دن یعنی 4 نومبر 1996ء کو ہی آصف علی زرداری کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اُس کے بعد 21 مئی 1997ء کو اے اے زی اور بی بی کے کوڈ نام سے دو اکاؤنٹس سوئٹزر لینڈ میں کھولے گئے۔ آصف علی زرداری کی گرفتاری کے ساڑھے چھ ماہ بعد دو خطوط بنائے گئے، جن پر آصف علی زرداری کا ایڈریس درج کیا گیا۔ اِن خطوط میں بیس بیس ملین ڈالرز بطور کمیشن مندرجہ بالا اکاؤنٹس میں بھجوانے کا ذکر تھا۔ جب دونوں خطوط کا اوریجنل لیٹر ہیڈز سے موازنہ ہوا تو کیمیکل رپورٹ کے مطابق دونوں خطوط جعلی نکلے مگر پھر بھی جسٹس قیوم ملک نے محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو 1999ء میں سزائیں سنا دیں، جو 2001ء میں ججوں اور شریفوں کی ملی بھگت پر مبنی پکڑی جانے والی گفتگو کی ریکارڈڈ ٹیپس کی وجہ سے سپریم کورٹ آف پاکستان نے کالعدم قرار دے دیں۔ سوئس حکام کو یہ بھی یاد تھا کہ کس طرح شریف حکومت نے مئی 1997ء میں کھولے گئے اکاؤنٹس میں موجود رقم سے متعلق تین بار مؤقف بدلتے ہوئے شکایت کی تھی۔ شریف حکومت نے سب سے پہلے اسے کِک بیکس کہا، پھر منی لانڈرنگ کا ڈھونگ رچایا اور آخر میں کہا کہ یہ تو منشیات کی کمائی ہے۔ شریف حکومت کی یہ سب جعل سازیاں انکوائری میں ہی ٹھس ہو گئیں اور سوئٹزر لینڈ میں سرے سے مقدمات فائل ہی نہ ہو سکے تھے۔
نام نہاد آزاد عدلیہ، مسلم لیگ (ن) اور میڈیا کے گٹھ جوڑ نے پورے پاکستان کو اپنے پروپیگنڈے سے مکمل طور پر جکڑا ہوا تھا مگر سوئس حکام وطنِ عزیز کی اِس مضحکہ خیز صورت حال پر ہنستے تھے کہ یہ کیسے احمق لوگ ہیں جو ایک جھوٹے مقدمات پر اپنا وقت و وسائل ضائع کرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے لیے بھی خوامخواہ کی مصیبت بنے ہوئے ہیں۔
جنیوا کے اٹارنی جنرل (پروسیکیوٹر جنرل) ڈینیل زیپیلی نے میڈیا کو بڑے واضح انداز میں بتایا کہ سوئس حکومت پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات نہیں چلا سکتی کیونکہ آصف علی زرداری کو بطور سربراہِ مملکت مکمل استثنیٰ حاصل ہے۔ انٹرنیشنل قانون کے مطابق صدر، وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ کو عالمی استثنٰی حاصل ہوتا ہے۔
اس سے قبل جنیوا کے اٹارنی جنرل فرانکوئس راجر مچلی (جس نے 1997ء سے 2008ء تک سوئس کیس میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی) نے سوئس فیڈرل محکمہ خارجہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ سربراہان ریاست کو بیرون ملک فوجداری کاروائی سے مکمل استثنٰی ہوتا ہے۔ اُنھوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ “باہمی قانونی معاونت کی اصل روح یہ ہے کہ سوئزر لینڈ کسی دوسرے ملک کی تحقیقات میں مدد کرتا ہے۔ اگر درخواست گذار ملک میں کوئی تفتیش نہیں ہو رہی تو پھر قانونی معاونت کے لیے درخواست کا کوئی جواز نہیں۔” (ہمارے ہاں پاکستان میں تفتیش کا یہ حال تھا کہ عدالت میں سوئس مقدمات کی دو بار سماعت کے ہونے کے باوجود مقدمات سو فیصد جھوٹے ثابت ہو چکے تھے)۔
ان مقدمات میں شریف حکومت کے وکیل جیکؤس پاتھن بھی پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ پاکستانی سپریم کورٹ کا جو مرضی فیصلہ آئے مگر سوئس حکام کو سوئس قوانین اور انٹرنیشنل لاء اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ کسی ملک کے صدر مملکت کے خلاف کیسز شروع کیے جا سکیں۔ مزید برآں، جیکؤس پاتھن کا یہ اقرار بھی میڈیا پر موجود ہے کہ سوئس جج ڈینیل ڈیواؤ نے شریفین کی مشہورِ زمانہ چمک کے لشکاروں کے باوجود سزا دینے سے انکار کیا تھا کیونکہ ان کیسز میں سرے سے کوئی ثبوت موجود ہی نہ تھا، جس سے معلوم ہوتا ہو کہ نامزد ملزمان نے مذکورہ کمپنیوں سے کمیشن وصول کیا ہے۔
سوئس حکام میڈیا پر واضح طور پر کہہ رہے تھے کہ پاکستانی عدالتوں کا بھلے کوئی بھی فیصلہ آئے، سوئس قوانین سوئس حکام کو یہ قطعاً اجازت نہیں دیتے کہ ایک سربراہ مملکت کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔ اُنھوں نے بارہا بتایا کہ اگر پاکستان سے کوئی بھی ادارہ ہمیں لکھے، تب بھی سوئس عدالت دوبارہ اِن کیسز کی انکوائری نہیں کر سکتی۔ ویسے بھی سوئس قانون کے مطابق لیمیٹیشن ایکٹ کے تحت پندرہ سال میں مقدمہ بند کر دیا جاتا ہے۔ اُن کا صاف پیغام تھا کہ چاہے کچھ بھی ہو سوئس کورٹ یہ کام نہیں کر سکتی۔
پاکستان میں منصفی کے عہدے پر براجمان “صادق و امین فرشتے” یقینی طور یہ اصل حقائق جانتے تھے مگر انھوں نے اپنے ایجنڈے پورے کرنے تھے ورنہ حقائق تو چیخ چیخ کر اپنی سچائی کا اعلان کر رہے تھے۔
المختصر، خط کہانی چلاتے چلاتے “آزاد عدلیہ” بند گلی کے آخری سِرے پر پہنچ کر خود ہی پھنس گئی۔ اس غیر آئینی کھیل میں اس کے لیے راہ فرار مشکل ہو گئی۔ آخر کار عدالتِ عظمٰی کو خط کے متن کے حوالے سے حکومتی مؤقف تسلیم کرنا پڑا۔ عدلیہ نے حکومت کے ساتھ “چیمبر ڈیل” کے بعد عدالتی حکم کے تحت حکومت نے 7 نومبر 2012ء کو سوئس حکام کو خط میں لکھا گیا کہ 2008ء میں اس وقت کے اٹارنی جنرل ملک قیوم کی طرف سے آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات کو بند کرنے کے خط کو واپس تصور کیا جائے۔ تاہم خط میں یہ بھی لکھا گیا کہ پاکستان کے صدر کو جو عالمی سطح پر ایسے مقدمات سے استثنٰی حاصل ہے، اسے نہیں چھیڑا جائے گا۔ اِسی متن کے ساتھ خط لکھنے کی بار بار درخواستیں تو حکومتی وکیل اعتزاز احسن وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کے دور میں بھی کرتے رہے تھے۔ اب یہاں سوال اُٹھتا ہے کہ یہ خط تو پہلے بھی لکھا جا سکتا تھا پھر صداقت و امانت کے درجے پر فائز آزاد عدلیہ کے صادق و امین فرشتوں (یاد رہے کہ اس وقت اس کیس کی سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں عدالت عظمٰی کا پانچ رکنی بنچ کر رہا تھا اور اس بینچ میں سارے کے سارے فرشتے پی سی او زدہ تھے) نے ایک منتخب وزیرِاعظم کو گھر بھیج کر ایک اور داغِ تذلیل پاکستانی عدلیہ کے سینے پر کیوں سجایا؟ کیا اِس سے آئین و قانون کی اصل تعبیر و تشریح سے پرہیز کرنے والے خود پسند اور تذبذب و خلجان کے مارے آزاد عدلیہ کے ججوں کا آمریت پسند رویہ کھل کر سامنے نہیں آتا؟
اگلی قسط میں ہم لکھیں گے کہ ایک منتخب وزیرِ اعظم کی نااہلی، پاکستان کی پوری دنیا میں بدنامی اور تین سال تک مسلسل تکرار پر ملکی خزانے کی بربادی کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے لکھوائے گئے خط کا سوئس حکام نے کیا جواب دیا؟
(جاری ہے)۔
ہم یہاں یاد دلاتے چلیں کہ جب عدالتِ عظمٰی وزراء اعظم کو صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے خلاف سوئٹرزلینڈ میں بند کیسز کھلوانے کے لیے خط لکھوانے پر بضد تھی، اُس وقت سوئس حکام اس کھیل پر حیران تھے کہ یہ کون سے بند مقدمے کھلوانا چاہتے ہیں کیونکہ ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز سے متعلقہ کیسز (سوئس کیسز) سرے سے موجود ہی نہیں تھے۔ سوئٹرزلینڈ میں اِن کیسز کی فقط انکوائری ہوئی، جس کی کوئی عدالتی اہمیت نہیں تھی اور شواہد نہ ہونے پر سوئٹزر لینڈ میں مقدمے فائل بھی نہیں ہو سکے تھے۔ سوئس حکام اس سے قبل بھی ایسی صورتحال سے دوچار ہوئے تھے، جب سوئس کیسز میں جسٹس قیوم ملک کی طرف سے سنائی جانے والی گٹھ جوڑ پر مبنی سزائیں سُنائی گئی تھیں۔
سوئس حکام یہ حقیقت بھی جان چکے تھے کہ محترمہ بینظیر بھٹو کی دوسری حکومت ختم ہونے کے دن یعنی 4 نومبر 1996ء کو ہی آصف علی زرداری کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اُس کے بعد 21 مئی 1997ء کو اے اے زی اور بی بی کے کوڈ نام سے دو اکاؤنٹس سوئٹزر لینڈ میں کھولے گئے۔ آصف علی زرداری کی گرفتاری کے ساڑھے چھ ماہ بعد دو خطوط بنائے گئے، جن پر آصف علی زرداری کا ایڈریس درج کیا گیا۔ اِن خطوط میں بیس بیس ملین ڈالرز بطور کمیشن مندرجہ بالا اکاؤنٹس میں بھجوانے کا ذکر تھا۔ جب دونوں خطوط کا اوریجنل لیٹر ہیڈز سے موازنہ ہوا تو کیمیکل رپورٹ کے مطابق دونوں خطوط جعلی نکلے مگر پھر بھی جسٹس قیوم ملک نے محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو 1999ء میں سزائیں سنا دیں، جو 2001ء میں ججوں اور شریفوں کی ملی بھگت پر مبنی پکڑی جانے والی گفتگو کی ریکارڈڈ ٹیپس کی وجہ سے سپریم کورٹ آف پاکستان نے کالعدم قرار دے دیں۔ سوئس حکام کو یہ بھی یاد تھا کہ کس طرح شریف حکومت نے مئی 1997ء میں کھولے گئے اکاؤنٹس میں موجود رقم سے متعلق تین بار مؤقف بدلتے ہوئے شکایت کی تھی۔ شریف حکومت نے سب سے پہلے اسے کِک بیکس کہا، پھر منی لانڈرنگ کا ڈھونگ رچایا اور آخر میں کہا کہ یہ تو منشیات کی کمائی ہے۔ شریف حکومت کی یہ سب جعل سازیاں انکوائری میں ہی ٹھس ہو گئیں اور سوئٹزر لینڈ میں سرے سے مقدمات فائل ہی نہ ہو سکے تھے۔
نام نہاد آزاد عدلیہ، مسلم لیگ (ن) اور میڈیا کے گٹھ جوڑ نے پورے پاکستان کو اپنے پروپیگنڈے سے مکمل طور پر جکڑا ہوا تھا مگر سوئس حکام وطنِ عزیز کی اِس مضحکہ خیز صورت حال پر ہنستے تھے کہ یہ کیسے احمق لوگ ہیں جو ایک جھوٹے مقدمات پر اپنا وقت و وسائل ضائع کرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے لیے بھی خوامخواہ کی مصیبت بنے ہوئے ہیں۔
جنیوا کے اٹارنی جنرل (پروسیکیوٹر جنرل) ڈینیل زیپیلی نے میڈیا کو بڑے واضح انداز میں بتایا کہ سوئس حکومت پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات نہیں چلا سکتی کیونکہ آصف علی زرداری کو بطور سربراہِ مملکت مکمل استثنیٰ حاصل ہے۔ انٹرنیشنل قانون کے مطابق صدر، وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ کو عالمی استثنٰی حاصل ہوتا ہے۔
اس سے قبل جنیوا کے اٹارنی جنرل فرانکوئس راجر مچلی (جس نے 1997ء سے 2008ء تک سوئس کیس میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی) نے سوئس فیڈرل محکمہ خارجہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ سربراہان ریاست کو بیرون ملک فوجداری کاروائی سے مکمل استثنٰی ہوتا ہے۔ اُنھوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ “باہمی قانونی معاونت کی اصل روح یہ ہے کہ سوئزر لینڈ کسی دوسرے ملک کی تحقیقات میں مدد کرتا ہے۔ اگر درخواست گذار ملک میں کوئی تفتیش نہیں ہو رہی تو پھر قانونی معاونت کے لیے درخواست کا کوئی جواز نہیں۔” (ہمارے ہاں پاکستان میں تفتیش کا یہ حال تھا کہ عدالت میں سوئس مقدمات کی دو بار سماعت کے ہونے کے باوجود مقدمات سو فیصد جھوٹے ثابت ہو چکے تھے)۔
ان مقدمات میں شریف حکومت کے وکیل جیکؤس پاتھن بھی پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ پاکستانی سپریم کورٹ کا جو مرضی فیصلہ آئے مگر سوئس حکام کو سوئس قوانین اور انٹرنیشنل لاء اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ کسی ملک کے صدر مملکت کے خلاف کیسز شروع کیے جا سکیں۔ مزید برآں، جیکؤس پاتھن کا یہ اقرار بھی میڈیا پر موجود ہے کہ سوئس جج ڈینیل ڈیواؤ نے شریفین کی مشہورِ زمانہ چمک کے لشکاروں کے باوجود سزا دینے سے انکار کیا تھا کیونکہ ان کیسز میں سرے سے کوئی ثبوت موجود ہی نہ تھا، جس سے معلوم ہوتا ہو کہ نامزد ملزمان نے مذکورہ کمپنیوں سے کمیشن وصول کیا ہے۔
سوئس حکام میڈیا پر واضح طور پر کہہ رہے تھے کہ پاکستانی عدالتوں کا بھلے کوئی بھی فیصلہ آئے، سوئس قوانین سوئس حکام کو یہ قطعاً اجازت نہیں دیتے کہ ایک سربراہ مملکت کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔ اُنھوں نے بارہا بتایا کہ اگر پاکستان سے کوئی بھی ادارہ ہمیں لکھے، تب بھی سوئس عدالت دوبارہ اِن کیسز کی انکوائری نہیں کر سکتی۔ ویسے بھی سوئس قانون کے مطابق لیمیٹیشن ایکٹ کے تحت پندرہ سال میں مقدمہ بند کر دیا جاتا ہے۔ اُن کا صاف پیغام تھا کہ چاہے کچھ بھی ہو سوئس کورٹ یہ کام نہیں کر سکتی۔
پاکستان میں منصفی کے عہدے پر براجمان “صادق و امین فرشتے” یقینی طور یہ اصل حقائق جانتے تھے مگر انھوں نے اپنے ایجنڈے پورے کرنے تھے ورنہ حقائق تو چیخ چیخ کر اپنی سچائی کا اعلان کر رہے تھے۔
المختصر، خط کہانی چلاتے چلاتے “آزاد عدلیہ” بند گلی کے آخری سِرے پر پہنچ کر خود ہی پھنس گئی۔ اس غیر آئینی کھیل میں اس کے لیے راہ فرار مشکل ہو گئی۔ آخر کار عدالتِ عظمٰی کو خط کے متن کے حوالے سے حکومتی مؤقف تسلیم کرنا پڑا۔ عدلیہ نے حکومت کے ساتھ “چیمبر ڈیل” کے بعد عدالتی حکم کے تحت حکومت نے 7 نومبر 2012ء کو سوئس حکام کو خط میں لکھا گیا کہ 2008ء میں اس وقت کے اٹارنی جنرل ملک قیوم کی طرف سے آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات کو بند کرنے کے خط کو واپس تصور کیا جائے۔ تاہم خط میں یہ بھی لکھا گیا کہ پاکستان کے صدر کو جو عالمی سطح پر ایسے مقدمات سے استثنٰی حاصل ہے، اسے نہیں چھیڑا جائے گا۔ اِسی متن کے ساتھ خط لکھنے کی بار بار درخواستیں تو حکومتی وکیل اعتزاز احسن وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کے دور میں بھی کرتے رہے تھے۔ اب یہاں سوال اُٹھتا ہے کہ یہ خط تو پہلے بھی لکھا جا سکتا تھا پھر صداقت و امانت کے درجے پر فائز آزاد عدلیہ کے صادق و امین فرشتوں (یاد رہے کہ اس وقت اس کیس کی سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں عدالت عظمٰی کا پانچ رکنی بنچ کر رہا تھا اور اس بینچ میں سارے کے سارے فرشتے پی سی او زدہ تھے) نے ایک منتخب وزیرِاعظم کو گھر بھیج کر ایک اور داغِ تذلیل پاکستانی عدلیہ کے سینے پر کیوں سجایا؟ کیا اِس سے آئین و قانون کی اصل تعبیر و تشریح سے پرہیز کرنے والے خود پسند اور تذبذب و خلجان کے مارے آزاد عدلیہ کے ججوں کا آمریت پسند رویہ کھل کر سامنے نہیں آتا؟
اگلی قسط میں ہم لکھیں گے کہ ایک منتخب وزیرِ اعظم کی نااہلی، پاکستان کی پوری دنیا میں بدنامی اور تین سال تک مسلسل تکرار پر ملکی خزانے کی بربادی کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے لکھوائے گئے خط کا سوئس حکام نے کیا جواب دیا؟
(جاری ہے)۔
“کرپٹ زرداری” اور صادق و امین فرشتوں کی اصل کہانی (7)
ڈبل پی سی او زدہ مگر اپنے تئیں سب سے بڑے صادق و امین چیف جسٹس افتخار
محمد چوہدری 22 مارچ 2009ء کو بحال ہو چکے تھے۔ آصف علی زرداری ان کی سیاسی
معاملات میں دلچسپی کے علاوہ دو ٹھوس وجوہات کی بنیاد پر اِن کی بحالی کے
حق میں نہ تھے کیوںکہ ایک تو میثاقِ جمہویت کے برخلاف یہ بات تھی کہ کسی پی
سی او زدہ جج کو چیف جسٹس بنایا جائے، دوسری بات یہ کہ آصف علی زرداری کا
نکتہ نظر بہت واضح تھا کہ آئین کے تحفظ کی قسم کھانے اور پھر آئین توڑنے
والے ڈکٹیٹر کی حمایت اور توثیق کرنے والے جج کسی صورت میں صادق و امین
نہیں ہوتے بلکہ سب سے بڑے جھوٹے اور بد دیانت ہوتے ہیں۔
آج روزِ روشن کی طرح یہ واضح ہو چکا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف شریفین کی افتخار محمد چوہدری کے ساتھ ملی بھگت تھی، اِس جج نے سپریم کورٹ کو پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف پروپیگنڈا سیل بنا کر اِس مقدس ادارے کی توہین کرنے میں تمام حدیں پار کر دیں۔ اس دور میں انتہائی منظم طریقے سے صحافتی گوئبلز کے ذریعے اخبارات میں جھوٹی خبریں چھپوائی جاتیں، پھر اُن پر سو موٹو ایکشن لے کر میڈیا پر پروپیگنڈے کا ایک نیا طوفان برپا کر دیا جاتا۔
2001ء میں شریفوں اور لاہور ہائی کورٹ کے ججوں کی ملی بھگت طشت ازبام ہونے پر سپریم کورٹ کی طرف سے سوئس مقدمات میں محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی سزائیں کالعدم قرار دینے کے بعد اِن مقدمات کی سماعت احتساب عدالت میں جاری تھی۔ آصف علی زرداری کے مخالفین اُس وقت تک بھی ذِلت آمیز خوارگی کے باوجود اُن کے خلاف کچھ ثابت نہیں کر سکے تھے۔ بہت سوچ بچار کے بعد زرداری کے مخالفین نے این آر او کی پٹاری سے سوئس کیسز کو سب سے اہم آئیٹم سمجھ کر نکالنے اور شعبدہ بازی شروع کرنے کا پلان بنایا۔ 16 دسمبر 2009ء کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں فُل کورٹ بینچ نے این آر او کو کالعدم قرار دے کر اس کے تحت بند ہونے والے تمام مقدمات دوبارہ کھول دیئے۔ اِس سے قبل افتخار محمد چوہدری نے 9 دسمبر 2009ء کو این آر او کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران سوئس کیسز کی تفصیل طلب کر لی تھی، جس پر نیب کے پراسیکیوٹر جنرل دانشور ملک نے عدالت کو بتایا کہ یہ مقدمات حکومت پاکستان کی ایماء پر 2008ء (پرویز مشرف کی حکومت کے دوران) میں ختم کیا گیا تھا اور اُس وقت کے اٹارنی جنرل ملک قیوم نے اُنہیں اس بارے میں تحریری طور پر آگاہ کیا تھا۔ مزیدبرآں، وہ اس ضمن میں سابق اٹارنی جنرل کے ہمراہ جنیوا بھی گئے تھے۔
یاد رہے کہ 4 مارچ 2008ء کو سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر آصف علی زرداری کے خلاف سوئس حکام کو ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کیسز سے متعلق کاروائی روک دینے کے لیے خط لکھنے والے پرویز مشرف حکومت کے اٹارنی جنرل کوئی اور نہیں بلکہ وہی لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس قیوم ملک تھے، جنھوں نے محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو سوئس کیسز میں شریفین کے ساتھ ملی بھگت کر کے سزائیں دی تھیں۔ سزاؤں کے دو سال بعد ناقابلِ تردید یہ ملی بھگت پکڑی جانے کے بعد سپریم کورٹ نے سزائیں کالعدم قرار دے دیں اور جسٹس قیوم ملک اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس راشد عزیز کو گھر جانا پڑا تھا۔ شاید یہ قدرت کا انتقام تھا کہ ان مقدمات کے ہر اہم کردار کو بذاتِ خود ان مقدمات کی نفی کرنی پڑی۔
سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کو ہدایت کی کہ وہ سوئس حکام کو ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کیسز دوبارہ کھولنے کے لیے خط لکھے۔ اِس طرح عدالتِ عظمٰی میں سوئس کیسز سے متعلق حکومتِ پاکستان سے سوئٹزر لینڈ کے حکام کو خط لکھ کر ان کیسز کو وہاں کھولوانے کا فضول تھیٹر شروع کر دیا گیا، جس کا مزید تین سال تک کھڑکی توڑ شو جاری رہا۔ تعفُّن زدہ عدالتی ڈائیلاگز کو چسکے لے لے کر ہر شام ٹی وی سکرینوں پر دُہرایا گیا، اخبارات میں چیختی چنگھاڑتی سُرخیوں کے ذریعے دروغ گوئی کے ریکارڈ قائم کیے گئے۔ قوم کو چھ ارب روپے کی رقم کی خالی پیلی آمد کی تکرار کا تشدد مُسلسل سہنا پڑا۔
وفاقی حکومت کا سپریم کورٹ کے حکم پر سوئس حکام کو خط لکھنے پر موقف تھا کہ ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز سے متعلقہ کیسز سوئٹزر لینڈ کی عدالت میں فائل نہیں ہوے، اس لیے مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے سوئس حکام کو خط لکھنا بے سود ہو گا۔ مزید برآں، صدرِ پاکستان کو عدالتی کاروائی سے استثنٰی حاصل ہے۔ حکومتی وکیل کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوانین پر صرف پاکستان کی حدود میں ہی عملدر آمد ہو سکتا ہے جبکہ بیرون ملک عدالتوں کو سپریم کورٹ احکامات جاری نہیں کر سکتی۔ عدالتِ عظمیٰ کو اس پر نظر ثانی کرنی چاہیے کیونکہ کسی شخص کو ایک مقدمے میں دو بار سزا نہیں دی جا سکتی۔
18 اپریل 2012ء کو سپریم کورٹ نے کہا کہ کسی ملک کے صدر یا سفارت کار کے خلاف فوجداری یا دیوانی مقدمے میں کارروائی بیرونی ملک کے دورے کے دوران نہیں ہو سکتی اور جس سربراہ کو استثنیٰ درکار ہو تو اُسے چاہیے کہ وہ عدالت سے رجوع کرے۔
قارِئِینِ کِرام! یہاں ہم دیکھتے چلیں کہ آئین کا آرٹیکل 248 کیا ہے؟ اس آرٹیکل میں بہت واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ “صدر یا گورنر کے خلاف، اس کے عہدے کی میعاد کے دوران کسی عدالت میں کوئی فوجداری مقدمات نہ قائم کیے جائیں گے اور نہ ہی جاری رکھے جائیں گے”۔
عدالتِ عظمٰی میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے معاملے میں اگر صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کو سوئس مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کی مثال قائم کر دی گئی تو پھر مستقبل میں کسی بھی غیر ملکی عدالت میں پاکستانی صدر یا آرمی چیف کو بھی پیش کرنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ اُنہوں نے ریمنڈ ڈیوس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اپنے ایک عام شہری کو فوجداری مقدمے میں ملوث ہونے کے باوجود اُسے پاکستان سے نکال کر لے گیا اور آپ (بینچ) اپنے منتخب صدر کو اتنا بھی احترام نہیں دیں گے؟ اعتزاز احسن نے بھارتی اداکار شاہ رُخ خان کی امریکہ میں گرفتاری کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا کہ بھارتی حکومت نے اس پر شدید احتجاج کیا تھا، جس پر امریکہ کو معافی مانگنی پڑی جبکہ اس کے برعکس ہم اپنے منتخب صدر کو غیر ملکی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کے لیے خط لکھنے پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی عدالتی حکم پر سوئس حکام کو خط لکھنے پر تیار تھے مگر عدلیہ اور وزیرِ اعظم میں خط کے متن پر اختلاف جاری رہا۔ یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم کے طور پر آئین پاکستان کے تحت اُٹھائے گئے حلف کو پسِ پشت ڈال کر میں کیسے یہ خط لکھ دوں؟ جس پر عدلیہ نے توہینِ عدالت کے نوٹس جاری کر دیئے۔ بعد ازاں، 26 اپریل 2012ء کو سپرم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے انہیں ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے دور میں جاری کیے گئے توہین عدالت کے آرڈیننس 2003ء کے سیکشن پانچ کے تحت جرم کا مرتکب قرار دے کر عدالت کی برخاستگی تک کی سزا سنا دی، جو تیس سکینڈ میں پوری ہو گئی۔ اُسی دن سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہینِ عدالت کے فیصلے کی روشنی میں ضروری کارروائی کی خاطر قومی اسمبلی کی سپیکر کو خط تحریر کیا، جس میں کہا گیا کہ انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ عدالتی حکم کی تعمیل کے لیے سپیکر کی توجہ مبذول کرائیں۔
24 مئی 2012ء کو قومی اسمبلی کی سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے توہین عدالت کیس میں سید یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کو مسترد کرنے کی رولنگ جاری کی کہ آئین اور توہینِ عدالت کی شِقوں، سپریم کورٹ کے ماضی میں دیئے گئے احکامات اور سپیکر کی سابقہ رولنگز کے مطابق سپریم کورٹ کی طرف سے وزیرِ اعظم کو نا اہلی کی سزا نہیں دی جا سکتی۔
28 مئی 2012ء کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی طرف سے خواجہ محمد آصف اور پاکستان تحریکِ انصاف کی طرف سے عمران احمد خان نیازی نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی اہلیت سے متعلق سپیکر کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کر دیں۔ 6 جون 2012ء کو عدالتِ عظمٰی نے سپیکر کی رولنگ سے متعلق دائر درخواستوں پر وفاق، وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور قومی اسمبلی کی سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کر دیئے۔ 14 جون 2012ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں ایک قرار داد منظور ہوئی، جس میں کہا گیا کہ وزیر اعظم کو نااہل قرار نہ دینے کے بارے میں سپیکر کی رولنگ کو آئین کے مطابق کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ آخر کار سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے 19 جُون 2012ء کو یوسف رضا گیلانی کو غیر آئینی طور پر نااہل قرار دے دیا۔ عدالت کے مطابق وہ فیصلے کی تاریخ (26 اپریل 2010ء) سے ملک کے وزیرِ اعظم بھی نہیں رہے اور یہ عہدہ اس دن سے خالی تصور کیا جائے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھی حکم دیا کہ وہ 26 اپریل 2010ء سے ہی یوسف رضا گیلانی کی مجلسِ شوریٰ کی رکنیت ختم کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کرے۔ جس کے بعد الیکشن کمیشن نے عدالت عظمیٰ کے حکم پر وزیر اعظم گیلانی کی نااہلی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا۔ اس طرح توہینِ عدالت کی سزا کی وجہ سے آرٹیکل 63 ون جی کے تحت پانچ سال کی نااہلی کی سزا بھی شامل تھی۔
یاد رہے کہ وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کی نااہلی سے قبل راولپنڈی کی احتساب عدالت نمبر 2 نے 30 جولائی 2011ء کو ان مقدمات کے لیے جمع کرائی گئی ساری جعلی دستاویزات کی وجہ سے کیسز خارج کر دیئے تھے (جس کی پوری تفصیل ہم اِس آرٹیکل کی پانچویں قسط میں لکھ چکے ہیں)۔ پھر حیرانی سی حیرانی ہے کہ ایک منتخب وزیرِ اعظم کو غیر آئینی طور پر فارغ کرنے اور بار بار ثابت شدہ جھوٹے کیسز چلانے کے پیچھے “آزاد عدلیہ” کے کیا عزائم تھے؟
اگلی قسط میں لکھیں گے کہ کس طرح یوسف رضا گیلانی کی غیر آئینی نااہلی کے بعد وزیرِ اعظم پرویز اشرف کے ساتھ بھی “آزاد عدلیہ” خط کہانی چلاتے چلاتے بند گلی کے آخری سِرے پر پہنچ کر خود ہی پھنس گئی اور اس غیر آئینی کھیل میں اس کے لیے راہِ فرار مشکل ہو گئی۔ مزید برآں، یہ بھی اگلی قسط میں لکھیں گے کہ پاکستانی سپریم کورٹ میں چلتے اس احمقانہ کھیل پر سوئس حکام کا کیا ردعمل تھا؟ (جاری ہے)۔
آج روزِ روشن کی طرح یہ واضح ہو چکا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف شریفین کی افتخار محمد چوہدری کے ساتھ ملی بھگت تھی، اِس جج نے سپریم کورٹ کو پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف پروپیگنڈا سیل بنا کر اِس مقدس ادارے کی توہین کرنے میں تمام حدیں پار کر دیں۔ اس دور میں انتہائی منظم طریقے سے صحافتی گوئبلز کے ذریعے اخبارات میں جھوٹی خبریں چھپوائی جاتیں، پھر اُن پر سو موٹو ایکشن لے کر میڈیا پر پروپیگنڈے کا ایک نیا طوفان برپا کر دیا جاتا۔
2001ء میں شریفوں اور لاہور ہائی کورٹ کے ججوں کی ملی بھگت طشت ازبام ہونے پر سپریم کورٹ کی طرف سے سوئس مقدمات میں محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی سزائیں کالعدم قرار دینے کے بعد اِن مقدمات کی سماعت احتساب عدالت میں جاری تھی۔ آصف علی زرداری کے مخالفین اُس وقت تک بھی ذِلت آمیز خوارگی کے باوجود اُن کے خلاف کچھ ثابت نہیں کر سکے تھے۔ بہت سوچ بچار کے بعد زرداری کے مخالفین نے این آر او کی پٹاری سے سوئس کیسز کو سب سے اہم آئیٹم سمجھ کر نکالنے اور شعبدہ بازی شروع کرنے کا پلان بنایا۔ 16 دسمبر 2009ء کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں فُل کورٹ بینچ نے این آر او کو کالعدم قرار دے کر اس کے تحت بند ہونے والے تمام مقدمات دوبارہ کھول دیئے۔ اِس سے قبل افتخار محمد چوہدری نے 9 دسمبر 2009ء کو این آر او کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران سوئس کیسز کی تفصیل طلب کر لی تھی، جس پر نیب کے پراسیکیوٹر جنرل دانشور ملک نے عدالت کو بتایا کہ یہ مقدمات حکومت پاکستان کی ایماء پر 2008ء (پرویز مشرف کی حکومت کے دوران) میں ختم کیا گیا تھا اور اُس وقت کے اٹارنی جنرل ملک قیوم نے اُنہیں اس بارے میں تحریری طور پر آگاہ کیا تھا۔ مزیدبرآں، وہ اس ضمن میں سابق اٹارنی جنرل کے ہمراہ جنیوا بھی گئے تھے۔
یاد رہے کہ 4 مارچ 2008ء کو سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر آصف علی زرداری کے خلاف سوئس حکام کو ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کیسز سے متعلق کاروائی روک دینے کے لیے خط لکھنے والے پرویز مشرف حکومت کے اٹارنی جنرل کوئی اور نہیں بلکہ وہی لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس قیوم ملک تھے، جنھوں نے محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو سوئس کیسز میں شریفین کے ساتھ ملی بھگت کر کے سزائیں دی تھیں۔ سزاؤں کے دو سال بعد ناقابلِ تردید یہ ملی بھگت پکڑی جانے کے بعد سپریم کورٹ نے سزائیں کالعدم قرار دے دیں اور جسٹس قیوم ملک اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس راشد عزیز کو گھر جانا پڑا تھا۔ شاید یہ قدرت کا انتقام تھا کہ ان مقدمات کے ہر اہم کردار کو بذاتِ خود ان مقدمات کی نفی کرنی پڑی۔
سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کو ہدایت کی کہ وہ سوئس حکام کو ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کیسز دوبارہ کھولنے کے لیے خط لکھے۔ اِس طرح عدالتِ عظمٰی میں سوئس کیسز سے متعلق حکومتِ پاکستان سے سوئٹزر لینڈ کے حکام کو خط لکھ کر ان کیسز کو وہاں کھولوانے کا فضول تھیٹر شروع کر دیا گیا، جس کا مزید تین سال تک کھڑکی توڑ شو جاری رہا۔ تعفُّن زدہ عدالتی ڈائیلاگز کو چسکے لے لے کر ہر شام ٹی وی سکرینوں پر دُہرایا گیا، اخبارات میں چیختی چنگھاڑتی سُرخیوں کے ذریعے دروغ گوئی کے ریکارڈ قائم کیے گئے۔ قوم کو چھ ارب روپے کی رقم کی خالی پیلی آمد کی تکرار کا تشدد مُسلسل سہنا پڑا۔
وفاقی حکومت کا سپریم کورٹ کے حکم پر سوئس حکام کو خط لکھنے پر موقف تھا کہ ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز سے متعلقہ کیسز سوئٹزر لینڈ کی عدالت میں فائل نہیں ہوے، اس لیے مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے سوئس حکام کو خط لکھنا بے سود ہو گا۔ مزید برآں، صدرِ پاکستان کو عدالتی کاروائی سے استثنٰی حاصل ہے۔ حکومتی وکیل کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوانین پر صرف پاکستان کی حدود میں ہی عملدر آمد ہو سکتا ہے جبکہ بیرون ملک عدالتوں کو سپریم کورٹ احکامات جاری نہیں کر سکتی۔ عدالتِ عظمیٰ کو اس پر نظر ثانی کرنی چاہیے کیونکہ کسی شخص کو ایک مقدمے میں دو بار سزا نہیں دی جا سکتی۔
18 اپریل 2012ء کو سپریم کورٹ نے کہا کہ کسی ملک کے صدر یا سفارت کار کے خلاف فوجداری یا دیوانی مقدمے میں کارروائی بیرونی ملک کے دورے کے دوران نہیں ہو سکتی اور جس سربراہ کو استثنیٰ درکار ہو تو اُسے چاہیے کہ وہ عدالت سے رجوع کرے۔
قارِئِینِ کِرام! یہاں ہم دیکھتے چلیں کہ آئین کا آرٹیکل 248 کیا ہے؟ اس آرٹیکل میں بہت واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ “صدر یا گورنر کے خلاف، اس کے عہدے کی میعاد کے دوران کسی عدالت میں کوئی فوجداری مقدمات نہ قائم کیے جائیں گے اور نہ ہی جاری رکھے جائیں گے”۔
عدالتِ عظمٰی میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے معاملے میں اگر صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کو سوئس مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کی مثال قائم کر دی گئی تو پھر مستقبل میں کسی بھی غیر ملکی عدالت میں پاکستانی صدر یا آرمی چیف کو بھی پیش کرنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ اُنہوں نے ریمنڈ ڈیوس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اپنے ایک عام شہری کو فوجداری مقدمے میں ملوث ہونے کے باوجود اُسے پاکستان سے نکال کر لے گیا اور آپ (بینچ) اپنے منتخب صدر کو اتنا بھی احترام نہیں دیں گے؟ اعتزاز احسن نے بھارتی اداکار شاہ رُخ خان کی امریکہ میں گرفتاری کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا کہ بھارتی حکومت نے اس پر شدید احتجاج کیا تھا، جس پر امریکہ کو معافی مانگنی پڑی جبکہ اس کے برعکس ہم اپنے منتخب صدر کو غیر ملکی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کے لیے خط لکھنے پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی عدالتی حکم پر سوئس حکام کو خط لکھنے پر تیار تھے مگر عدلیہ اور وزیرِ اعظم میں خط کے متن پر اختلاف جاری رہا۔ یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم کے طور پر آئین پاکستان کے تحت اُٹھائے گئے حلف کو پسِ پشت ڈال کر میں کیسے یہ خط لکھ دوں؟ جس پر عدلیہ نے توہینِ عدالت کے نوٹس جاری کر دیئے۔ بعد ازاں، 26 اپریل 2012ء کو سپرم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے انہیں ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے دور میں جاری کیے گئے توہین عدالت کے آرڈیننس 2003ء کے سیکشن پانچ کے تحت جرم کا مرتکب قرار دے کر عدالت کی برخاستگی تک کی سزا سنا دی، جو تیس سکینڈ میں پوری ہو گئی۔ اُسی دن سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہینِ عدالت کے فیصلے کی روشنی میں ضروری کارروائی کی خاطر قومی اسمبلی کی سپیکر کو خط تحریر کیا، جس میں کہا گیا کہ انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ عدالتی حکم کی تعمیل کے لیے سپیکر کی توجہ مبذول کرائیں۔
24 مئی 2012ء کو قومی اسمبلی کی سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے توہین عدالت کیس میں سید یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کو مسترد کرنے کی رولنگ جاری کی کہ آئین اور توہینِ عدالت کی شِقوں، سپریم کورٹ کے ماضی میں دیئے گئے احکامات اور سپیکر کی سابقہ رولنگز کے مطابق سپریم کورٹ کی طرف سے وزیرِ اعظم کو نا اہلی کی سزا نہیں دی جا سکتی۔
28 مئی 2012ء کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی طرف سے خواجہ محمد آصف اور پاکستان تحریکِ انصاف کی طرف سے عمران احمد خان نیازی نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی اہلیت سے متعلق سپیکر کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کر دیں۔ 6 جون 2012ء کو عدالتِ عظمٰی نے سپیکر کی رولنگ سے متعلق دائر درخواستوں پر وفاق، وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور قومی اسمبلی کی سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کر دیئے۔ 14 جون 2012ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں ایک قرار داد منظور ہوئی، جس میں کہا گیا کہ وزیر اعظم کو نااہل قرار نہ دینے کے بارے میں سپیکر کی رولنگ کو آئین کے مطابق کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ آخر کار سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے 19 جُون 2012ء کو یوسف رضا گیلانی کو غیر آئینی طور پر نااہل قرار دے دیا۔ عدالت کے مطابق وہ فیصلے کی تاریخ (26 اپریل 2010ء) سے ملک کے وزیرِ اعظم بھی نہیں رہے اور یہ عہدہ اس دن سے خالی تصور کیا جائے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھی حکم دیا کہ وہ 26 اپریل 2010ء سے ہی یوسف رضا گیلانی کی مجلسِ شوریٰ کی رکنیت ختم کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کرے۔ جس کے بعد الیکشن کمیشن نے عدالت عظمیٰ کے حکم پر وزیر اعظم گیلانی کی نااہلی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا۔ اس طرح توہینِ عدالت کی سزا کی وجہ سے آرٹیکل 63 ون جی کے تحت پانچ سال کی نااہلی کی سزا بھی شامل تھی۔
یاد رہے کہ وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کی نااہلی سے قبل راولپنڈی کی احتساب عدالت نمبر 2 نے 30 جولائی 2011ء کو ان مقدمات کے لیے جمع کرائی گئی ساری جعلی دستاویزات کی وجہ سے کیسز خارج کر دیئے تھے (جس کی پوری تفصیل ہم اِس آرٹیکل کی پانچویں قسط میں لکھ چکے ہیں)۔ پھر حیرانی سی حیرانی ہے کہ ایک منتخب وزیرِ اعظم کو غیر آئینی طور پر فارغ کرنے اور بار بار ثابت شدہ جھوٹے کیسز چلانے کے پیچھے “آزاد عدلیہ” کے کیا عزائم تھے؟
اگلی قسط میں لکھیں گے کہ کس طرح یوسف رضا گیلانی کی غیر آئینی نااہلی کے بعد وزیرِ اعظم پرویز اشرف کے ساتھ بھی “آزاد عدلیہ” خط کہانی چلاتے چلاتے بند گلی کے آخری سِرے پر پہنچ کر خود ہی پھنس گئی اور اس غیر آئینی کھیل میں اس کے لیے راہِ فرار مشکل ہو گئی۔ مزید برآں، یہ بھی اگلی قسط میں لکھیں گے کہ پاکستانی سپریم کورٹ میں چلتے اس احمقانہ کھیل پر سوئس حکام کا کیا ردعمل تھا؟ (جاری ہے)۔
“کرپٹ زرداری” اور صادق و امین فرشتوں کی اصل کہانی (6)
آیئے، اب ہم سوئس کیسز کے شروع سے لے کر آخر تک رہنے والے حکمرانوں کے
اِن مقدمات کے حوالے سے نقطہ ہائے نظر یا احوال کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہ وہ
حکمران تھے، جنھوں نے یہ مقدمات شروع کیے اور بعد میں چلاتے رہے۔
سب سے پہلے ہم آپ کو قومی اِحتساب بیورو کے سابق چیئرمین سیف الرحمٰن کا حال سُناتے ہیں، جس نے نواز شریف کی خواہش پر بیگم نصرت بھٹو، محترمہ بینظیر بھٹو، آصف علی زرداری اور حاکم علی زرداری کے خلاف ریفرنسز دائر کئے، اِن ریفرنسز میں سوئس کیسز بھی شامل تھے۔ 12 اکتوبر 1999ء کو ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے آنے کے بعد سیف الرحمٰن بھی گرفتار ہو گیا تھا۔ خاندانِ شریفیہ تو پرویز مشرف سے معافی مانگ کر سرور پیلس سعودی عرب سدھار گیا مگر سیف الرحمٰن اڈیالہ جیل میں ہی رہ گیا۔ اس دوران جب ایک دن آصف علی زرداری کو جیل سے راولپنڈی کی احتساب عدالت میں پیشی پر لایا گیا تو سیف الرحمٰن کو بھی اُسی عدالت میں پیشی کے لیے ہتھکڑیوں میں وہاں پیش کیا گیا۔ سیف الرحمٰن نے جیسے ہی آصف علی زرداری کو دیکھا تو اُن کے قدموں میں گِر کر گِڑ گڑا کر معافیاں مانگنے لگا۔ صحافی حامد میر بھی دوسرے صحافیوں کے ساتھ وہاں موجود تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ آصف علی زرداری سے مخاطب سیف الرحمٰن نے صاف الفاظ میں کہا کہ “میں نے آپ پر جھوٹے مقدمات بنا کر ظلم کیا، مجھے جو حکم دیا گیا، میں نے وہی کیا تھا، مجھے معاف کر دیں”۔ حامد میر کہتے ہیں ان کے لیے یہ ایک ناقابلِ یقین منظر تھا، آصف علی زرداری سے سیف الرحمٰن نے معافی مانگ کر سر اوپر اٹھایا تو اُس کی نظر اُن پر پڑی، سیف الرحمٰن نے فوراً آنسو پونچھے اور زرداری صاحب کو دعائیں دیتے ہوئے رخصت ہو گیا۔ حامد میر اِس بارے سوال کرتے ہیں “اگر آپ میری جگہ ہوتے اور آپ نے سیف الرحمٰن کو زرداری صاحب کے قدموں میں گر کر معافی مانگتے دیکھا ہوتا تو آپ کس کو سچا سمجھتے؟”
یاد رہے یہ وہی سیف الرحمٰن ہے، جس نے نواز شریف کے حکم پر لاہور ہائی کورٹ کے ججوں کے ساتھ ملی بھگت کر کے سوئس کیسز میں محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو سات سال قید، ساری جائیداد ضبط اور سارے اکاؤنٹس سیز کروانے کی سزائیں سنوائی تھیں (جو بعد میں کالعدم ہو گئی تھیں)۔ سیف الرحمٰن نے انہی مقدمات میں سوئیٹزر لینڈ میں سوئس انویسٹیگیٹنگ جج سے بھی ملی بھگت کرنے کی بھرپور کوشش کی مگر وہاں شواہد نہ ہونے کی وجہ سے مقدمات چلانا تو دور کی بات مقدمات فائل تک کروانے میں ناکام رہا۔
اب نواز شریف کی سُنیئے، جو سوئس کیسز بنوانے میں سب سے اہم کردار تھے۔ اسے تقدیر ایزدی کا کمال ہی کہیئے کہ ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں میاں نوازشریف کو لانڈھی جیل میں اُسی کھولی میں قید کیا گیا، جس میں مختلف ادوار کے دوران محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری قید رہے تھے، چشم دید گواہوں کے مطابق جہاں نواز شریف کھولی کے دروازے کو پکڑ کر دھاڑیں مار کر روتے تھے۔ خیال رہے کہ آصف علی زرداری 1996ء سے ہی قید میں تھے۔ جب نواز شریف کو لانڈھی جیل میں قید کیا گیا تو اُس وقت آصف علی زرداری سنٹرل جیل کراچی میں قید تھے۔ نواز شریف نے جیل سے محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف جُھوٹے مقدمات بنانے پر نوید چوہدری کے ذریعے پیغام بھیج کر آصف علی زرداری سے معافی مانگی۔
بعدازاں، نواز شریف ڈکٹیٹر پرویز مشرف سے معافی مانگنے اور دس سالہ معاہدے کے تحت جب سعودی عرب میں تھے، تو انھوں نے وہاں صحافی سہیل وڑائچ سے “غدارکون؟ نوازشریف کی کہانی اُن کی زبانی” نامی کتاب لکھوائی۔ آیئے، آپ کو اس کتاب کے صفحہ نمبر 137 پر لے چلتے ہیں۔
سوال: آپ کے دوسرے دور میں کئی پیچیدہ سیاسی مسائل پیدا ہو ئے آپ نے احتساب کا ایسا طریق کار اپنایا کہ اپنی قائد حزبِ اختلاف بے نظیر بھٹو کا پتہ ہی صاف کر دیا، کیا یہ جمہوری رویہ تھا؟
نواز شریف: احتساب کا طریق کار غلط تھا۔ ہمیں اس حوالے سے اکسایا گیا تھا۔ فوج اور آئی ایس آئی کا ہم پر دباؤ تھا۔ جان بوجھ کر ہم سے بے نظیر اور اپوزیشن کے خلاف ایسے اقدامات کروائے گئے تاکہ سیاست دانو ں کا اعتبار ختم ہو جائے۔
اِس کے بعد جب بھی نواز شریف کی آصف علی زرداری سے ملاقات ہوئی، اُنھوں نے بار بار قسمیں کھاتے ہوئے آصف علی زرداری کو یہ یقین دھانی کروانے کی بھرپور کوشش کی کہ ان کے خلاف جھوٹے مقدمات ملٹری کے پریشر پر بنائے گئے تھے۔ یاد رہے کہ نواز شریف کے پہلے دونوں ادوار میں آصف علی زرداری مکمل طور پر قید رہے، وہ ایک بار بھی ضمانت پر رہا نہیں ہوئے۔ حتٰکہ والدہ کے جنازے میں شریک ہونے کے لیے پیرول پر تک رہا نہ کیا گیا۔
ڈکٹیٹر پرویز مشرف بھی وہ حکمران تھے، جن کے دورِ حکومت میں سوئس کیسز چلتے رہے۔ 1996ء سے گرفتار آصف علی زرداری اِن کے دور میں 12 اکتوبر 1999ء سے لے کر 22 نومبر 2004ء تک قید میں رہے۔ پرویز مشرف نے بھی آصف علی زرداری پر دو ریفرنس دائر کیے تھے، جن سے آصف علی زرداری باعزت بری ہو گئے تھے۔ ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو 2008ء میں مجبوراً اقتدار سے باہر ہونا پڑا۔ مشرف یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ اُنھیں اقتدار سے باہر نکالنے کے لیے محترمہ بینظیر بھٹو نے بنیاد رکھی اور اختتام آصف علی زرداری نے کیا۔ اِسی لیے مشرف آصف علی زرداری کے انتہائی خلاف ہیں اور اکثر اِن پر اپنے غصے کا اظہار بھی وافر مقدار میں کرتے رہتے ہیں۔ مگر اِس کے باوجود یہ ناقابل تردید ہماری تاریخ ہے کہ 2010ء میں پرویز مشرف کو میڈیا کے سامنے کُھلا اعتراف کرنا پڑا کہ “یہ کیسز ایک فرضی داستان ہے، اُن کی حکومت نے سوئس حکومت سے بار بار رابطہ کیا مگر جواب میں بتایا گیا کہ وہاں کوئی رقم نہیں پڑی ہوئی۔ سوئس حکومت کا کہنا تھا کہ یہ سب داستانیں اُنھیں پاکستانی میڈیا کے ذریعے سُننے کو ملتی ہیں۔ مشرف کا مزید کہنا تھا کہ ان فضول کیسز کی بیرونِ ملک تفتیش کرنے سے حکومت پاکستان کے کروڑوں روپے خرچ ہوئے مگر پاکستان کو ایک دھیلے کا بھی فائدہ نہیں ہوا”۔
اگلی قسط میں چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کی سوئس کیسز پر شعبدہ بازی کی تفصیل لکھی جائے گی کہ کس طرح اُنھوں نے عدالتِ عظمٰی میں تھیٹر لگا کر مزید مسلسل تین سال تک اِن بے بنیاد مقدمات پر کھڑکی توڑ شو جاری رہا رکھا۔ (جاری ہے)۔
سب سے پہلے ہم آپ کو قومی اِحتساب بیورو کے سابق چیئرمین سیف الرحمٰن کا حال سُناتے ہیں، جس نے نواز شریف کی خواہش پر بیگم نصرت بھٹو، محترمہ بینظیر بھٹو، آصف علی زرداری اور حاکم علی زرداری کے خلاف ریفرنسز دائر کئے، اِن ریفرنسز میں سوئس کیسز بھی شامل تھے۔ 12 اکتوبر 1999ء کو ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے آنے کے بعد سیف الرحمٰن بھی گرفتار ہو گیا تھا۔ خاندانِ شریفیہ تو پرویز مشرف سے معافی مانگ کر سرور پیلس سعودی عرب سدھار گیا مگر سیف الرحمٰن اڈیالہ جیل میں ہی رہ گیا۔ اس دوران جب ایک دن آصف علی زرداری کو جیل سے راولپنڈی کی احتساب عدالت میں پیشی پر لایا گیا تو سیف الرحمٰن کو بھی اُسی عدالت میں پیشی کے لیے ہتھکڑیوں میں وہاں پیش کیا گیا۔ سیف الرحمٰن نے جیسے ہی آصف علی زرداری کو دیکھا تو اُن کے قدموں میں گِر کر گِڑ گڑا کر معافیاں مانگنے لگا۔ صحافی حامد میر بھی دوسرے صحافیوں کے ساتھ وہاں موجود تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ آصف علی زرداری سے مخاطب سیف الرحمٰن نے صاف الفاظ میں کہا کہ “میں نے آپ پر جھوٹے مقدمات بنا کر ظلم کیا، مجھے جو حکم دیا گیا، میں نے وہی کیا تھا، مجھے معاف کر دیں”۔ حامد میر کہتے ہیں ان کے لیے یہ ایک ناقابلِ یقین منظر تھا، آصف علی زرداری سے سیف الرحمٰن نے معافی مانگ کر سر اوپر اٹھایا تو اُس کی نظر اُن پر پڑی، سیف الرحمٰن نے فوراً آنسو پونچھے اور زرداری صاحب کو دعائیں دیتے ہوئے رخصت ہو گیا۔ حامد میر اِس بارے سوال کرتے ہیں “اگر آپ میری جگہ ہوتے اور آپ نے سیف الرحمٰن کو زرداری صاحب کے قدموں میں گر کر معافی مانگتے دیکھا ہوتا تو آپ کس کو سچا سمجھتے؟”
یاد رہے یہ وہی سیف الرحمٰن ہے، جس نے نواز شریف کے حکم پر لاہور ہائی کورٹ کے ججوں کے ساتھ ملی بھگت کر کے سوئس کیسز میں محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو سات سال قید، ساری جائیداد ضبط اور سارے اکاؤنٹس سیز کروانے کی سزائیں سنوائی تھیں (جو بعد میں کالعدم ہو گئی تھیں)۔ سیف الرحمٰن نے انہی مقدمات میں سوئیٹزر لینڈ میں سوئس انویسٹیگیٹنگ جج سے بھی ملی بھگت کرنے کی بھرپور کوشش کی مگر وہاں شواہد نہ ہونے کی وجہ سے مقدمات چلانا تو دور کی بات مقدمات فائل تک کروانے میں ناکام رہا۔
اب نواز شریف کی سُنیئے، جو سوئس کیسز بنوانے میں سب سے اہم کردار تھے۔ اسے تقدیر ایزدی کا کمال ہی کہیئے کہ ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں میاں نوازشریف کو لانڈھی جیل میں اُسی کھولی میں قید کیا گیا، جس میں مختلف ادوار کے دوران محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری قید رہے تھے، چشم دید گواہوں کے مطابق جہاں نواز شریف کھولی کے دروازے کو پکڑ کر دھاڑیں مار کر روتے تھے۔ خیال رہے کہ آصف علی زرداری 1996ء سے ہی قید میں تھے۔ جب نواز شریف کو لانڈھی جیل میں قید کیا گیا تو اُس وقت آصف علی زرداری سنٹرل جیل کراچی میں قید تھے۔ نواز شریف نے جیل سے محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف جُھوٹے مقدمات بنانے پر نوید چوہدری کے ذریعے پیغام بھیج کر آصف علی زرداری سے معافی مانگی۔
بعدازاں، نواز شریف ڈکٹیٹر پرویز مشرف سے معافی مانگنے اور دس سالہ معاہدے کے تحت جب سعودی عرب میں تھے، تو انھوں نے وہاں صحافی سہیل وڑائچ سے “غدارکون؟ نوازشریف کی کہانی اُن کی زبانی” نامی کتاب لکھوائی۔ آیئے، آپ کو اس کتاب کے صفحہ نمبر 137 پر لے چلتے ہیں۔
سوال: آپ کے دوسرے دور میں کئی پیچیدہ سیاسی مسائل پیدا ہو ئے آپ نے احتساب کا ایسا طریق کار اپنایا کہ اپنی قائد حزبِ اختلاف بے نظیر بھٹو کا پتہ ہی صاف کر دیا، کیا یہ جمہوری رویہ تھا؟
نواز شریف: احتساب کا طریق کار غلط تھا۔ ہمیں اس حوالے سے اکسایا گیا تھا۔ فوج اور آئی ایس آئی کا ہم پر دباؤ تھا۔ جان بوجھ کر ہم سے بے نظیر اور اپوزیشن کے خلاف ایسے اقدامات کروائے گئے تاکہ سیاست دانو ں کا اعتبار ختم ہو جائے۔
اِس کے بعد جب بھی نواز شریف کی آصف علی زرداری سے ملاقات ہوئی، اُنھوں نے بار بار قسمیں کھاتے ہوئے آصف علی زرداری کو یہ یقین دھانی کروانے کی بھرپور کوشش کی کہ ان کے خلاف جھوٹے مقدمات ملٹری کے پریشر پر بنائے گئے تھے۔ یاد رہے کہ نواز شریف کے پہلے دونوں ادوار میں آصف علی زرداری مکمل طور پر قید رہے، وہ ایک بار بھی ضمانت پر رہا نہیں ہوئے۔ حتٰکہ والدہ کے جنازے میں شریک ہونے کے لیے پیرول پر تک رہا نہ کیا گیا۔
ڈکٹیٹر پرویز مشرف بھی وہ حکمران تھے، جن کے دورِ حکومت میں سوئس کیسز چلتے رہے۔ 1996ء سے گرفتار آصف علی زرداری اِن کے دور میں 12 اکتوبر 1999ء سے لے کر 22 نومبر 2004ء تک قید میں رہے۔ پرویز مشرف نے بھی آصف علی زرداری پر دو ریفرنس دائر کیے تھے، جن سے آصف علی زرداری باعزت بری ہو گئے تھے۔ ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو 2008ء میں مجبوراً اقتدار سے باہر ہونا پڑا۔ مشرف یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ اُنھیں اقتدار سے باہر نکالنے کے لیے محترمہ بینظیر بھٹو نے بنیاد رکھی اور اختتام آصف علی زرداری نے کیا۔ اِسی لیے مشرف آصف علی زرداری کے انتہائی خلاف ہیں اور اکثر اِن پر اپنے غصے کا اظہار بھی وافر مقدار میں کرتے رہتے ہیں۔ مگر اِس کے باوجود یہ ناقابل تردید ہماری تاریخ ہے کہ 2010ء میں پرویز مشرف کو میڈیا کے سامنے کُھلا اعتراف کرنا پڑا کہ “یہ کیسز ایک فرضی داستان ہے، اُن کی حکومت نے سوئس حکومت سے بار بار رابطہ کیا مگر جواب میں بتایا گیا کہ وہاں کوئی رقم نہیں پڑی ہوئی۔ سوئس حکومت کا کہنا تھا کہ یہ سب داستانیں اُنھیں پاکستانی میڈیا کے ذریعے سُننے کو ملتی ہیں۔ مشرف کا مزید کہنا تھا کہ ان فضول کیسز کی بیرونِ ملک تفتیش کرنے سے حکومت پاکستان کے کروڑوں روپے خرچ ہوئے مگر پاکستان کو ایک دھیلے کا بھی فائدہ نہیں ہوا”۔
اگلی قسط میں چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کی سوئس کیسز پر شعبدہ بازی کی تفصیل لکھی جائے گی کہ کس طرح اُنھوں نے عدالتِ عظمٰی میں تھیٹر لگا کر مزید مسلسل تین سال تک اِن بے بنیاد مقدمات پر کھڑکی توڑ شو جاری رہا رکھا۔ (جاری ہے)۔
“کرپٹ زرداری” اور صادق و امین فرشتوں کی اصل کہانی (5)
جس وقت میاں محمد نواز شریف اور اِن کے حواری محترمہ بینظیر بھٹو اور
آصف علی زرداری کو بے بنیاد ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کیسز (المعروف سوئس
کیسز) میں اپنی من چاہی سزا دلوانے کے لیے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ راشد
عزیز اور جسٹس ملک محمد قیوم سے رابطے میں تھے۔ بالکل اُسی وقت اِن کی طرف
سے سوئٹزر لینڈ میں سوئس کیسز کی تفتیش کرنے والے سوئس جج ڈینیل ڈیواؤ سے
بھی ملی بھگت کرنے کی بھرپور کوششیں کی جا رہی تھیں۔ یہ ملی بھگت کی کاوشیں
اُس وقت سامنے آئیں، جب سوئٹزر لینڈ میں پاکستانی سفیر ایس ایم انعام اللہ
اور شریف حکومت کے تعینات کردہ وکلاء جیکؤس پاتھن، ڈومینک ہینچوز اور
فریسنس راجر میشلی کی 25 مارچ 1998ء کو جنیوا میں ہونے والی انتہائی خفیہ
ملاقات کے سیکرٹ منٹس میڈیا کے ہاتھ لگنے سے منظر عام پر آ گئے۔
انویسٹیگیٹنگ سوئس جج ڈینیل ڈیواؤ سے شریف حکومت کے تعینات کردہ وکلاء کی میٹنگ سے متعلقہ نوٹس کی سمری سے پتہ چلتا ہے کہ سوئس جج ڈینیل ڈیواؤ پر دباؤ ڈالنے کی بھرپور کوششیں کی گئیں کہ ہر صورت میں محترمہ بینظیر بھٹو، آصف علی زرداری اور بیگم نصرت بھٹو کے خلاف کارروائی کی جائے۔ سوئس جج بہت زیادہ خوفزدہ تھے کہ اگر اس خفیہ ملاقات کا علم میڈیا کو ہو گیا تو ان کے لیے مشکلات کھڑی ہو جائیں گی۔ سوئس جج کے مطابق اس کیس کے حوالے سے اس پر شدید دباؤ ڈالا جاتا رہا تھا مگر وہ پریشر کے باوجو افورڈ نہیں کر سکتے تھے کہ جھوٹے الزامات کی بنیاد پر نامزد ملزمان محترمہ بینظیر بھٹو، آصف علی زرداری، بیگم بھٹو اور دیگر کے خلاف مقدمے کی کاروائی شروع کر سکیں، جس کے بارے میں وہ خود مطمئن نہیں تھے۔ اس صورت حال میں اگر وہ مقدمے کی کاروائی شروع کریں تو اُنھیں بہت زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔
سوئس جج ڈینیل ڈیواؤ سے خفیہ ملاقات کے سیکرٹ منٹس کے نوٹس کے طشتِ ازبام ہونے کے بعد جب میڈیا نے نواز شریف کی حکومت کے تعینات کردہ مرکزی وکیل جیکؤس پاتھن سے رابطہ کیا تو وہ اس بات پر حیران تھے کہ یہ ملاقات تو خفیہ رکھی جانی تھی، پھر پتہ نہیں کہ میڈیا کو کیسے علم ہو گیا؟ جیکؤس پاتھن نے میڈیا کے سامنے اعتراف کیا کہ واقعی اُن کی پاکستانی سفیر ایس ایم انعام اللہ کے ساتھ سوئس جج ڈینیل ڈیواؤ سے خفیہ ملاقات ہوئی تھی، جس میں یہ سب گفتگو کی گئی تھی بلکہ اس کے علاوہ بھی ہم نے تفتیشی جج سے کئی ملاقاتیں کی تھیں کیونکہ پاکستانی سفیر ایس ایم انعام اللہ کا کہنا تھا کہ ان پر سیف الرحمٰن کا بہت زیادہ پریشر تھا کہ وہ سوئس حکام اور جج سے ملاقاتیں کریں اور جتنا جلدی ہو سکے نامزد ملزمان کے خلاف مقدمے کی کاروائی شروع کر کے سزا دلوا دی جائے۔
جیکؤس پاتھن کا یہ اقرار بھی میڈیا پر موجود ہے کہ سوئس جج ڈینیل ڈیواؤ نے پریشر کے باوجود سزا دینے سے انکار کیا تھا کیونکہ ان کیسز میں سرے سے کوئی ثبوت موجود ہی نہ تھا، جس سے معلوم ہوتا ہو کہ نامزد ملزمان نے مذکورہ کمپنیوں سے کمیشن وصول کیا ہو۔ انھوں نے مزید واضح کیا کہ ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا سے معاہدوں کی تفصیلی شرائط نومبر 1993ء سے پہلے فائنل ہوئیں، جب نوازشریف کی حکومت تھی اور محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت بعد میں آئی۔ اِس کے علاوہ اُن کو یہ بھی ماننا پڑا کہ سویئٹزرلینڈ میں یہ قطعاً پریکٹس نہیں ہے کہ کوئی سفیر ججوں پر اثر انداز ہونے کے لیے ملاقاتیں کرے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں پیپلز پارٹی مخالف سیاستدانوں سمیت شریفین، میڈیا اور اپنے تئیں صادق و امین فرشتے ججوں کے پروپیگنڈے کے برعکس سوئس کورٹ میں یہ مقدمات (ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کیس) سرے سے تھے ہی نہیں، فقط انکوائری تھی، جس کی کوئی عدالتی اہمیت نہیں تھی۔ شروع میں جب محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری نے ان فضول اور بے بنیاد مقدمات کی پیروی نہ کی تو انویسٹیگیٹنگ جج نے تفتیش میں مدد نہ کرنے پر ایک ایڈورس فائنڈنگ دی۔ آصف علی زرداری تو پاکستان میں جیل میں قید تھے، محترمہ بینظیر بھٹو نے جب پیروی کی تو سوئس حکام نے کہا کہ ہمیں کوئی شواہد نہیں ملے، اس لیے یہ مقدمات فائل نہیں کیے جا سکتے۔
محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری پر سوئس کیسز میں چھ ارب روپے کی کرپشن کے اِلزام میں کئی گنا زیادہ رقم قومی خزانے سے برباد کر دی گئی۔ سیف الرحمٰن نے بھاری فیسوں پر ملکی اور غیر ملکی آفیشل ہائر کیے۔ احتساب بیورو کے آفیشل نے انکوائری کے نام پر سوئٹرز لینڈ، انگلینڈ، امریکہ اور سپین کے دورے کیے اور اس مد میں کروڑوں ڈالرز بے دردی سے پھونک دیئے گئے۔ جس کا جب دل چاہا انکوائری کے بہانے غیر ملکی سیر سپاٹے پر نکل گیا۔ مزیدبرآں، میڈیا پر شریفوں کا مکمل کنٹرول تھا، صحافیوں کا ایک پورا لشکر ان کے اشارہ آبرو کا منتظر رہتا تھا، سوئس کیسز کے بارے میں مسلسل چیختی چنگھاڑتی شہ سرخیاں شائع ہو رہی تھیں۔ اس سلسلے میں اخبارات کے پورے پورے صفحات پر اشتہارات شائع کیے جا رہے تھے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ججوں سے ملی بھگت کی یقینی طور پر بھاری قیمت ادا کی گئی ہو گی۔ اگر سوئس کیسز کی چھ ارب روپے کی جھوٹی کرپشن کہانی کا شریفوں کی کرپشن سے تقابلی جائزہ لیا جائے تو یہ ان کے چھوٹے سے ندی پور پاور پلانٹ پروجیکٹ کے مقابلے میں بھی اُونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر ہے۔
12 اکتوبر 1999ء کو ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی فوجی حکومت کے آتے ہی کرپشن کا نعرہ پھر بلند ہو چکا تھا اور قومی احتساب بیورو کو تحلیل کر کے نیشنل اکاؤنٹ ایبلٹی بیورو (نیب) قائم کیا گیا، جس کے تحت محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری پر پریشر ڈالنے کے لیے نئے مقدمات بنانے کے ساتھ ساتھ پرانے مقدمات بھی چلتے رہے۔ 2001ء میں شریفوں اور ججوں کی ملی بھگت طشت ازبام ہونے پر سپریم کورٹ نے ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز سے متعلقہ مقدمات میں سزا کو کالعدم قرار دے دیا اور ان مقدمات کی از سر نو سماعت کا حکم سنایا۔ جس کے بعد ان مقدمات کی سماعت احتساب عدالت میں شروع ہو گئی۔
پرویز مشرف نے بھی آصف علی زرداری کو اپنے دورِ اقتدار میں پانچ سال تک پابند سلاسل رکھا۔ آصف علی زرداری بالآخر 22 نومبر 2004ء کو اپنی مسلسل اسیری کے آٹھ سال اور اٹھارہ دنوں کے بعد عدالت سے ضمانت پر رہا ہوئے۔ (اس سے قبل بھی وہ بغیر کسی مقدمے کے ثابت نہ ہونے کے باوجود 1990ء سے 1993ء تک ساڑھے تین سال کی بے گناہ جیل کاٹ چکے تھے۔)
5 اکتوبر 2007ء کو پرویز مشرف کی حکومت نے 12 اکتوبر 1999ء سے پہلے قومی احتساب بیورو کی جانب سے عوامی اور سرکاری عہدے رکھنے والوں کے خلاف عدالتوں میں زیرِ التواء مقدمات کے خاتمے کے لیے قومی مصالحتی آرڈیننس (این آر او) جاری کر دیا۔ 12 اکتوبر 2007ء کو سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ این آر او سے متعلق آئینی درخواستوں پر فیصلہ ہونے تک کسی کو بھی اس آرڈیننس کی روشنی میں رعایت نہیں دی جا سکتی۔ 28 فروری 2008ء کو صدر مشرف کی طرف سے جاری کردہ عبوری آئینی حکم کے تحت وجود میں آنے والی سپریم کورٹ نے این آر او کے خلاف حکم امتناعی واپس لیتے ہوئے اسے بحال کر دیا۔
4 مارچ 2008ء کو سندھ ہائی کورٹ نے این آر او کے تحت آصف علی زرداری کے خلاف غیر ممالک میں دائر احتساب ریفرنسس ختم کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ اُس وقت کے اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم نے سوئس کیس سے متعلق کاروائی روک دینے کے لیے سوئس حکام کو خط لکھ دیا۔ اس کے بعد سوئس حکام نے ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کیسز سے متعلق کاروائی روک دی۔ سوئس انویسٹیگیشن عدالت نے اپنے حتمی فیصلے میں لکھا کہ ملک قیوم کا خط آتا یا نہ آتا مگر ہم اس سے قبل گواہوں کے بیانات اور غیر ٹھوس ثبوتوں کی روشنی میں ان کیسز کو ختم کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ سوئس عدالت نے مقدمات کو بے بنیاد قرار دے کر خارج کر دیا۔ سوئس عدالت کے فیصلے کے بعد پراسیکیوٹر نے لکھا تھا کہ دس دن کے اندر اس فیصلے کے خلاف اپیل فائل کی جا سکتی ہے، اس کے بعد یہ کیسز کو بند تصور کیا جائے گا۔ پاکستانی حکومت کی طرف سے اپیل نہ ہونے پر یہ مقدمات ہمیشہ کے لیے بند کر دیئے گئے۔
3 دسمبر 2009ء کو این آر او کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں فُل کورٹ بینچ تشکیل دے دیا گیا۔ 7 دسمبر کو سماعت شروع ہوئی اور 16 دسمبر 2009ء کو سپریم کورٹ نے این آر او کے بارے میں دائر درخواستوں کا فیصلہ سناتے ہوئے این آر او کو کالعدم قرار دے دیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ این آر او کے تحت جن فیصلوں کے تحت مقدمات ختم کر دیئے گئے تھے وہ تمام فیصلے اب کالعدم ہو گئے ہیں۔ عدالت نے اس آرڈیننس سے مستفید ہونے والوں کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولنے کا حکم دے دیا۔
آصف علی زرداری اپنے خلاف مقدمات میں ضمانت پر تھے۔ این آر او کے ذریعے یہ مقدمات ختم ہوئے مگر این آر او کو عدالت کی جانب سے کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد یہ مقدمات دوبارہ بحال ہو گئے تھے۔ سوئس کیسز بھی بحال ہونے کے بعد راولپنڈی کی احتساب عدالت نمبر 2 بھی میں چلتے رہے۔ اس عدالت نے 30 جولائی 2011ء کو اپنا فیصلہ سنا دیا، جس میں عدالت نے اٹھارہ گواہان کی گواہیوں کے بعد ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کیسز خارج کرتے ہوئے واضح طور پر اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ان مقدمات میں کسی بھی ملزم کے خلاف کرپشن، رشوت، کمیشن اور سیاسی دباؤ ڈالنے کے الزامات ثابت نہیں ہوتے۔ تمام الزامات من گھڑت اور جھوٹے تھے۔ ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز کو پری شپمنٹ انسپیکشن کے ٹھیکے خالصتاً میرٹ پر دیئے گئے۔ ان دونوں ٹھیکوں کے عوض قومی خزانے کو ایک پائی کا نقصان ثابت نہیں ہوتا بلکہ اس کنٹریکٹ سے پاکستان کو سالانہ 58 ارب روپے کا فائدہ پہنچا تھا، جس کی تصدیق ایک آڈٹ فرم کر چکی ہے۔ سوئس کیسز کے اہم گواہ اور برسوں انکوائری کرنے والے افسر طارق پرویز کو عدالت میں تسلیم کرنا پڑا کہ یہ مقدمات نواز شریف کے دوسرے دور میں سیف الرحمٰن نے جعلی دستاویزات کی بنیاد پر بنائے تھے۔ طارق پرویز کو یہ بھی ماننا پڑا کہ تحقیقات کے دوران ریفرنسز میں جمع کرائی گئی دستاویزات کی قانون میں دئیے گئے طریقہ کار کے مطابق تصدیق نہیں کی گئی تھی۔ اِن کے سینیئرز کی طرف سے فوٹو کاپیاں دی گئی تھیں۔ جن پر اوریجنل دستخط اور سٹیمپس موجود نہیں تھیں اور اسے حکم دیا گیا تھا کہ وہ اپنے دستخط کر کے ان کی تصدیق کر دے، جو انھوں نے کر دی تھی۔ طارق پرویز نے یہ بھی بتایا کہ ان ریفرنسز میں کوئی ایک بھی ایسی دستاویز نہیں لگائی گئی تھی، جس سے یہ ثابت ہوتا کہ جینوا میں کسی عدالت کے سامنے یہ کیسز چلے تھے۔ سوئس مجسٹریٹ کے سامنے محض تحقیق کے لئے کاروائی ہوئی تھی، جس کی کوئی عدالتی اہمیت نہیں تھی اور اسے بھی بعد میں ختم کر دیا گیا تھا۔ طارق پرویز کے بقول مجسڑیٹ کے سامنے بھی تحقیقات اس خط کے بعد ہوئیں تھیں، جو اٹارنی جنرل محمد فاروق نے سوئس حکومت کو لکھا تھا اور ان تحقیقات کو بھی بعد میں ختم کر دیا گیا تھا۔ طارق نے یہ بھی عدالت کے سامنے تسلیم کیا کہ اس انکوائری کے دوران اس کے سامنے کوئی ایسا ثبوت نہیں مِلا، جس سے ثابت ہوتا کہ ملزمان نے کمیشن کھایا تھا، منی لانڈرنگ کی تھی یا پھر کمپنی کو غیر قانونی مراعات دی تھیں۔ ایک دوسرے گواہ چیف کلکٹر کسٹم ساؤتھ خلیل احمد نے عدالت میں تمام الزامات کی تردید کی اور یہ بھی بیان دیا کہ اسے جنیوا میں سوئس مجسٹریٹ کی عدالت میں منی لانڈرنگ کے کیس کے سلسلے میں پیش ہونے کے لیے بلایا گیا تھا۔ جہاں اس کا بیان ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس کے بیان کے بعد یہ مقدمات وہاں بھی ختم کر دیئے گیے تھے کیونکہ سوئس مجسٹریٹ کی رپورٹ کے بعد جینوا کے اٹارنی جنرل نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ان مقدمات کو جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا کیونکہ اس میں کمیشن لینے یا منی لانڈرنگ کا کوئی ثبوت نہیں ملا تھا- محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ان کا نام سوئس کیسز سے خارج ہو گیا تھا۔ عدالت نے آصف علی زرداری کے بارے میں اپنے فیصلے میں لکھا کہ انھیں اس وقت صدرِ پاکستان ہونے کی وجہ سے استثنٰی حاصل ہے، جب یہ استثنٰی حاصل نہیں رہے گا، تب اس وقت ٹرائل دوبارہ شروع ہو گا۔
احتساب عدالت کے 30 جولائی 2011ء کو دیئے جانے والے سوئس کیسز کے فیصلے کی اتنی بڑی خبر کو پاکستانی اخبارات نے کس طرح رپورٹ کیا؟ کتنی بڑی شہ سُرخیاں لگائیں؟ شہ سُرخیوں کے الفاظات کیا تھے؟ اور یہ خبر کن صفحات پر چھاپی گئی؟ آیئے، ہم آپ کو دکھاتے ہیں کہ قلمی مجاہدین نے عدالتی فیصلے کو کیسے اپنی خواہش کے مطابق خبر میں ڈھال کر قارئین تک پہنچایا تھا۔ اِنتہائی چھوٹے فونٹ میں روزنامہ جنگ کی خبر دیکھنے کے لائق ہے، جو اخبار کے صفحہ نمبر 40 پر چھاپی گئی اور خبر میں ایک عام ریفرنس یعنی اے آر وائی گولڈ کا ذکر کیا۔ اس خبر میں ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا ریفرنسز ایسے اہم مقدمات کا ذکر تک نہیں۔ خبروں کے لِنکس مندرجہ ذیل ہیں۔ تصدیق کے لیے خبروں کے اِمیجز (تصویروں) کے آخر میں یو آر ایل (لِنک) بھی موجود ہیں:
https://imamism.files.wordpress.com/2014/11/swiss-case-express-july-31-2011.png
(ایکسپریس)
https://imamism.files.wordpress.com/2014/11/swiss-case-nawaiwat-july-31-2011.gif
(نوائے وقت)
https://imamism.files.wordpress.com/2014/11/swiss-case-jang-july-31-2011.png
(جنگ)
اگلی قسط میں سوئس مقدمات کے شروع سے لے کر آخر تک رہنے والے حکمرانوں کے اِن مقدمات کے حوالے سے نقطہ ہائے نظر یا احوال کا جائزہ لیں گے۔ یہ وہ حکمران تھے، جنھوں نے یہ مقدمات شروع کیے اور بعد میں چلاتے رہے۔ (جاری ہے)۔
انویسٹیگیٹنگ سوئس جج ڈینیل ڈیواؤ سے شریف حکومت کے تعینات کردہ وکلاء کی میٹنگ سے متعلقہ نوٹس کی سمری سے پتہ چلتا ہے کہ سوئس جج ڈینیل ڈیواؤ پر دباؤ ڈالنے کی بھرپور کوششیں کی گئیں کہ ہر صورت میں محترمہ بینظیر بھٹو، آصف علی زرداری اور بیگم نصرت بھٹو کے خلاف کارروائی کی جائے۔ سوئس جج بہت زیادہ خوفزدہ تھے کہ اگر اس خفیہ ملاقات کا علم میڈیا کو ہو گیا تو ان کے لیے مشکلات کھڑی ہو جائیں گی۔ سوئس جج کے مطابق اس کیس کے حوالے سے اس پر شدید دباؤ ڈالا جاتا رہا تھا مگر وہ پریشر کے باوجو افورڈ نہیں کر سکتے تھے کہ جھوٹے الزامات کی بنیاد پر نامزد ملزمان محترمہ بینظیر بھٹو، آصف علی زرداری، بیگم بھٹو اور دیگر کے خلاف مقدمے کی کاروائی شروع کر سکیں، جس کے بارے میں وہ خود مطمئن نہیں تھے۔ اس صورت حال میں اگر وہ مقدمے کی کاروائی شروع کریں تو اُنھیں بہت زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔
سوئس جج ڈینیل ڈیواؤ سے خفیہ ملاقات کے سیکرٹ منٹس کے نوٹس کے طشتِ ازبام ہونے کے بعد جب میڈیا نے نواز شریف کی حکومت کے تعینات کردہ مرکزی وکیل جیکؤس پاتھن سے رابطہ کیا تو وہ اس بات پر حیران تھے کہ یہ ملاقات تو خفیہ رکھی جانی تھی، پھر پتہ نہیں کہ میڈیا کو کیسے علم ہو گیا؟ جیکؤس پاتھن نے میڈیا کے سامنے اعتراف کیا کہ واقعی اُن کی پاکستانی سفیر ایس ایم انعام اللہ کے ساتھ سوئس جج ڈینیل ڈیواؤ سے خفیہ ملاقات ہوئی تھی، جس میں یہ سب گفتگو کی گئی تھی بلکہ اس کے علاوہ بھی ہم نے تفتیشی جج سے کئی ملاقاتیں کی تھیں کیونکہ پاکستانی سفیر ایس ایم انعام اللہ کا کہنا تھا کہ ان پر سیف الرحمٰن کا بہت زیادہ پریشر تھا کہ وہ سوئس حکام اور جج سے ملاقاتیں کریں اور جتنا جلدی ہو سکے نامزد ملزمان کے خلاف مقدمے کی کاروائی شروع کر کے سزا دلوا دی جائے۔
جیکؤس پاتھن کا یہ اقرار بھی میڈیا پر موجود ہے کہ سوئس جج ڈینیل ڈیواؤ نے پریشر کے باوجود سزا دینے سے انکار کیا تھا کیونکہ ان کیسز میں سرے سے کوئی ثبوت موجود ہی نہ تھا، جس سے معلوم ہوتا ہو کہ نامزد ملزمان نے مذکورہ کمپنیوں سے کمیشن وصول کیا ہو۔ انھوں نے مزید واضح کیا کہ ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا سے معاہدوں کی تفصیلی شرائط نومبر 1993ء سے پہلے فائنل ہوئیں، جب نوازشریف کی حکومت تھی اور محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت بعد میں آئی۔ اِس کے علاوہ اُن کو یہ بھی ماننا پڑا کہ سویئٹزرلینڈ میں یہ قطعاً پریکٹس نہیں ہے کہ کوئی سفیر ججوں پر اثر انداز ہونے کے لیے ملاقاتیں کرے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں پیپلز پارٹی مخالف سیاستدانوں سمیت شریفین، میڈیا اور اپنے تئیں صادق و امین فرشتے ججوں کے پروپیگنڈے کے برعکس سوئس کورٹ میں یہ مقدمات (ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کیس) سرے سے تھے ہی نہیں، فقط انکوائری تھی، جس کی کوئی عدالتی اہمیت نہیں تھی۔ شروع میں جب محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری نے ان فضول اور بے بنیاد مقدمات کی پیروی نہ کی تو انویسٹیگیٹنگ جج نے تفتیش میں مدد نہ کرنے پر ایک ایڈورس فائنڈنگ دی۔ آصف علی زرداری تو پاکستان میں جیل میں قید تھے، محترمہ بینظیر بھٹو نے جب پیروی کی تو سوئس حکام نے کہا کہ ہمیں کوئی شواہد نہیں ملے، اس لیے یہ مقدمات فائل نہیں کیے جا سکتے۔
محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری پر سوئس کیسز میں چھ ارب روپے کی کرپشن کے اِلزام میں کئی گنا زیادہ رقم قومی خزانے سے برباد کر دی گئی۔ سیف الرحمٰن نے بھاری فیسوں پر ملکی اور غیر ملکی آفیشل ہائر کیے۔ احتساب بیورو کے آفیشل نے انکوائری کے نام پر سوئٹرز لینڈ، انگلینڈ، امریکہ اور سپین کے دورے کیے اور اس مد میں کروڑوں ڈالرز بے دردی سے پھونک دیئے گئے۔ جس کا جب دل چاہا انکوائری کے بہانے غیر ملکی سیر سپاٹے پر نکل گیا۔ مزیدبرآں، میڈیا پر شریفوں کا مکمل کنٹرول تھا، صحافیوں کا ایک پورا لشکر ان کے اشارہ آبرو کا منتظر رہتا تھا، سوئس کیسز کے بارے میں مسلسل چیختی چنگھاڑتی شہ سرخیاں شائع ہو رہی تھیں۔ اس سلسلے میں اخبارات کے پورے پورے صفحات پر اشتہارات شائع کیے جا رہے تھے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ججوں سے ملی بھگت کی یقینی طور پر بھاری قیمت ادا کی گئی ہو گی۔ اگر سوئس کیسز کی چھ ارب روپے کی جھوٹی کرپشن کہانی کا شریفوں کی کرپشن سے تقابلی جائزہ لیا جائے تو یہ ان کے چھوٹے سے ندی پور پاور پلانٹ پروجیکٹ کے مقابلے میں بھی اُونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر ہے۔
12 اکتوبر 1999ء کو ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی فوجی حکومت کے آتے ہی کرپشن کا نعرہ پھر بلند ہو چکا تھا اور قومی احتساب بیورو کو تحلیل کر کے نیشنل اکاؤنٹ ایبلٹی بیورو (نیب) قائم کیا گیا، جس کے تحت محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری پر پریشر ڈالنے کے لیے نئے مقدمات بنانے کے ساتھ ساتھ پرانے مقدمات بھی چلتے رہے۔ 2001ء میں شریفوں اور ججوں کی ملی بھگت طشت ازبام ہونے پر سپریم کورٹ نے ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز سے متعلقہ مقدمات میں سزا کو کالعدم قرار دے دیا اور ان مقدمات کی از سر نو سماعت کا حکم سنایا۔ جس کے بعد ان مقدمات کی سماعت احتساب عدالت میں شروع ہو گئی۔
پرویز مشرف نے بھی آصف علی زرداری کو اپنے دورِ اقتدار میں پانچ سال تک پابند سلاسل رکھا۔ آصف علی زرداری بالآخر 22 نومبر 2004ء کو اپنی مسلسل اسیری کے آٹھ سال اور اٹھارہ دنوں کے بعد عدالت سے ضمانت پر رہا ہوئے۔ (اس سے قبل بھی وہ بغیر کسی مقدمے کے ثابت نہ ہونے کے باوجود 1990ء سے 1993ء تک ساڑھے تین سال کی بے گناہ جیل کاٹ چکے تھے۔)
5 اکتوبر 2007ء کو پرویز مشرف کی حکومت نے 12 اکتوبر 1999ء سے پہلے قومی احتساب بیورو کی جانب سے عوامی اور سرکاری عہدے رکھنے والوں کے خلاف عدالتوں میں زیرِ التواء مقدمات کے خاتمے کے لیے قومی مصالحتی آرڈیننس (این آر او) جاری کر دیا۔ 12 اکتوبر 2007ء کو سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ این آر او سے متعلق آئینی درخواستوں پر فیصلہ ہونے تک کسی کو بھی اس آرڈیننس کی روشنی میں رعایت نہیں دی جا سکتی۔ 28 فروری 2008ء کو صدر مشرف کی طرف سے جاری کردہ عبوری آئینی حکم کے تحت وجود میں آنے والی سپریم کورٹ نے این آر او کے خلاف حکم امتناعی واپس لیتے ہوئے اسے بحال کر دیا۔
4 مارچ 2008ء کو سندھ ہائی کورٹ نے این آر او کے تحت آصف علی زرداری کے خلاف غیر ممالک میں دائر احتساب ریفرنسس ختم کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ اُس وقت کے اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم نے سوئس کیس سے متعلق کاروائی روک دینے کے لیے سوئس حکام کو خط لکھ دیا۔ اس کے بعد سوئس حکام نے ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کیسز سے متعلق کاروائی روک دی۔ سوئس انویسٹیگیشن عدالت نے اپنے حتمی فیصلے میں لکھا کہ ملک قیوم کا خط آتا یا نہ آتا مگر ہم اس سے قبل گواہوں کے بیانات اور غیر ٹھوس ثبوتوں کی روشنی میں ان کیسز کو ختم کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ سوئس عدالت نے مقدمات کو بے بنیاد قرار دے کر خارج کر دیا۔ سوئس عدالت کے فیصلے کے بعد پراسیکیوٹر نے لکھا تھا کہ دس دن کے اندر اس فیصلے کے خلاف اپیل فائل کی جا سکتی ہے، اس کے بعد یہ کیسز کو بند تصور کیا جائے گا۔ پاکستانی حکومت کی طرف سے اپیل نہ ہونے پر یہ مقدمات ہمیشہ کے لیے بند کر دیئے گئے۔
3 دسمبر 2009ء کو این آر او کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں فُل کورٹ بینچ تشکیل دے دیا گیا۔ 7 دسمبر کو سماعت شروع ہوئی اور 16 دسمبر 2009ء کو سپریم کورٹ نے این آر او کے بارے میں دائر درخواستوں کا فیصلہ سناتے ہوئے این آر او کو کالعدم قرار دے دیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ این آر او کے تحت جن فیصلوں کے تحت مقدمات ختم کر دیئے گئے تھے وہ تمام فیصلے اب کالعدم ہو گئے ہیں۔ عدالت نے اس آرڈیننس سے مستفید ہونے والوں کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولنے کا حکم دے دیا۔
آصف علی زرداری اپنے خلاف مقدمات میں ضمانت پر تھے۔ این آر او کے ذریعے یہ مقدمات ختم ہوئے مگر این آر او کو عدالت کی جانب سے کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد یہ مقدمات دوبارہ بحال ہو گئے تھے۔ سوئس کیسز بھی بحال ہونے کے بعد راولپنڈی کی احتساب عدالت نمبر 2 بھی میں چلتے رہے۔ اس عدالت نے 30 جولائی 2011ء کو اپنا فیصلہ سنا دیا، جس میں عدالت نے اٹھارہ گواہان کی گواہیوں کے بعد ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کیسز خارج کرتے ہوئے واضح طور پر اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ان مقدمات میں کسی بھی ملزم کے خلاف کرپشن، رشوت، کمیشن اور سیاسی دباؤ ڈالنے کے الزامات ثابت نہیں ہوتے۔ تمام الزامات من گھڑت اور جھوٹے تھے۔ ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز کو پری شپمنٹ انسپیکشن کے ٹھیکے خالصتاً میرٹ پر دیئے گئے۔ ان دونوں ٹھیکوں کے عوض قومی خزانے کو ایک پائی کا نقصان ثابت نہیں ہوتا بلکہ اس کنٹریکٹ سے پاکستان کو سالانہ 58 ارب روپے کا فائدہ پہنچا تھا، جس کی تصدیق ایک آڈٹ فرم کر چکی ہے۔ سوئس کیسز کے اہم گواہ اور برسوں انکوائری کرنے والے افسر طارق پرویز کو عدالت میں تسلیم کرنا پڑا کہ یہ مقدمات نواز شریف کے دوسرے دور میں سیف الرحمٰن نے جعلی دستاویزات کی بنیاد پر بنائے تھے۔ طارق پرویز کو یہ بھی ماننا پڑا کہ تحقیقات کے دوران ریفرنسز میں جمع کرائی گئی دستاویزات کی قانون میں دئیے گئے طریقہ کار کے مطابق تصدیق نہیں کی گئی تھی۔ اِن کے سینیئرز کی طرف سے فوٹو کاپیاں دی گئی تھیں۔ جن پر اوریجنل دستخط اور سٹیمپس موجود نہیں تھیں اور اسے حکم دیا گیا تھا کہ وہ اپنے دستخط کر کے ان کی تصدیق کر دے، جو انھوں نے کر دی تھی۔ طارق پرویز نے یہ بھی بتایا کہ ان ریفرنسز میں کوئی ایک بھی ایسی دستاویز نہیں لگائی گئی تھی، جس سے یہ ثابت ہوتا کہ جینوا میں کسی عدالت کے سامنے یہ کیسز چلے تھے۔ سوئس مجسٹریٹ کے سامنے محض تحقیق کے لئے کاروائی ہوئی تھی، جس کی کوئی عدالتی اہمیت نہیں تھی اور اسے بھی بعد میں ختم کر دیا گیا تھا۔ طارق پرویز کے بقول مجسڑیٹ کے سامنے بھی تحقیقات اس خط کے بعد ہوئیں تھیں، جو اٹارنی جنرل محمد فاروق نے سوئس حکومت کو لکھا تھا اور ان تحقیقات کو بھی بعد میں ختم کر دیا گیا تھا۔ طارق نے یہ بھی عدالت کے سامنے تسلیم کیا کہ اس انکوائری کے دوران اس کے سامنے کوئی ایسا ثبوت نہیں مِلا، جس سے ثابت ہوتا کہ ملزمان نے کمیشن کھایا تھا، منی لانڈرنگ کی تھی یا پھر کمپنی کو غیر قانونی مراعات دی تھیں۔ ایک دوسرے گواہ چیف کلکٹر کسٹم ساؤتھ خلیل احمد نے عدالت میں تمام الزامات کی تردید کی اور یہ بھی بیان دیا کہ اسے جنیوا میں سوئس مجسٹریٹ کی عدالت میں منی لانڈرنگ کے کیس کے سلسلے میں پیش ہونے کے لیے بلایا گیا تھا۔ جہاں اس کا بیان ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس کے بیان کے بعد یہ مقدمات وہاں بھی ختم کر دیئے گیے تھے کیونکہ سوئس مجسٹریٹ کی رپورٹ کے بعد جینوا کے اٹارنی جنرل نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ان مقدمات کو جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا کیونکہ اس میں کمیشن لینے یا منی لانڈرنگ کا کوئی ثبوت نہیں ملا تھا- محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ان کا نام سوئس کیسز سے خارج ہو گیا تھا۔ عدالت نے آصف علی زرداری کے بارے میں اپنے فیصلے میں لکھا کہ انھیں اس وقت صدرِ پاکستان ہونے کی وجہ سے استثنٰی حاصل ہے، جب یہ استثنٰی حاصل نہیں رہے گا، تب اس وقت ٹرائل دوبارہ شروع ہو گا۔
احتساب عدالت کے 30 جولائی 2011ء کو دیئے جانے والے سوئس کیسز کے فیصلے کی اتنی بڑی خبر کو پاکستانی اخبارات نے کس طرح رپورٹ کیا؟ کتنی بڑی شہ سُرخیاں لگائیں؟ شہ سُرخیوں کے الفاظات کیا تھے؟ اور یہ خبر کن صفحات پر چھاپی گئی؟ آیئے، ہم آپ کو دکھاتے ہیں کہ قلمی مجاہدین نے عدالتی فیصلے کو کیسے اپنی خواہش کے مطابق خبر میں ڈھال کر قارئین تک پہنچایا تھا۔ اِنتہائی چھوٹے فونٹ میں روزنامہ جنگ کی خبر دیکھنے کے لائق ہے، جو اخبار کے صفحہ نمبر 40 پر چھاپی گئی اور خبر میں ایک عام ریفرنس یعنی اے آر وائی گولڈ کا ذکر کیا۔ اس خبر میں ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا ریفرنسز ایسے اہم مقدمات کا ذکر تک نہیں۔ خبروں کے لِنکس مندرجہ ذیل ہیں۔ تصدیق کے لیے خبروں کے اِمیجز (تصویروں) کے آخر میں یو آر ایل (لِنک) بھی موجود ہیں:
https://imamism.files.wordpress.com/2014/11/swiss-case-express-july-31-2011.png
(ایکسپریس)
https://imamism.files.wordpress.com/2014/11/swiss-case-nawaiwat-july-31-2011.gif
(نوائے وقت)
https://imamism.files.wordpress.com/2014/11/swiss-case-jang-july-31-2011.png
(جنگ)
اگلی قسط میں سوئس مقدمات کے شروع سے لے کر آخر تک رہنے والے حکمرانوں کے اِن مقدمات کے حوالے سے نقطہ ہائے نظر یا احوال کا جائزہ لیں گے۔ یہ وہ حکمران تھے، جنھوں نے یہ مقدمات شروع کیے اور بعد میں چلاتے رہے۔ (جاری ہے)۔
“کرپٹ زرداری” اور صادق و امین فرشتوں کی اصل کہانی (4)
آج ہم شریفوں اور عوام کے خون پسینے کی کمائی سے بھاری مراعات لینے
والے عدلیہ میں بیٹھے درشنی انصاف کے مینار ججوں کی رنگے ہاتھوں پکڑے جانے
والی “صداقت و امانت” پر مبنی واردات کھول کر آپ کے سامنے رکھیں گے، جو
سُپریم کورٹ آف پاکستان میں ثابت ہوئی۔ یہ واردات “صادق و امین فرشتوں” کے
مُنہ پر پہلے سے لگی ہوئی سات توؤں کی کالک کے اوپر ایک اور سیاہ تہہ ہے۔
محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف سُنائی جانے والی یہ واحد سزا، جو سوئس کیسز میں سُنائی گئی، سے متعلقہ مندرجہ ذیل ٹیلیفونک بات چیت سے شریفوں کی چمک کا شکار ہونے والی کینگرو کورٹس کا کردار کُھل کر سامنے آتا ہے۔ یہ بات چیت آپ پر پوری طرح واضح کر دے گی کہ خاندانِ شریفیہ انصاف کے نام پر کلنک عدلیہ کو کس طرح محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف استعمال کر کے پروپیگنڈا کرتا رہا ہے۔ آیئے، گفتگو پڑھتے ہیں:
1۔ سیف الرحمٰن اور جسٹس (ر) ملک محمد قیوم ملک کے درمیان ٹیلیفونک بات چیت
جسٹس ملک محمد قیوم: آپ کا کام ایک یا دو دن میں کیا جائے گا۔ میں نے آپ کے لیے ایک مشیر (پیرزادہ) سے بھی درخواست کی تھی۔ میں نے اسے بتایا کہ میں بہت بیمار ہوں اور میں نے بیرونِ ملک جانا ہے، اس لئے جتنا جلدی ہو سکے میرے لیے یہ معاملہ ختم کر دیں۔ پیرزادہ نے مجھے بتایا کہ وہ یہ کام کر دے گا۔ اور وہ اپنی تمام غلطیوں کا ازالہ کرے گا، اس نے مزید کہا کہ اس کے بعد میاں صاحب (نواز شریف) خوش ہو جا ئیں گے۔
سیف الرحمٰن: بہتر ہو گا کہ آپ یہ کام (سوئس مقدمے کا فیصلہ) آج ہی کر دیں۔
جسٹس ملک محمد قیوم: کام ایک یا دو دن میں ہو جائے گا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اگر ایک دن مزید لگ جاتا ہے۔ یہ بہتر ہو گا کہ اِسے اچھے طریقے سے پورا کیا جائے۔ یہ سپریم کورٹ کی طرف سے کہا گیا ہے۔
سیف الرحمٰن: وہ محض شور یا پھر بائیکاٹ کریں گے۔
جسٹس ملک محمد قیوم: ہم انہیں سپریم کورٹ کا بائیکاٹ کبھی نہیں کرنے دیں گے۔ اس سے بین الاقوامی سطح پر آپ کے لئے بہت فائدہ ہو گا۔ آپ سمجھ گئے ہیں نا؟
سیف الرحمٰن: براہ مہربانی آپ جلدی کریں کیونکہ پہلے ہی بہت زیادہ مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔
جسٹس ملک محمد قیوم: ایک یا دو دن لگیں گے، آپ تو ہمارے وکیل ہیں۔
سیف الرحمٰن: خدا کی قسم! آپ نہیں جانتے۔ اللہ جانتا ہے کہ میں تمھارے لیے کتنا لڑا ہوں۔
جسٹس ملک محمد قیوم: خدا کے فضل و کرم سے کام ہو جائے گا۔ میں اور آپ دونوں جائیں گے اور مل کر ان (نواز شریف) سے معافی مانگ لیں گے۔
سیف الرحمٰن: ہم مل کر وہاں جائیں گے، لیکن کل یہ کام سو فیصد ہو جانا چاہیئے۔
جسٹس ملک محمد قیوم: ٹھیک ہے، ہم ایک ساتھ جائیں گے، مجھے نناوے فیصد امید ہے کہ وہ (پیرزادہ) یہ کام کل تک کر دے گا۔
سیف الرحمٰن: نناوے فیصد نہیں، بلکہ آپ سو فیصد تصدیق کریں کہ آپ کل فیصلے کا اعلان کرنے جا رہے ہیں۔ بہتر ہو گا کہ آپ اسے ختم کریں (فیصلہ سُنا دیں)۔
جسٹس ملک محمد قیوم: ختم کیسے جی، وہ (آصف علی زرداری) آگے سے لڑتا ہے جی۔
سیف الرحمٰن: وہ تو لڑے گا، آپ ختم کریں (فیصلہ سُنا دیں)۔
جسٹس ملک محمد قیوم: ٹھیک ہے، آپ مجھے بتائیں کہ اسے کتنی سزا دینی ہے؟
سیف الرحمٰن: انہوں (نواز شریف) نے کہا ہے کہ سزا سات سال سے کم نہیں ہو چاہیئے؟
جسٹس ملک محمد قیوم: نہیں، سات سال نہیں۔ پانچ سال کر دیتے ہیں۔ بہتر ہو گا کہ آپ ان سے پوچھ لیں، سات سال زیادہ سے زیادہ سزا ہے اور سات سال کوئی بھی نہیں دیتا۔ مجھے پوچھ کر بتانا۔
سیف الرحمٰن: پوچھ کر بتاتا ہوں (نواز شریف سے)۔
جسٹس ملک محمد قیوم: میں نے سزا میں جرمانہ شامل کر دیا ہے۔ جائیداد کی ضبطی کے ساتھ ساتھ اس کی نا اہلی کی سزا کا بھی فیصلہ ہو گا۔
سیف الرحمٰن: نہ صرف جائیداد، بلکہ ساری جائیداد، اس کے علاوہ دو سال جب سے وہ (آصف علی زرداری) گرفتار ہے۔ ان دو سالوں کو قید کی سزا سے منہا نہیں کرنا۔
جسٹس ملک محمد قیوم: یہ ہمارے کیس میں پکڑا ہوا نہیں تھا، یہ ہمارے مقدمے میں ضمانت پر ہے، اس لیے یہ پہلے والے دو سال شمار نہیں ہو سکتے، جتنی سزا ملے گی یہ (آصف علی زرداری) اتنا عرصہ جیل میں ہی رہے گا۔
سیف الرحمٰن: آپ نے کل تک فیصلہ کرنا ہے۔
2۔ چوہدری پرویز الٰہی اور جسٹس ملک محمد قیوم کے درمیان ٹیلیفونک بات چیت
جسٹس ملک محمد قیوم: یار! اس (سیف الرحمٰن) نے مجھے ٹیلی فون کیا ہے اور بتایا ہے کہ نواز شریف مجھ سے بہت ناراض ہے کیونکہ میں نے ابھی تک فیصلے کا اعلان نہیں کیا۔ میں نے سوچا تھا کہ بہتر ہے کہ میں آپ کو بھی بتا دوں۔
پرویز الہی: (تفصیلی بات چیت کرنے سے ہچکچاہٹ)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے، کچھ اور بات چیت کرتے ہیں۔
جسٹس ملک محمد قیوم: یار! نواز شریف خوامخواہ ناراض ہو جاتے ہیں۔
پرویز الہی: (دوبارہ ہچکچاہٹ۔۔۔۔) اسے چھوڑیں۔ آپ مجھے بتائیں، آپ کیسے ہیں؟
——- لائن منقطع
3۔ جسٹس ملک محمد قیوم کو سیف الرحمٰن کی دوسری ٹیلیفوں کال
سیف الرحمٰن: میں نے ان (نواز شریف) سے دوبارہ بات کی ہے۔ انہوں نے شکایت کی ہے کہ آپ وعدہ پورا نہیں کرتے۔
جسٹس ملک محمد قیوم: ٹھیک ہے، ویسا ہی ہو گا جیسا وہ (نوازشریف) چاہتے ہیں۔
سیف الرحمٰن: انہوں (نواز شریف) نے یہ بھی کہا کہ آپ اسے (آصف علی زرداری) “فل ڈَوز” نہیں دینا چاہتے۔
جسٹس ملک محمد قیوم: نہیں، عام طور پر زیادہ سے زیادہ (maximum) سزا نہیں دی جاتی۔
سیف الرحمٰن: سوئٹزر لینڈ اور لندن میں اِن (بینظیر بھٹو اور آصف زرداری) کی جائیداد اور بینک اکاؤنٹس کو کس طرح وصول کیا جا سکتا ہے؟ کیا ہم انھیں فریز کر سکتے ہیں؟
جسٹس ملک محمد قیوم: فیصلے کے بعد آپ کو جائیداد کے لئے آرڈرز کے مطابق ایک درخواست دائر کرنی پڑے گی۔ خیر کل فیصلے میں جائیداد اور اکاؤنٹس کے بارے میں ذکر کیا جائے گا۔ اور یہ فیصلہ ہر چیز کا احاطہ کرے گا۔
اِس کے علاوہ اُس وقت کے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ راشد عزیز اور جسٹس ملک محمد قیوم کی بھی ٹیلیفونک ریکارڈڈ ٹیپ پکڑی گئی (راقم کے پاس یہ آڈیو بھی موجود ہے، شریف برادران سے متعلقہ دوسرے معاملات کے بارے میں طویل مکالمے کی وجہ سے یہ گفتگو یہاں نہیں لکھی گئی)، جس میں راشد عزیز ملک قیوم کو تاکید کر رہے ہیں کہ کل ہی ہر صورت میں محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف سزا سُنا دیں۔
(اس کے بعد احتساب عدالت کے جج ملک قیوم نے نواز شریف کی فرمائش کے عین مطابق محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف فیصلہ سُنا دیا۔)
4۔ فیصلے کے بعد سیف الرحمٰن کی جسٹس ملک محمد قیوم کو تیسری ٹیلیفون کال
سیف الرحمٰن: تمہارے فیصلے نے مجھے بہت خوش کر دیا۔ اس فیصلے نے خدا کے فضل سے پوری قوم کو کامیاب بنا دیا ہے۔ میں نے مجید ملک اور اسحاق ڈار کے ساتھ وزیر اعظم نواز شریف کی صدارت میں ایک اجلاس میں شرکت کی ہے، جس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کسی بھی تاخیر کے بغیر فیصلے کو نافذ اور تمام جائیداد ضبط کرنے کی کاروائی کی جائے۔
جسٹس ملک محمد قیوم: ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔
5۔ شہباز شریف کی جسٹس ملک محمد قیوم کو ٹیلیفون کال:
فون کی بیل ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیلیفون آپریٹر: السلام علیکم، جسٹس ملک قیوم صاحب ہیں؟
جسٹس ملک محمد قیوم کے گھر سے کوئی بچی فون اُٹھاتی ہے: وعلیکم السلام، کون بول رہے ہیں؟
ٹیلیفون آپریٹر: چیف منسٹر پنجاب (شہباز شریف) بات کریں گے۔
بچی جواب دیتی ہے کہ میں دیکھتی ہوں۔
ٹیلیفون آپریٹر: جسٹس صاحب!
جسٹس ملک محمد قیوم: جی بول رہا ہوں۔
ٹیلیفون آپریٹر: ہولڈ کریں، میاں صاحب بات کریں گے۔
شہباز شریف: ہاں جناب۔
جسٹس ملک محمد قیوم: جی میاں صاحب، اسلام علیکم۔
شہباز شریف: کیا حال ہے، ٹھیک ٹھاک ہیں؟
جسٹس ملک محمد قیوم: بڑی مہربانی۔
شہباز شریف: خیریت سے ہیں؟
جسٹس ملک محمد قیوم: آپ سنائیں؟
شہباز شریف: بس آپ کی دعا چاہیئے، آپ کے راج میں آپ کو دعا دیتے ہیں۔
جسٹس ملک محمد قیوم: بس سر جی، آپ بھائی ہیں۔
شہباز شریف: میں نے آپ سے ایک گذارش کی تھی۔
جسٹس ملک محمد قیوم: سر جی وہ (سوئس کیس کا فیصلہ) تو میں نے نمٹا دیا تھا۔
شہباز شریف: بڑی مہربانی، دوسرا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بڑے بھائی (نواز شریف) نے کہا ہے کہ مہربانی کر کے سرور چوہدری کے کیس کا دھیان کرنا۔
جسٹس ملک محمد قیوم: کون چوہدری سرور؟
شہباز شریف: ایم این اے (رکن قومی اسمبلی)۔
جسٹس ملک محمد قیوم: اسے کیا ہوا جی؟
شہباز شریف: آپ کے پاس اس کی نااہلی کا ایک کیس ہے۔
جسٹس ملک محمد قیوم: جی، چوہدری سرور کا خیال رکھنا ہے؟
شہباز شریف: جی ہاں۔
جسٹس ملک محمد قیوم: چلو جی کوئی بات نہیں، کر دیا جی۔ میاں صاحب نے کہہ دیا تو کر دیا۔
شہباز شریف: بڑی مہربانی۔
جسٹس ملک محمد قیوم: شکریہ
شریفوں اور ججوں کی ثابت شدہ ملی بھگت پر تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ مندرجہ بالا گفتگو سے سب کچھ واضح ہے کہ اصولوں کی سیاست کے نعرے لگانے والے اور منصفوں کے اعلٰی منصب پر بیٹھنے والوں کا اصل چہرہ کتنا مکروہ اور بھیانک ہے۔ مکر یہاں ہم اپنی حیرت کا اظہار ضرور کریں گے کہ جب یہ ملی بھگت سپریم کورٹ آف پاکستان میں ثابت ہو گئی تو اتنے بڑے جُرم میں ملوث دو ججوں کو گھر بھیجنے کے ساتھ شریفوں اور ان کے حواریوں کو کیوں بالکل معاف کر دیا گیا؟ مزید برآں، سپریم کورٹ نے سوئس کیسز کی سزا کالعدم قرار دے کر مقدمات ایک بار از سر نو سماعت کے لیے احتساب عدالت میں بھیج دیئے حالانکہ مقدمات دائر کرنے والوں کی نیت اور عمل سامنے آ چکے تھے۔ مزید برآں، آڈٹ کمپنی کی رپوٹ کے مطابق اِن ٹھیکوں سے پاکستان کو سالانہ اٹھاون ارب روپے کا بھی فائدہ ہو چکا تھا۔ اگر ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز سے کمیشن یا کِک بیک لینے کے ثبوت ہوتے تو شریفوں کو ججوں کے ساتھ ملی بھگت کرنے کی ضرورت کیوں پڑتی؟
سوئس کیسز کے سلسے میں شریفوں نے کامیاب چمک جادو کے ذریعے جب لاہور ہائیکورٹ کے ججوں کو مغلوب کیا، بالکل اُسی وقت محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو سزا دلوانے کے لیے سوئس عدالت پر بھی چمک جادو کے منتر پھونکے گئے۔ اِس بارے میں تفصیل کے لیے پانچویں قسط کا انتظار کیجیئے۔ (جاری ہے)
محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف سُنائی جانے والی یہ واحد سزا، جو سوئس کیسز میں سُنائی گئی، سے متعلقہ مندرجہ ذیل ٹیلیفونک بات چیت سے شریفوں کی چمک کا شکار ہونے والی کینگرو کورٹس کا کردار کُھل کر سامنے آتا ہے۔ یہ بات چیت آپ پر پوری طرح واضح کر دے گی کہ خاندانِ شریفیہ انصاف کے نام پر کلنک عدلیہ کو کس طرح محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف استعمال کر کے پروپیگنڈا کرتا رہا ہے۔ آیئے، گفتگو پڑھتے ہیں:
1۔ سیف الرحمٰن اور جسٹس (ر) ملک محمد قیوم ملک کے درمیان ٹیلیفونک بات چیت
جسٹس ملک محمد قیوم: آپ کا کام ایک یا دو دن میں کیا جائے گا۔ میں نے آپ کے لیے ایک مشیر (پیرزادہ) سے بھی درخواست کی تھی۔ میں نے اسے بتایا کہ میں بہت بیمار ہوں اور میں نے بیرونِ ملک جانا ہے، اس لئے جتنا جلدی ہو سکے میرے لیے یہ معاملہ ختم کر دیں۔ پیرزادہ نے مجھے بتایا کہ وہ یہ کام کر دے گا۔ اور وہ اپنی تمام غلطیوں کا ازالہ کرے گا، اس نے مزید کہا کہ اس کے بعد میاں صاحب (نواز شریف) خوش ہو جا ئیں گے۔
سیف الرحمٰن: بہتر ہو گا کہ آپ یہ کام (سوئس مقدمے کا فیصلہ) آج ہی کر دیں۔
جسٹس ملک محمد قیوم: کام ایک یا دو دن میں ہو جائے گا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اگر ایک دن مزید لگ جاتا ہے۔ یہ بہتر ہو گا کہ اِسے اچھے طریقے سے پورا کیا جائے۔ یہ سپریم کورٹ کی طرف سے کہا گیا ہے۔
سیف الرحمٰن: وہ محض شور یا پھر بائیکاٹ کریں گے۔
جسٹس ملک محمد قیوم: ہم انہیں سپریم کورٹ کا بائیکاٹ کبھی نہیں کرنے دیں گے۔ اس سے بین الاقوامی سطح پر آپ کے لئے بہت فائدہ ہو گا۔ آپ سمجھ گئے ہیں نا؟
سیف الرحمٰن: براہ مہربانی آپ جلدی کریں کیونکہ پہلے ہی بہت زیادہ مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔
جسٹس ملک محمد قیوم: ایک یا دو دن لگیں گے، آپ تو ہمارے وکیل ہیں۔
سیف الرحمٰن: خدا کی قسم! آپ نہیں جانتے۔ اللہ جانتا ہے کہ میں تمھارے لیے کتنا لڑا ہوں۔
جسٹس ملک محمد قیوم: خدا کے فضل و کرم سے کام ہو جائے گا۔ میں اور آپ دونوں جائیں گے اور مل کر ان (نواز شریف) سے معافی مانگ لیں گے۔
سیف الرحمٰن: ہم مل کر وہاں جائیں گے، لیکن کل یہ کام سو فیصد ہو جانا چاہیئے۔
جسٹس ملک محمد قیوم: ٹھیک ہے، ہم ایک ساتھ جائیں گے، مجھے نناوے فیصد امید ہے کہ وہ (پیرزادہ) یہ کام کل تک کر دے گا۔
سیف الرحمٰن: نناوے فیصد نہیں، بلکہ آپ سو فیصد تصدیق کریں کہ آپ کل فیصلے کا اعلان کرنے جا رہے ہیں۔ بہتر ہو گا کہ آپ اسے ختم کریں (فیصلہ سُنا دیں)۔
جسٹس ملک محمد قیوم: ختم کیسے جی، وہ (آصف علی زرداری) آگے سے لڑتا ہے جی۔
سیف الرحمٰن: وہ تو لڑے گا، آپ ختم کریں (فیصلہ سُنا دیں)۔
جسٹس ملک محمد قیوم: ٹھیک ہے، آپ مجھے بتائیں کہ اسے کتنی سزا دینی ہے؟
سیف الرحمٰن: انہوں (نواز شریف) نے کہا ہے کہ سزا سات سال سے کم نہیں ہو چاہیئے؟
جسٹس ملک محمد قیوم: نہیں، سات سال نہیں۔ پانچ سال کر دیتے ہیں۔ بہتر ہو گا کہ آپ ان سے پوچھ لیں، سات سال زیادہ سے زیادہ سزا ہے اور سات سال کوئی بھی نہیں دیتا۔ مجھے پوچھ کر بتانا۔
سیف الرحمٰن: پوچھ کر بتاتا ہوں (نواز شریف سے)۔
جسٹس ملک محمد قیوم: میں نے سزا میں جرمانہ شامل کر دیا ہے۔ جائیداد کی ضبطی کے ساتھ ساتھ اس کی نا اہلی کی سزا کا بھی فیصلہ ہو گا۔
سیف الرحمٰن: نہ صرف جائیداد، بلکہ ساری جائیداد، اس کے علاوہ دو سال جب سے وہ (آصف علی زرداری) گرفتار ہے۔ ان دو سالوں کو قید کی سزا سے منہا نہیں کرنا۔
جسٹس ملک محمد قیوم: یہ ہمارے کیس میں پکڑا ہوا نہیں تھا، یہ ہمارے مقدمے میں ضمانت پر ہے، اس لیے یہ پہلے والے دو سال شمار نہیں ہو سکتے، جتنی سزا ملے گی یہ (آصف علی زرداری) اتنا عرصہ جیل میں ہی رہے گا۔
سیف الرحمٰن: آپ نے کل تک فیصلہ کرنا ہے۔
2۔ چوہدری پرویز الٰہی اور جسٹس ملک محمد قیوم کے درمیان ٹیلیفونک بات چیت
جسٹس ملک محمد قیوم: یار! اس (سیف الرحمٰن) نے مجھے ٹیلی فون کیا ہے اور بتایا ہے کہ نواز شریف مجھ سے بہت ناراض ہے کیونکہ میں نے ابھی تک فیصلے کا اعلان نہیں کیا۔ میں نے سوچا تھا کہ بہتر ہے کہ میں آپ کو بھی بتا دوں۔
پرویز الہی: (تفصیلی بات چیت کرنے سے ہچکچاہٹ)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے، کچھ اور بات چیت کرتے ہیں۔
جسٹس ملک محمد قیوم: یار! نواز شریف خوامخواہ ناراض ہو جاتے ہیں۔
پرویز الہی: (دوبارہ ہچکچاہٹ۔۔۔۔) اسے چھوڑیں۔ آپ مجھے بتائیں، آپ کیسے ہیں؟
——- لائن منقطع
3۔ جسٹس ملک محمد قیوم کو سیف الرحمٰن کی دوسری ٹیلیفوں کال
سیف الرحمٰن: میں نے ان (نواز شریف) سے دوبارہ بات کی ہے۔ انہوں نے شکایت کی ہے کہ آپ وعدہ پورا نہیں کرتے۔
جسٹس ملک محمد قیوم: ٹھیک ہے، ویسا ہی ہو گا جیسا وہ (نوازشریف) چاہتے ہیں۔
سیف الرحمٰن: انہوں (نواز شریف) نے یہ بھی کہا کہ آپ اسے (آصف علی زرداری) “فل ڈَوز” نہیں دینا چاہتے۔
جسٹس ملک محمد قیوم: نہیں، عام طور پر زیادہ سے زیادہ (maximum) سزا نہیں دی جاتی۔
سیف الرحمٰن: سوئٹزر لینڈ اور لندن میں اِن (بینظیر بھٹو اور آصف زرداری) کی جائیداد اور بینک اکاؤنٹس کو کس طرح وصول کیا جا سکتا ہے؟ کیا ہم انھیں فریز کر سکتے ہیں؟
جسٹس ملک محمد قیوم: فیصلے کے بعد آپ کو جائیداد کے لئے آرڈرز کے مطابق ایک درخواست دائر کرنی پڑے گی۔ خیر کل فیصلے میں جائیداد اور اکاؤنٹس کے بارے میں ذکر کیا جائے گا۔ اور یہ فیصلہ ہر چیز کا احاطہ کرے گا۔
اِس کے علاوہ اُس وقت کے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ راشد عزیز اور جسٹس ملک محمد قیوم کی بھی ٹیلیفونک ریکارڈڈ ٹیپ پکڑی گئی (راقم کے پاس یہ آڈیو بھی موجود ہے، شریف برادران سے متعلقہ دوسرے معاملات کے بارے میں طویل مکالمے کی وجہ سے یہ گفتگو یہاں نہیں لکھی گئی)، جس میں راشد عزیز ملک قیوم کو تاکید کر رہے ہیں کہ کل ہی ہر صورت میں محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف سزا سُنا دیں۔
(اس کے بعد احتساب عدالت کے جج ملک قیوم نے نواز شریف کی فرمائش کے عین مطابق محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف فیصلہ سُنا دیا۔)
4۔ فیصلے کے بعد سیف الرحمٰن کی جسٹس ملک محمد قیوم کو تیسری ٹیلیفون کال
سیف الرحمٰن: تمہارے فیصلے نے مجھے بہت خوش کر دیا۔ اس فیصلے نے خدا کے فضل سے پوری قوم کو کامیاب بنا دیا ہے۔ میں نے مجید ملک اور اسحاق ڈار کے ساتھ وزیر اعظم نواز شریف کی صدارت میں ایک اجلاس میں شرکت کی ہے، جس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کسی بھی تاخیر کے بغیر فیصلے کو نافذ اور تمام جائیداد ضبط کرنے کی کاروائی کی جائے۔
جسٹس ملک محمد قیوم: ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔
5۔ شہباز شریف کی جسٹس ملک محمد قیوم کو ٹیلیفون کال:
فون کی بیل ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیلیفون آپریٹر: السلام علیکم، جسٹس ملک قیوم صاحب ہیں؟
جسٹس ملک محمد قیوم کے گھر سے کوئی بچی فون اُٹھاتی ہے: وعلیکم السلام، کون بول رہے ہیں؟
ٹیلیفون آپریٹر: چیف منسٹر پنجاب (شہباز شریف) بات کریں گے۔
بچی جواب دیتی ہے کہ میں دیکھتی ہوں۔
ٹیلیفون آپریٹر: جسٹس صاحب!
جسٹس ملک محمد قیوم: جی بول رہا ہوں۔
ٹیلیفون آپریٹر: ہولڈ کریں، میاں صاحب بات کریں گے۔
شہباز شریف: ہاں جناب۔
جسٹس ملک محمد قیوم: جی میاں صاحب، اسلام علیکم۔
شہباز شریف: کیا حال ہے، ٹھیک ٹھاک ہیں؟
جسٹس ملک محمد قیوم: بڑی مہربانی۔
شہباز شریف: خیریت سے ہیں؟
جسٹس ملک محمد قیوم: آپ سنائیں؟
شہباز شریف: بس آپ کی دعا چاہیئے، آپ کے راج میں آپ کو دعا دیتے ہیں۔
جسٹس ملک محمد قیوم: بس سر جی، آپ بھائی ہیں۔
شہباز شریف: میں نے آپ سے ایک گذارش کی تھی۔
جسٹس ملک محمد قیوم: سر جی وہ (سوئس کیس کا فیصلہ) تو میں نے نمٹا دیا تھا۔
شہباز شریف: بڑی مہربانی، دوسرا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بڑے بھائی (نواز شریف) نے کہا ہے کہ مہربانی کر کے سرور چوہدری کے کیس کا دھیان کرنا۔
جسٹس ملک محمد قیوم: کون چوہدری سرور؟
شہباز شریف: ایم این اے (رکن قومی اسمبلی)۔
جسٹس ملک محمد قیوم: اسے کیا ہوا جی؟
شہباز شریف: آپ کے پاس اس کی نااہلی کا ایک کیس ہے۔
جسٹس ملک محمد قیوم: جی، چوہدری سرور کا خیال رکھنا ہے؟
شہباز شریف: جی ہاں۔
جسٹس ملک محمد قیوم: چلو جی کوئی بات نہیں، کر دیا جی۔ میاں صاحب نے کہہ دیا تو کر دیا۔
شہباز شریف: بڑی مہربانی۔
جسٹس ملک محمد قیوم: شکریہ
شریفوں اور ججوں کی ثابت شدہ ملی بھگت پر تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ مندرجہ بالا گفتگو سے سب کچھ واضح ہے کہ اصولوں کی سیاست کے نعرے لگانے والے اور منصفوں کے اعلٰی منصب پر بیٹھنے والوں کا اصل چہرہ کتنا مکروہ اور بھیانک ہے۔ مکر یہاں ہم اپنی حیرت کا اظہار ضرور کریں گے کہ جب یہ ملی بھگت سپریم کورٹ آف پاکستان میں ثابت ہو گئی تو اتنے بڑے جُرم میں ملوث دو ججوں کو گھر بھیجنے کے ساتھ شریفوں اور ان کے حواریوں کو کیوں بالکل معاف کر دیا گیا؟ مزید برآں، سپریم کورٹ نے سوئس کیسز کی سزا کالعدم قرار دے کر مقدمات ایک بار از سر نو سماعت کے لیے احتساب عدالت میں بھیج دیئے حالانکہ مقدمات دائر کرنے والوں کی نیت اور عمل سامنے آ چکے تھے۔ مزید برآں، آڈٹ کمپنی کی رپوٹ کے مطابق اِن ٹھیکوں سے پاکستان کو سالانہ اٹھاون ارب روپے کا بھی فائدہ ہو چکا تھا۔ اگر ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز سے کمیشن یا کِک بیک لینے کے ثبوت ہوتے تو شریفوں کو ججوں کے ساتھ ملی بھگت کرنے کی ضرورت کیوں پڑتی؟
سوئس کیسز کے سلسے میں شریفوں نے کامیاب چمک جادو کے ذریعے جب لاہور ہائیکورٹ کے ججوں کو مغلوب کیا، بالکل اُسی وقت محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو سزا دلوانے کے لیے سوئس عدالت پر بھی چمک جادو کے منتر پھونکے گئے۔ اِس بارے میں تفصیل کے لیے پانچویں قسط کا انتظار کیجیئے۔ (جاری ہے)
“کرپٹ زرداری” اور صادق و امین فرشتوں کی اصل کہانی (3)
پاکستان پیپلز پارٹی کی مدِّمخالف “اُم الخبائث” اور اس کی اولاد نے آصف
علی زرداری کو مطعُون کرنے کے لیے کمینگی کی ساری حدیں اِنتہائی بے شرمی
سے پھلانگ چلی آ رہی ہے۔ ان کے خلاف چودہ جھوٹے مقدمات بنائے۔ بھرپور منفی
پروپیگنڈا کیا اور بغیر کسی سزا کے عمر قید جتنا عرصہ پُرتشدد جیلوں میں
پابند سلاسل رکھا مگر اِن گوئبلز پر تُف ہے کہ بے پناہ مُلکی وسائل لُٹانے
اور گھٹیا سے گھٹیا چالبازیوں کے باوجود آج تک ایک بھی مقدمہ سچا ثابت نہیں
کر سکے۔ ہاں، البتہ اِن “صادق و امین فرشتوں” نے وطنِ عزیز میں برین واشڈ
دولے شاہی چُوہوں کی ایک پوری نسل تیار کر کے اپنے تئیں ایک بہت بڑی
کامیابی حاصل کر لی ہے۔ یہ نسل اپنی عقل کو فولادی ڈبے میں بند کر کے سمندر
کی اتھاہ گہرایوں میں پھینکنے کے بعد اپنی ہذیان گوئی، کذب بیانی، مغلظات،
نفرت انگیزی اور سفلی اشتعال انگیزی کو ہی دانشورانہ عمل سمجھتی ہے۔
آصف علی زرداری کے خلاف سب مقدمات کی تفصیل لکھنے کے لئے تو یقینی طور ایک ضخیم کتاب درکار ہو گی، جو کہ ہمارے لیے اس وقت ممکن نہیں ہے مگر ہم یہاں زرداری کے خلاف سب سے اہم اور مشہور و معروف ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز سے متعلقہ (سوئس کیسز) سے متعلق حقائق سے آپ کو روشناس کرانے جا رہے ہیں (سوئز کیسز کو آپ بجا طور پر محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف میگا سکینڈل یا سب مقدمات کا آباء بھی کہہ سکتے ہیں)، جس سے آپ واضح طور پر سمجھ جائیں گے کہ آصف علی زرداری کتنے بڑے “کرپٹ” ہیں اور اِن کے مخالفین کتنے بڑے “صادق و امین فرشتے”؟
یاد رہے کہ ایس جی ایس اور کوٹیکنا نامی دونوں یورپی کمپنیاں، جو درآمد کردہ سامان کی مالیت طے کرنے اور اس حساب سے ٹیکس وصول کرنے کی سفارشات کا کام کرتی ہیں۔ چونکہ بعض پاکستانی درآمد کنندہ درآمد کردہ اشیاء پر ٹیکس سے بچنے کے لیے ان کی قیمتیں کم ظاہر کرتے ہیں اور اس طرح خزانے کو نقصان پہنچتا ہے، جس سے بچنے کے لیے نواز شریف نے وزیر اعظم کی حیثیت سے اِن دونوں کمپنیوں کے ساتھ 1992ء میں تجارت کے عالمی معاہدے کے تحت دستخط کر چکے تھے تاہم ان کی حکومت کے خاتمے کی وجہ سے وہ اسے ایوارڈ نہیں کر سکے تھے حالانکہ اُس وقت کے چیف کسٹم کلکٹر خلیل احمد کے بقول نوازشریف کی حکومت نے ان کمپنیز کو کہہ دیا تھا کہ وہ 16 اپریل 1992ء سے اپنا کام شروع کر دیں۔ نواز شریف کی حکومت جانے کے بعد جب محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت آئی تو اُنھیں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کے تحت نواز شریف کے کیے ہوئے معاہدے کے عین مطابق 1994ء میں دونوں کمپنیوں کو پری شپمینٹ اِنسپیکشن کے کنٹریکٹ دینے پڑے۔ اگر محترمہ بینظیر بھٹو اِن معاہدوں کی پاسداری نہ کرتیں تو ڈبلیو ٹی او کے عالمی قوانین کے تحت پاکستان کو بھاری جرمانے کا سامنا یقینی تھا۔ اِس طرح ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز نے اپنا کام شروع کر دیا، جس سے پاکستان کو ٹیکسس کی مد میں نقصان کی بجائے سالانہ اٹھاون ارب روپے کا فائدہ ہوا۔
اپنے آپ کو صادق و امین فرشتے ظاہر کرنے والے گوئبلز کے پاس سچ کی بجائے کذب بیانی کے وافر مقدار میں خزانے ہیں، جس سے یہ اپنے ہم رکابی میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈے کے طوفاں بپا کر کے عوام کے دماغوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کی بھرپور حمایت اور وافر وسائل کے باوجود نوازشریف کے دُوسرے دورِ حکومت کی اِبتدا تک محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف اِن کے ہاتھ میں کچھ نہ آیا تو پوری سوچ بچار کے بعد سوئس کیس کو مصالحے دار بنا کر پروپیگنڈا کرنے کے اِنھیں زیادہ مواقع نظر آئے، جس سے یہ اپنے تیر بہدف ہتھیار یعنی مِلی بھگت کو استعمال کرتے ہوئے میڈیا کے ذریعے عوام کو متنفر کرنے اور عدالتوں سے سزائیں دلوا کر محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو ہمیشہ کے لیے سیاست سے آؤٹ کرنے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانا چاہتے تھے۔ اپنی اس منصوبہ بندی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے چند اور ریفرنسس کے ساتھ ساتھ سب سے اہم مقدمات یعنی سوئس کیسز احتساب عدالت میں شروع کر دیئے گئے۔ مزید برآں، اس سلسلے میں حکومتِ ہاکستان نے سوئس حکام سے بھی رجوع کر لیا۔ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین سیف الرحمٰن نے 10 اکتوبر 1997ء کو سوئس حکام کو مندرجہ ذیل لوگوں کے خلاف ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا مقدمے سے متعلق ایک خط لکھا تھا:
1۔ آصف علی زرداری
2۔ بینظیر بھٹو
3۔ نصرت بھٹو
4۔ حاکم علی زرداری
5۔ جیمزشینگلل (وکیل)
6۔ ڈیلٹرپلینٹو (فرنٹ مین)
بعد ازاں 1997ء میں ہی سوئس حکام کو ایک اور خط لکھا گیا اور درخواست کی گئی کہ اِن کیسز کو ہنگامی بنیادوں پر دیکھا جائے اور فوری طور پر فیصلہ کیا جائے۔ یہ خط اُس وقت کے اٹارنی جنرل چوہدری محمد فاروق (جسٹس خلیل رمدے کے بھائی) کے لیٹر ہیڈ پر لکھا گیا تھا۔ دستخط کی جگہ اُس وقت کے اٹارنی جنرل چوہدری محمد فاروق کا نام لکھا ہوا تھا مگر دستخط قومی احتساب بیورو کے ڈپٹی چیئرمین حسن وسیم افضل نے کیے تھے۔ پھر 19 فروری 1999ء کو سوئس حکام کو تیسرا خط چوہدری محمد فاروق کے لیٹر ہیڈ پر ہی لکھا گیا تھا۔ دستخط کی جگہ چوہدری محمد فاروق کا نا م تھا مگر دستخط سیف الرحمٰن کے تھے۔
نواز شریف حکومت کی پوری کوشش تھی کہ کسی نہ کسی طرح سوئس عدالت سے محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف جلد از جلد فیصلہ کرا لیا جائے مگر سوئس حکام نے پاکستان کی حکومت پر واضح کر دیا کہ اُن کی انکوائری کا دار و مدار پاکستان میں احتساب عدالتوں میں زیر التوا ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز سے متعلقہ کیسز کے فیصلے سے مشروط ہے۔ نواز شریف حکومت کے لیے مشکل یہ تھی کہ جھوٹے شواہد سے اِن کے من کی مُراد کیسے پوری ہو؟ یہ من کی مراد ایسے پوری ہوئی کہ 15 اپریل 1999ء کو شریف برادران نے لاہور ہائیکورٹ کے ججوں کے ساتھ مِلی بھگت کے بعد احتساب عدالت کے ذریعے اپنا من پسند فیصلہ حاصل کر لیا۔ اس عدالتی فیصلے کے تحت محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو سات سالہ قید کی سزا ہوئی اور اِس کے علاوہ سب بنک اکاؤنٹس سِیز، ساری جائیداد کی ضبطگی کے ساتھ ساتھ اِن کی نا اہلی کی سزائیں بھی شامل تھیں۔
آئین شکن ڈکٹیٹر ضیاءالحق کے دور میں قید و بند کی سزائیں کاٹنے اور بعد میں ضیاءالحق کی معنوی اولاد کے ساتھ جمہوریت کی جنگ لڑنے والی محترمہ بینظیر بھٹو کو سوئس کیسز میں ملی بھگت سے دلوائی جانے والی سزا کی پہلے ہی بھنک پڑ گئی تو وہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کو محفوظ بنانے لیے بیرونِ چلی گئیں۔ آصف علی زردری پہلے سے ہی 1996ء سے پابند سلال تھے۔
قُدرت کی کرنی ایسی ہوئی کہ 2001ء میں شریف برادران اور ججوں کی سوئس کیسز سے متعلق ٹیلیفونک ریکارڈڈ گفتگو منظر عام پر آ گئی تو 6 اپریل 2001ء کو پاکستان کی سپریم کورٹ کو سوئس کیس کی 15 اپریل 1999ء کو سنائی جانے والی سزا کڑوی گولی نگلتے ہوئے کالعدم قرار دینی پڑی (واضح رہے کہ یہ سزا کالعدم قرار دینے والے بینچ میں سپریم کورٹ کے جسٹس افتخار محمد چوہدری بھی شامل تھے)۔ اس فیصلے سے سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ راشد عزیز (اُس وقت سپریم کورٹ کے جج تھے) اور ملک محمد قیوم جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو اپنی اپنی نشستوں سے اِستعفے دینے پڑے۔
سوئس کیسز کے سلسلے میں شریف حکومت اور ججوں کی مِلی بھگت کی تفصیل یہ ہے کہ نواز شریف، شہباز شریف، وزیر قانون خالد انور، اٹارنی جنرل چوہدری فاروق، احتساب بیورو کے چیئرمین سیف الرحمٰن، لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس راشد عزیز نے احتساب عدالت کے جج ملک محمد قیوم سے بار بار فرمائش کی تھی کہ محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو جلد از جلد اور سخت سے سخت سزا سناؤ۔ فیصلے میں تاخیر کی وجہ سے نواز شریف جسٹس ملک محمد قیوم سے ناراض بھی ہو گئے تھے۔ لاہور ہائی کورٹ کی احتساب عدالت کے جسٹس ملک محمد قیوم اپنے باس لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس راشد عزیز کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اچانک عدالتی کاروائی روک کر ایک دن قبل لکھا ہوا فیصلہ سنا کر شریف برادران کی پرانی خواہش پوری کر دی۔
چوتھی قِسط آڈیو ٹیپس میں ریکارڈڈ “صادق و امین فرشتوں” کی تفصیلی بات چیت پر مشتمل ہو گئی۔ (جاری ہے)
آصف علی زرداری کے خلاف سب مقدمات کی تفصیل لکھنے کے لئے تو یقینی طور ایک ضخیم کتاب درکار ہو گی، جو کہ ہمارے لیے اس وقت ممکن نہیں ہے مگر ہم یہاں زرداری کے خلاف سب سے اہم اور مشہور و معروف ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز سے متعلقہ (سوئس کیسز) سے متعلق حقائق سے آپ کو روشناس کرانے جا رہے ہیں (سوئز کیسز کو آپ بجا طور پر محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف میگا سکینڈل یا سب مقدمات کا آباء بھی کہہ سکتے ہیں)، جس سے آپ واضح طور پر سمجھ جائیں گے کہ آصف علی زرداری کتنے بڑے “کرپٹ” ہیں اور اِن کے مخالفین کتنے بڑے “صادق و امین فرشتے”؟
یاد رہے کہ ایس جی ایس اور کوٹیکنا نامی دونوں یورپی کمپنیاں، جو درآمد کردہ سامان کی مالیت طے کرنے اور اس حساب سے ٹیکس وصول کرنے کی سفارشات کا کام کرتی ہیں۔ چونکہ بعض پاکستانی درآمد کنندہ درآمد کردہ اشیاء پر ٹیکس سے بچنے کے لیے ان کی قیمتیں کم ظاہر کرتے ہیں اور اس طرح خزانے کو نقصان پہنچتا ہے، جس سے بچنے کے لیے نواز شریف نے وزیر اعظم کی حیثیت سے اِن دونوں کمپنیوں کے ساتھ 1992ء میں تجارت کے عالمی معاہدے کے تحت دستخط کر چکے تھے تاہم ان کی حکومت کے خاتمے کی وجہ سے وہ اسے ایوارڈ نہیں کر سکے تھے حالانکہ اُس وقت کے چیف کسٹم کلکٹر خلیل احمد کے بقول نوازشریف کی حکومت نے ان کمپنیز کو کہہ دیا تھا کہ وہ 16 اپریل 1992ء سے اپنا کام شروع کر دیں۔ نواز شریف کی حکومت جانے کے بعد جب محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت آئی تو اُنھیں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کے تحت نواز شریف کے کیے ہوئے معاہدے کے عین مطابق 1994ء میں دونوں کمپنیوں کو پری شپمینٹ اِنسپیکشن کے کنٹریکٹ دینے پڑے۔ اگر محترمہ بینظیر بھٹو اِن معاہدوں کی پاسداری نہ کرتیں تو ڈبلیو ٹی او کے عالمی قوانین کے تحت پاکستان کو بھاری جرمانے کا سامنا یقینی تھا۔ اِس طرح ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز نے اپنا کام شروع کر دیا، جس سے پاکستان کو ٹیکسس کی مد میں نقصان کی بجائے سالانہ اٹھاون ارب روپے کا فائدہ ہوا۔
اپنے آپ کو صادق و امین فرشتے ظاہر کرنے والے گوئبلز کے پاس سچ کی بجائے کذب بیانی کے وافر مقدار میں خزانے ہیں، جس سے یہ اپنے ہم رکابی میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈے کے طوفاں بپا کر کے عوام کے دماغوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کی بھرپور حمایت اور وافر وسائل کے باوجود نوازشریف کے دُوسرے دورِ حکومت کی اِبتدا تک محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف اِن کے ہاتھ میں کچھ نہ آیا تو پوری سوچ بچار کے بعد سوئس کیس کو مصالحے دار بنا کر پروپیگنڈا کرنے کے اِنھیں زیادہ مواقع نظر آئے، جس سے یہ اپنے تیر بہدف ہتھیار یعنی مِلی بھگت کو استعمال کرتے ہوئے میڈیا کے ذریعے عوام کو متنفر کرنے اور عدالتوں سے سزائیں دلوا کر محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو ہمیشہ کے لیے سیاست سے آؤٹ کرنے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانا چاہتے تھے۔ اپنی اس منصوبہ بندی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے چند اور ریفرنسس کے ساتھ ساتھ سب سے اہم مقدمات یعنی سوئس کیسز احتساب عدالت میں شروع کر دیئے گئے۔ مزید برآں، اس سلسلے میں حکومتِ ہاکستان نے سوئس حکام سے بھی رجوع کر لیا۔ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین سیف الرحمٰن نے 10 اکتوبر 1997ء کو سوئس حکام کو مندرجہ ذیل لوگوں کے خلاف ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا مقدمے سے متعلق ایک خط لکھا تھا:
1۔ آصف علی زرداری
2۔ بینظیر بھٹو
3۔ نصرت بھٹو
4۔ حاکم علی زرداری
5۔ جیمزشینگلل (وکیل)
6۔ ڈیلٹرپلینٹو (فرنٹ مین)
بعد ازاں 1997ء میں ہی سوئس حکام کو ایک اور خط لکھا گیا اور درخواست کی گئی کہ اِن کیسز کو ہنگامی بنیادوں پر دیکھا جائے اور فوری طور پر فیصلہ کیا جائے۔ یہ خط اُس وقت کے اٹارنی جنرل چوہدری محمد فاروق (جسٹس خلیل رمدے کے بھائی) کے لیٹر ہیڈ پر لکھا گیا تھا۔ دستخط کی جگہ اُس وقت کے اٹارنی جنرل چوہدری محمد فاروق کا نام لکھا ہوا تھا مگر دستخط قومی احتساب بیورو کے ڈپٹی چیئرمین حسن وسیم افضل نے کیے تھے۔ پھر 19 فروری 1999ء کو سوئس حکام کو تیسرا خط چوہدری محمد فاروق کے لیٹر ہیڈ پر ہی لکھا گیا تھا۔ دستخط کی جگہ چوہدری محمد فاروق کا نا م تھا مگر دستخط سیف الرحمٰن کے تھے۔
نواز شریف حکومت کی پوری کوشش تھی کہ کسی نہ کسی طرح سوئس عدالت سے محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف جلد از جلد فیصلہ کرا لیا جائے مگر سوئس حکام نے پاکستان کی حکومت پر واضح کر دیا کہ اُن کی انکوائری کا دار و مدار پاکستان میں احتساب عدالتوں میں زیر التوا ایس جی ایس اینڈ کوٹیکنا کمپنیز سے متعلقہ کیسز کے فیصلے سے مشروط ہے۔ نواز شریف حکومت کے لیے مشکل یہ تھی کہ جھوٹے شواہد سے اِن کے من کی مُراد کیسے پوری ہو؟ یہ من کی مراد ایسے پوری ہوئی کہ 15 اپریل 1999ء کو شریف برادران نے لاہور ہائیکورٹ کے ججوں کے ساتھ مِلی بھگت کے بعد احتساب عدالت کے ذریعے اپنا من پسند فیصلہ حاصل کر لیا۔ اس عدالتی فیصلے کے تحت محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو سات سالہ قید کی سزا ہوئی اور اِس کے علاوہ سب بنک اکاؤنٹس سِیز، ساری جائیداد کی ضبطگی کے ساتھ ساتھ اِن کی نا اہلی کی سزائیں بھی شامل تھیں۔
آئین شکن ڈکٹیٹر ضیاءالحق کے دور میں قید و بند کی سزائیں کاٹنے اور بعد میں ضیاءالحق کی معنوی اولاد کے ساتھ جمہوریت کی جنگ لڑنے والی محترمہ بینظیر بھٹو کو سوئس کیسز میں ملی بھگت سے دلوائی جانے والی سزا کی پہلے ہی بھنک پڑ گئی تو وہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کو محفوظ بنانے لیے بیرونِ چلی گئیں۔ آصف علی زردری پہلے سے ہی 1996ء سے پابند سلال تھے۔
قُدرت کی کرنی ایسی ہوئی کہ 2001ء میں شریف برادران اور ججوں کی سوئس کیسز سے متعلق ٹیلیفونک ریکارڈڈ گفتگو منظر عام پر آ گئی تو 6 اپریل 2001ء کو پاکستان کی سپریم کورٹ کو سوئس کیس کی 15 اپریل 1999ء کو سنائی جانے والی سزا کڑوی گولی نگلتے ہوئے کالعدم قرار دینی پڑی (واضح رہے کہ یہ سزا کالعدم قرار دینے والے بینچ میں سپریم کورٹ کے جسٹس افتخار محمد چوہدری بھی شامل تھے)۔ اس فیصلے سے سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ راشد عزیز (اُس وقت سپریم کورٹ کے جج تھے) اور ملک محمد قیوم جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو اپنی اپنی نشستوں سے اِستعفے دینے پڑے۔
سوئس کیسز کے سلسلے میں شریف حکومت اور ججوں کی مِلی بھگت کی تفصیل یہ ہے کہ نواز شریف، شہباز شریف، وزیر قانون خالد انور، اٹارنی جنرل چوہدری فاروق، احتساب بیورو کے چیئرمین سیف الرحمٰن، لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس راشد عزیز نے احتساب عدالت کے جج ملک محمد قیوم سے بار بار فرمائش کی تھی کہ محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو جلد از جلد اور سخت سے سخت سزا سناؤ۔ فیصلے میں تاخیر کی وجہ سے نواز شریف جسٹس ملک محمد قیوم سے ناراض بھی ہو گئے تھے۔ لاہور ہائی کورٹ کی احتساب عدالت کے جسٹس ملک محمد قیوم اپنے باس لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس راشد عزیز کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اچانک عدالتی کاروائی روک کر ایک دن قبل لکھا ہوا فیصلہ سنا کر شریف برادران کی پرانی خواہش پوری کر دی۔
چوتھی قِسط آڈیو ٹیپس میں ریکارڈڈ “صادق و امین فرشتوں” کی تفصیلی بات چیت پر مشتمل ہو گئی۔ (جاری ہے)
“کرپٹ زرداری” اور صادق و امین فرشتوں کی اصل کہانی(2)
پاکستان میں گوئبلز گروپ شروع سے ہی اسٹیبلشمنٹ اور اِس کے تراشیدہ
جَمُوروں پر مشتمل رہا ہے۔ اس گروپ میں شامل شعبدہ بازوں کی طلسم گری پہلے
بھی کم نہ تھی مگر اس گروپ نے اپنے فن کو نوے کی دہائی میں بامِ عروج تک جا
پہنچایا۔ اِنھوں نے جھوٹ کا وہ اندھ کار مچایا کہ عوام کے لیے سچ اور
جُھوٹ کی تمیز بہت مشکل ہو گئی۔ من کے پُجاری اور نفس کے حواری پاکستانی
گوئبلز نے آج قوم کی یہ حالت کر دی ہے کہ کسی پر الزامات لگنے کے ساتھ ہی
اسے مُجرم مان کر سنگباری شروع ہو جاتی ہے۔ اپنے ناپسندیدہ شخص کے خلاف ہر
افواہ کو ایمان کی حد تک سچ مان لیا جاتا ہے اور اسے فریضہ اوٗل سمجھ کر
خوب پھیلایا جاتا ہے۔ بعد میں وہ افواہ بھلے جُھوٹ ثابت ہو جائے، مگر وہ
پہلے ہی اذہان میں پتھر کی لکیر بن چکی ہوتی ہے، جس نے پھر ہمیشہ مستقبل
میں ریفرنس کے طور پر استعمال ہونا ہونا ہے۔ اِس وقت پاکستانی معاشرے میں
صرف اپنی پسند کے سچ کو ماننے پر مبنی ہماری سیاسی ثقافت صرف دشمنی اور
الزام تراشی کا نام ہے۔
پاکستانی گوئبلز نے قوم کو ایک ذہنی کیفیت، جسے willingness to believe کہا جا تا ہے، میں مبتلا کر دیا ہے۔ اِس کیفیت میں آدمی ناپسندیدہ کے خلاف اور پسندیدہ کے حق میں ہر بات مان لینے پر فوراً آمادہ ہوتا ہے۔
1988ء میں اسٹیبلشمنٹ کے خرّانٹ سوانگیوں سمیت اُس وقت کے صدر غلام اسحاق خان، آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ، آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل حمید گل اور ہمیشہ عوام کے ووٹوں پر بھروسہ نہ کرنے والی ملک کی نو سیاسی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی کا راستہ روک رہیں تھیں مگر عوام نے اپنا فیصلہ صادر کر دیا۔
جب محترمہ بینظیر بھٹو برسرِ اقتدار آئیں تو آصف علی زرداری کی سیاسی زندگی باضابطہ طور پر شروع ہو گئی۔ محترمہ کا پہلا دور شروع ہوتے ہی ان پر پاکستانی گوئبلز نے منظم طریقے سے لاتعداد من گھڑت کرپشن کے الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔ ان پر مسٹر ٹین پرسنٹ کا خطاب چپکا کر اس کی بھرپور تشہیر کی گئی (آج اخبارات کے وہ بدبخت ایڈیٹرز اپنے مُنہ سے پوری تفصیل سُناتے ہیں کہ کس طرح شریف خاندان نے اُس وقت اُن کو سترہ کروڑ روپے دے کر مِسٹر ٹین پرسنٹ کے پروپیگنڈے کی اسائینمنٹ دی تھی۔ شریف خاندان پوری طرح ایکسپوز ہو چکا اور اُن کے تنخواہ دار صحافیوں کے اِقرار کے باوجود بھی برین واشڈ دولے شاہی چوہے آج بھی “مِسٹر ٹین پرسنٹ” کی گردان الاپی جا رہے ہیں)۔ محترمہ بینظیر بھٹو کے راستے میں روڑے اٹکائے گئے۔ جگہ جگہ مشکلات پیدا کی گئیں۔ ان کو سیکیورٹی رِسک قرار دے کر بھرپور جھوٹا پروپیگنڈہ کیا گیا۔ دَھن کی موسلا دھار بارش میں تحریک عدمِ اعتماد کا ڈول ڈالا گیا مگر بات نہ بنی۔ اِس کے بعد بینظیر بھٹو کی حکومت کو صرف 20 ماہ بعد اس وقت کے صدرِ پاکستان غلام اسحاق خان نے آرمی چیف اسلم بیگ کے ساتھ مل کر کرپشن کے جھوٹے الزامات لگا کر آٹھویں ترمیم کے تحت ختم کر دیا اور آصف علی زرداری کو ایک برطانوی تاجر مرتضٰی بخاری کی ٹانگ پر بم باندھ کر آٹھ لاکھ ڈالرز لینے کی سازش کا الزام لگا کر حراست میں لے لیا گیا۔
1990ء میں بینظیر حکومت کی برطرفی کے بعد ہونے والے انتخابات میں آصف علی زرداری رکنِ قومی اسمبلی بنے۔ اس عرصہ میں وہ جیل میں ہی رہے۔ لیکن اُسی غلام اسحاق خان کو جس نے اُنھیں کرپشن کے لاتعداد الزامات لگا کر جیل بھیجا تھا، پوری کوشش کے باوجود کوئی ایک بھی الزام ثابت کیے بغیر تین سال بعد 1993ء میں اپنا تھوکا سرِعِام چاٹ کر آصف علی زرداری کو رہا کر کے نگران وزیرِ اعظم میر بلخ شیر مزاری کی کابینہ میں وزیر بنا کر حلف لینا پڑا۔
محترمہ بینظیر بھٹو کے دوسرے دور میں زرداری رکنِ قومی اسمبلی اور وزیرِ ماحولیات و سرمایہ کاری رہے۔ وہ 1997ء سے 1999ء تک سینٹ کے رکن بھی رہے۔ محترمہ کے دوسرے دورِ حکومت میں بھی آصف علی زرداری پر الزامات لگانا افترا پردازوں کا محبوب مشغلہ رہا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے محسن کش اور بعد میں نشانِ عبرت بن جانے والے صدر فاروق احمد خان لغاری نے 4 نومبر 1996ء کو بدامنی، بد عنوانی اور ماورائے عدالت قتل کے جھوٹے الزمات لگا کر محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت کو برطرف کرنے کے ساتھ ہی آصف علی زرداری کو کسی مقدمے کے بغیر ہی گرفتار کر لیا۔ حکومت توڑنے کے دوسرے دن یعنی 5 نومبر 1996ء کو فاروق لغاری کی حکومت نے آصف زرداری کا نام مرتضٰی بھٹو قتل کیس میں درج کر دیا۔ اُس وقت ایک اور جعلی مقدمہ بنا کر میڈیا پر خُوب تشہیر کی گئی کہ جب آصف علی زرداری کو گورنر ہاؤس لاہور سے گرفتار کیا گیا تو اُن سے اربوں ڈالرز کے کرنسی نوٹوں کے بریف کیس اور سونے سے بھرے ٹرک برآمد ہوئے تھے۔ مُدتیں بیت گئیں مگر یہ مقدمہ بنانے والے آج تک نہیں بتا سکے کہ آصف علی زرداری سے اربوں ڈالرز کے کرنسی نوٹ اور سونے سے بھرے پکڑے گئے وہ ٹرک کدھر ہیں؟
1997ء کے الیکشن کے بعد بننے والی نوازشریف کی حکومت نے آصف علی زرداری پر جھوٹے مقدمات کی بھرمار کر دی۔ اِس بار بغیر کوئی مقدمہ سچ ثابت ہوئے وہ جیل میں آٹھ سال قید رہے۔
یاد رہے کہ آصف علی زرداری جب بھی گرفتار ہوئے۔ مخالف حکمرانوں نے اِن کے جاننے والے بینکاروں، تاجروں، بیوروکریٹس، خاندان اور ذاتی عملے کو گرفتار کر کے بے انتہا تشدد کا نشانہ بنایا اور Perjured بیانات لینے کے لئے انھیں مالی و ذاتی فوائد اور بصورت دیگر تباہی کے واضح پیغامات دیئے گئے۔ حکمرانوں کی خواہش تھی کہ اُن کے گھناؤنے مطالبات نہ ماننے تک زرداری جیل میں رہیں۔ اِس دوران ججز، پولیس، جیل حُکام اور پروپیگنڈا کرنے والے صحافیوں نے اُس وقت کے حکمرانوں سے خوب فائدے اُٹھائے، زرداری کو تشدد کا نشانہ بنانے اور طرح طرح کی تکالیف پہنچانے پر انعامات کی بارش ہونے کے ساتھ ساتھ ترقیاں بھی مِلتی تھیں۔ طوائف طبیعت صحافیوں نے من کی مرادیں پائیں۔ آصف علی زرداری کے خلاف سیاسی نوعیت کے بنائے گئے جھوٹے مقدمات میں بعض ایسے لوگوں کو بھی گواہ بنایا گیا، جو مقدمے کی تفصیل جاننا تو دُور کی بات زرداری تک کو نہیں پہچانتے تھے اور نہ ہی زرداری اُن کو جانتے تھے۔ چند گواہوں کو جھوٹی گواہیاں نہ دینے پر عملی طور پر عبرت کا نشان بنا دیا گیا، بعض کو تو پھانسی کی سزائیں تک سُنائیں گئیں۔
محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے لیے اسٹیبلشمنٹ کا واضح پیغام تھا کہ اُن کے غیر آئینی مطالبات نہ ماننے تک زرداری جیل میں ہی رہیں گے۔ اِس مقصد کو پورا کرنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ نے ہر گھٹیا سے گھٹیا حرکت سے اجتناب نہ کیا۔ مثال کے طور پر 2002ء میں جب سب مقدمات میں زرداری کی ضمانت ہوئی اور وہ جیل سے اپنا سامان لے کر باہر آنے لگے تو جیل سپرٹنڈنٹ نے زرداری سے کہا “جناب اپنا سامان یہیں رہنے دیں کیوںکہ یہ آپ کو پکڑ کر دوبارہ یہیں لائیں گے”۔ اور بالکل ویسے ہی ہوا۔ قید سے نکلنے سے قبل ہی زرداری پر ایک سیکنڈ ہینڈ بی ایم ڈبلیو کار پر کسٹم ڈیوٹی کم ادا کرنے کا مقدمہ بنا کر عدالت کے سامنے پیش کر دیا گیا۔ جب آصف علی زرداری نے جج صاحب سے کہا کہ “جج صاحب! اول تو یہ گاڑی میری نہیں ہے اور نہ ہی میرے نام پر منگوائی گئی۔ لیکن فرض کیا کہ اگر یہ گاڑی میری ہی ہے تو تب بھی ملک کا قانون یہ کہتا ہے کہ آپ ایسی گاڑی ضبط کر لیں”، جس کے جواب میں جج نے کہا “ہمیں گاڑی نہیں بلکہ آپ کو ضبط کرنے کے احکامات ہیں”۔ یوں آصف علی زرداری کو ایک بار پھر نیب کے حوالے کر دیا گیا۔ اس طرح اُن کا اٹک میں مزید دو سال ٹرائل ہوا۔
محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری نے حکمرانوں کے گھناؤنے مطالبات نہ مانے، جس کی وجہ سے جیل میں آصف علی زرداری پر مسلسل تشدد ہوتا رہا۔ ایک بار تشدد کی وجہ سے اُن کی حالت بہت نازک ہو گئی تو اُنھیں آغا خان اسپتال منتقل کیا گیا۔ اس بار تشدد میں اُن کی گردن اور زبان پر بھی کٹ لگا کر زخمی کیا گیا تھا۔ جب انھیں اسپتال منتقل کیا گیا تو حکمرانوں کے ہمنوا میڈیا اور پولیس نے خودکُشی کا رنگ دینے کی بھرپور کوشش کی لیکن بعد میں عدالت میں میڈیکل رپورٹس سے ثابت ہوا کہ یہ خودکُشی نہیں بلکہ تشدد ہوا تھا۔
پُرتشدد جیل میں بھی آصف زرداری کی فعال شخصیت مرکزِ توجہ بنی رہی۔ انہوں نے قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے کئی کام کئے، جن میں کھانے اور کپڑوں کی تقسیم کے علاوہ نادار قیدیوں کی ضمانت اور رہائی کے لیے رقم کا بندوبست جیسے فلاحی امور شامل ہیں۔
1990ء سے لے کر 2004ء تک غلام اسحاق خان، نواز شریف، فاروق لغاری اور پرویز مشرف نے محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف زرداری پر کرپشن کے تقریباً ڈیڑھ درجن ریفرینسز فائل کئے۔ اِس کے بعد پرویز مشرف کی حکومت نے بھی اندرون و بیرونِ ملک ان الزامات، ریفرینسز اور مقدمات کو آگے بڑھایا۔ مگر محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری نے ہمیشہ اپنا مؤقف برقرار رکھا کہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات خالصتاً سیاسی تھے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹس محترمہ بینظیر بھٹو کے دعوٰے کی تصدیق کرتی ہیں کہ اُن پر اور اُن کے شوہر کے خلاف کرپشن کے مقدمات دائر کرنے کے لیے ملکی خزانے سے خطیر رقم خرچ کی گئی۔ اکیلے غلام اسحاق خان نے نوے کی دہائی کے شروع میں قانونی مشیروں کو 28 ملین روپے ادا کیے۔ اس کے بعد دوسرے حکمرانوں نے بھی سرکاری وکیلوں اور مقدمات پر اُس وقت قومی خزانے سے کروڑوں روپے خرچ کر دیئے لیکن اسٹیبلشمنٹ اور اس کے حواریوں کی بھرپور کوششوں کے باوجود آج تک کوئی ایک اِلزام محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری پر ثابت نہیں ہو سکا۔
قید کے دوران آصف علی زرداری پوری بہادری کے ساتھ ظالم حکمرانوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑے رہے، اداروں اور عدالتوں کی اُس وقت کے حکمرانوں کے ساتھ ملی بھگت کے باوجود اپنی قانونی جنگ لڑتے رہے۔ ریکارڈ کے مطابق زرداری نے ہر مقدمے میں چار سو سے پانچ سو تک پیشیاں بھگتی ہیں مگر کبھی بھی عدلیہ سمیت کسی ادارے کی توہین نہیں کی۔ آصف علی زرداری کے خلاف پاکستانی گوئبلز کے پاس رتی برابر کوئی ثبوت نہیں تھا، جس کے ذریعے وہ عدالت سے اُنھیں سزا دلوا سکتے۔ عدالت نے تنگ آ کر نومبر 2004ء میں آخری مقدمے میں بھی زرداری کو ضمانت پر رہا کر دیا۔
آصف علی زرداری قید کے دوران مختلف بیماریوں میں مبتلا رہے۔ اِس لیے رہا ہونے کے بعد علاج کے لئے بیرونِ ملک چلے گئے۔27 دسمبر2007ء کو محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جلاوطنی ختم کر کے پاکستان واپس آئے اور شہید بی بی کے جنازے پر “پاکستان کھپے” کا نعرہْ مستانہ بلند کر کے بی بی کے سوگ میں جلتے سندھ سمیت پوری قوم کو تسلی دی۔ محترمہ بینظیر بھٹو کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین کا عہدہ سنبھالا۔ 2008ء کے الیکشنز میں آصف علی زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی انتخابات میں سب سے بڑی پارٹی بن کر اُبھری اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر جمہوری حکومت قائم کی۔ 6 ستمبر 2008ء کو پاکستان پیپلزپارٹی نے باضابطہ طور پر انہیں صدارتی انتخاب کے لیے نامزد کر دیا اور یوں آصف علی زرداری دو تہائی اکثریت سے زائد ووٹ لے کر صدرِ پاکستان منتخب ہو گئے۔
سب اہم پوزیشنز بشمول وزیرِ اعظم، سپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینٹ حاصل کرنے اور صدرِ پاکستان کا عہدہ سنبھالنے اور اسٹیبلشمنٹ کی سازشوں کو ناکام بناتے ہوئے تمام پوزیشنز برقرار رکھ کر آصف علی زرداری نے گوئبلز گروپ کے دماغوں کو مسلسل چرخی میں گھما کر انھیں نقشِ حیرت بنا دِیا ہے۔
ماضی میں عوامی حکومتیں گِرانے، ایک مُنہ میں ہزار باتیں کہنے اور اپنی ہر بات کو حرفِ آخر سمجھنے والے اپنے تئیں صادق و امین فرشتوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی پچھلی وفاقی حکومت میں پورے پانچ سال کے دوران ہر تین مہینے بعد پورے یقین کے ساتھ صدرِ پاکستان کے جانے کی نئی تاریخیں دیتے رہے۔ مگر ہر دی جانے والی تاریخ کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کو ہر کور ایشو کے ساتھ مضبوط دیکھ کر مبالغہ شعار گوئبلز کی طبیعت اُتھل پُتھل ہو جاتی رہی۔ 2013ء کے الیکشنز میں مسلم لیگ (ن) کی دھاندلی زدہ وفاقی حکومت کی ہر شعبے میں کارکردگی پاکستان پیپلز پارٹی کی پچھلی حکومت کے مقابلے میں بدترین ہے مگر گوئبلز، رعونت کی خمیدہ کلغی اور الم ناک نوحوں کے ساتھ آصف علی زرداری کے خلاف “اگر، مگر، چونکہ چنانچہ” سے لیس اپنے پروپیگنڈے کے ساتھ اپنی حواس باختگی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
(جاری ہے)
پاکستانی گوئبلز نے قوم کو ایک ذہنی کیفیت، جسے willingness to believe کہا جا تا ہے، میں مبتلا کر دیا ہے۔ اِس کیفیت میں آدمی ناپسندیدہ کے خلاف اور پسندیدہ کے حق میں ہر بات مان لینے پر فوراً آمادہ ہوتا ہے۔
1988ء میں اسٹیبلشمنٹ کے خرّانٹ سوانگیوں سمیت اُس وقت کے صدر غلام اسحاق خان، آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ، آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل حمید گل اور ہمیشہ عوام کے ووٹوں پر بھروسہ نہ کرنے والی ملک کی نو سیاسی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی کا راستہ روک رہیں تھیں مگر عوام نے اپنا فیصلہ صادر کر دیا۔
جب محترمہ بینظیر بھٹو برسرِ اقتدار آئیں تو آصف علی زرداری کی سیاسی زندگی باضابطہ طور پر شروع ہو گئی۔ محترمہ کا پہلا دور شروع ہوتے ہی ان پر پاکستانی گوئبلز نے منظم طریقے سے لاتعداد من گھڑت کرپشن کے الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔ ان پر مسٹر ٹین پرسنٹ کا خطاب چپکا کر اس کی بھرپور تشہیر کی گئی (آج اخبارات کے وہ بدبخت ایڈیٹرز اپنے مُنہ سے پوری تفصیل سُناتے ہیں کہ کس طرح شریف خاندان نے اُس وقت اُن کو سترہ کروڑ روپے دے کر مِسٹر ٹین پرسنٹ کے پروپیگنڈے کی اسائینمنٹ دی تھی۔ شریف خاندان پوری طرح ایکسپوز ہو چکا اور اُن کے تنخواہ دار صحافیوں کے اِقرار کے باوجود بھی برین واشڈ دولے شاہی چوہے آج بھی “مِسٹر ٹین پرسنٹ” کی گردان الاپی جا رہے ہیں)۔ محترمہ بینظیر بھٹو کے راستے میں روڑے اٹکائے گئے۔ جگہ جگہ مشکلات پیدا کی گئیں۔ ان کو سیکیورٹی رِسک قرار دے کر بھرپور جھوٹا پروپیگنڈہ کیا گیا۔ دَھن کی موسلا دھار بارش میں تحریک عدمِ اعتماد کا ڈول ڈالا گیا مگر بات نہ بنی۔ اِس کے بعد بینظیر بھٹو کی حکومت کو صرف 20 ماہ بعد اس وقت کے صدرِ پاکستان غلام اسحاق خان نے آرمی چیف اسلم بیگ کے ساتھ مل کر کرپشن کے جھوٹے الزامات لگا کر آٹھویں ترمیم کے تحت ختم کر دیا اور آصف علی زرداری کو ایک برطانوی تاجر مرتضٰی بخاری کی ٹانگ پر بم باندھ کر آٹھ لاکھ ڈالرز لینے کی سازش کا الزام لگا کر حراست میں لے لیا گیا۔
1990ء میں بینظیر حکومت کی برطرفی کے بعد ہونے والے انتخابات میں آصف علی زرداری رکنِ قومی اسمبلی بنے۔ اس عرصہ میں وہ جیل میں ہی رہے۔ لیکن اُسی غلام اسحاق خان کو جس نے اُنھیں کرپشن کے لاتعداد الزامات لگا کر جیل بھیجا تھا، پوری کوشش کے باوجود کوئی ایک بھی الزام ثابت کیے بغیر تین سال بعد 1993ء میں اپنا تھوکا سرِعِام چاٹ کر آصف علی زرداری کو رہا کر کے نگران وزیرِ اعظم میر بلخ شیر مزاری کی کابینہ میں وزیر بنا کر حلف لینا پڑا۔
محترمہ بینظیر بھٹو کے دوسرے دور میں زرداری رکنِ قومی اسمبلی اور وزیرِ ماحولیات و سرمایہ کاری رہے۔ وہ 1997ء سے 1999ء تک سینٹ کے رکن بھی رہے۔ محترمہ کے دوسرے دورِ حکومت میں بھی آصف علی زرداری پر الزامات لگانا افترا پردازوں کا محبوب مشغلہ رہا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے محسن کش اور بعد میں نشانِ عبرت بن جانے والے صدر فاروق احمد خان لغاری نے 4 نومبر 1996ء کو بدامنی، بد عنوانی اور ماورائے عدالت قتل کے جھوٹے الزمات لگا کر محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت کو برطرف کرنے کے ساتھ ہی آصف علی زرداری کو کسی مقدمے کے بغیر ہی گرفتار کر لیا۔ حکومت توڑنے کے دوسرے دن یعنی 5 نومبر 1996ء کو فاروق لغاری کی حکومت نے آصف زرداری کا نام مرتضٰی بھٹو قتل کیس میں درج کر دیا۔ اُس وقت ایک اور جعلی مقدمہ بنا کر میڈیا پر خُوب تشہیر کی گئی کہ جب آصف علی زرداری کو گورنر ہاؤس لاہور سے گرفتار کیا گیا تو اُن سے اربوں ڈالرز کے کرنسی نوٹوں کے بریف کیس اور سونے سے بھرے ٹرک برآمد ہوئے تھے۔ مُدتیں بیت گئیں مگر یہ مقدمہ بنانے والے آج تک نہیں بتا سکے کہ آصف علی زرداری سے اربوں ڈالرز کے کرنسی نوٹ اور سونے سے بھرے پکڑے گئے وہ ٹرک کدھر ہیں؟
1997ء کے الیکشن کے بعد بننے والی نوازشریف کی حکومت نے آصف علی زرداری پر جھوٹے مقدمات کی بھرمار کر دی۔ اِس بار بغیر کوئی مقدمہ سچ ثابت ہوئے وہ جیل میں آٹھ سال قید رہے۔
یاد رہے کہ آصف علی زرداری جب بھی گرفتار ہوئے۔ مخالف حکمرانوں نے اِن کے جاننے والے بینکاروں، تاجروں، بیوروکریٹس، خاندان اور ذاتی عملے کو گرفتار کر کے بے انتہا تشدد کا نشانہ بنایا اور Perjured بیانات لینے کے لئے انھیں مالی و ذاتی فوائد اور بصورت دیگر تباہی کے واضح پیغامات دیئے گئے۔ حکمرانوں کی خواہش تھی کہ اُن کے گھناؤنے مطالبات نہ ماننے تک زرداری جیل میں رہیں۔ اِس دوران ججز، پولیس، جیل حُکام اور پروپیگنڈا کرنے والے صحافیوں نے اُس وقت کے حکمرانوں سے خوب فائدے اُٹھائے، زرداری کو تشدد کا نشانہ بنانے اور طرح طرح کی تکالیف پہنچانے پر انعامات کی بارش ہونے کے ساتھ ساتھ ترقیاں بھی مِلتی تھیں۔ طوائف طبیعت صحافیوں نے من کی مرادیں پائیں۔ آصف علی زرداری کے خلاف سیاسی نوعیت کے بنائے گئے جھوٹے مقدمات میں بعض ایسے لوگوں کو بھی گواہ بنایا گیا، جو مقدمے کی تفصیل جاننا تو دُور کی بات زرداری تک کو نہیں پہچانتے تھے اور نہ ہی زرداری اُن کو جانتے تھے۔ چند گواہوں کو جھوٹی گواہیاں نہ دینے پر عملی طور پر عبرت کا نشان بنا دیا گیا، بعض کو تو پھانسی کی سزائیں تک سُنائیں گئیں۔
محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے لیے اسٹیبلشمنٹ کا واضح پیغام تھا کہ اُن کے غیر آئینی مطالبات نہ ماننے تک زرداری جیل میں ہی رہیں گے۔ اِس مقصد کو پورا کرنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ نے ہر گھٹیا سے گھٹیا حرکت سے اجتناب نہ کیا۔ مثال کے طور پر 2002ء میں جب سب مقدمات میں زرداری کی ضمانت ہوئی اور وہ جیل سے اپنا سامان لے کر باہر آنے لگے تو جیل سپرٹنڈنٹ نے زرداری سے کہا “جناب اپنا سامان یہیں رہنے دیں کیوںکہ یہ آپ کو پکڑ کر دوبارہ یہیں لائیں گے”۔ اور بالکل ویسے ہی ہوا۔ قید سے نکلنے سے قبل ہی زرداری پر ایک سیکنڈ ہینڈ بی ایم ڈبلیو کار پر کسٹم ڈیوٹی کم ادا کرنے کا مقدمہ بنا کر عدالت کے سامنے پیش کر دیا گیا۔ جب آصف علی زرداری نے جج صاحب سے کہا کہ “جج صاحب! اول تو یہ گاڑی میری نہیں ہے اور نہ ہی میرے نام پر منگوائی گئی۔ لیکن فرض کیا کہ اگر یہ گاڑی میری ہی ہے تو تب بھی ملک کا قانون یہ کہتا ہے کہ آپ ایسی گاڑی ضبط کر لیں”، جس کے جواب میں جج نے کہا “ہمیں گاڑی نہیں بلکہ آپ کو ضبط کرنے کے احکامات ہیں”۔ یوں آصف علی زرداری کو ایک بار پھر نیب کے حوالے کر دیا گیا۔ اس طرح اُن کا اٹک میں مزید دو سال ٹرائل ہوا۔
محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری نے حکمرانوں کے گھناؤنے مطالبات نہ مانے، جس کی وجہ سے جیل میں آصف علی زرداری پر مسلسل تشدد ہوتا رہا۔ ایک بار تشدد کی وجہ سے اُن کی حالت بہت نازک ہو گئی تو اُنھیں آغا خان اسپتال منتقل کیا گیا۔ اس بار تشدد میں اُن کی گردن اور زبان پر بھی کٹ لگا کر زخمی کیا گیا تھا۔ جب انھیں اسپتال منتقل کیا گیا تو حکمرانوں کے ہمنوا میڈیا اور پولیس نے خودکُشی کا رنگ دینے کی بھرپور کوشش کی لیکن بعد میں عدالت میں میڈیکل رپورٹس سے ثابت ہوا کہ یہ خودکُشی نہیں بلکہ تشدد ہوا تھا۔
پُرتشدد جیل میں بھی آصف زرداری کی فعال شخصیت مرکزِ توجہ بنی رہی۔ انہوں نے قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے کئی کام کئے، جن میں کھانے اور کپڑوں کی تقسیم کے علاوہ نادار قیدیوں کی ضمانت اور رہائی کے لیے رقم کا بندوبست جیسے فلاحی امور شامل ہیں۔
1990ء سے لے کر 2004ء تک غلام اسحاق خان، نواز شریف، فاروق لغاری اور پرویز مشرف نے محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف زرداری پر کرپشن کے تقریباً ڈیڑھ درجن ریفرینسز فائل کئے۔ اِس کے بعد پرویز مشرف کی حکومت نے بھی اندرون و بیرونِ ملک ان الزامات، ریفرینسز اور مقدمات کو آگے بڑھایا۔ مگر محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری نے ہمیشہ اپنا مؤقف برقرار رکھا کہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات خالصتاً سیاسی تھے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹس محترمہ بینظیر بھٹو کے دعوٰے کی تصدیق کرتی ہیں کہ اُن پر اور اُن کے شوہر کے خلاف کرپشن کے مقدمات دائر کرنے کے لیے ملکی خزانے سے خطیر رقم خرچ کی گئی۔ اکیلے غلام اسحاق خان نے نوے کی دہائی کے شروع میں قانونی مشیروں کو 28 ملین روپے ادا کیے۔ اس کے بعد دوسرے حکمرانوں نے بھی سرکاری وکیلوں اور مقدمات پر اُس وقت قومی خزانے سے کروڑوں روپے خرچ کر دیئے لیکن اسٹیبلشمنٹ اور اس کے حواریوں کی بھرپور کوششوں کے باوجود آج تک کوئی ایک اِلزام محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری پر ثابت نہیں ہو سکا۔
قید کے دوران آصف علی زرداری پوری بہادری کے ساتھ ظالم حکمرانوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑے رہے، اداروں اور عدالتوں کی اُس وقت کے حکمرانوں کے ساتھ ملی بھگت کے باوجود اپنی قانونی جنگ لڑتے رہے۔ ریکارڈ کے مطابق زرداری نے ہر مقدمے میں چار سو سے پانچ سو تک پیشیاں بھگتی ہیں مگر کبھی بھی عدلیہ سمیت کسی ادارے کی توہین نہیں کی۔ آصف علی زرداری کے خلاف پاکستانی گوئبلز کے پاس رتی برابر کوئی ثبوت نہیں تھا، جس کے ذریعے وہ عدالت سے اُنھیں سزا دلوا سکتے۔ عدالت نے تنگ آ کر نومبر 2004ء میں آخری مقدمے میں بھی زرداری کو ضمانت پر رہا کر دیا۔
آصف علی زرداری قید کے دوران مختلف بیماریوں میں مبتلا رہے۔ اِس لیے رہا ہونے کے بعد علاج کے لئے بیرونِ ملک چلے گئے۔27 دسمبر2007ء کو محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جلاوطنی ختم کر کے پاکستان واپس آئے اور شہید بی بی کے جنازے پر “پاکستان کھپے” کا نعرہْ مستانہ بلند کر کے بی بی کے سوگ میں جلتے سندھ سمیت پوری قوم کو تسلی دی۔ محترمہ بینظیر بھٹو کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین کا عہدہ سنبھالا۔ 2008ء کے الیکشنز میں آصف علی زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی انتخابات میں سب سے بڑی پارٹی بن کر اُبھری اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر جمہوری حکومت قائم کی۔ 6 ستمبر 2008ء کو پاکستان پیپلزپارٹی نے باضابطہ طور پر انہیں صدارتی انتخاب کے لیے نامزد کر دیا اور یوں آصف علی زرداری دو تہائی اکثریت سے زائد ووٹ لے کر صدرِ پاکستان منتخب ہو گئے۔
سب اہم پوزیشنز بشمول وزیرِ اعظم، سپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینٹ حاصل کرنے اور صدرِ پاکستان کا عہدہ سنبھالنے اور اسٹیبلشمنٹ کی سازشوں کو ناکام بناتے ہوئے تمام پوزیشنز برقرار رکھ کر آصف علی زرداری نے گوئبلز گروپ کے دماغوں کو مسلسل چرخی میں گھما کر انھیں نقشِ حیرت بنا دِیا ہے۔
ماضی میں عوامی حکومتیں گِرانے، ایک مُنہ میں ہزار باتیں کہنے اور اپنی ہر بات کو حرفِ آخر سمجھنے والے اپنے تئیں صادق و امین فرشتوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی پچھلی وفاقی حکومت میں پورے پانچ سال کے دوران ہر تین مہینے بعد پورے یقین کے ساتھ صدرِ پاکستان کے جانے کی نئی تاریخیں دیتے رہے۔ مگر ہر دی جانے والی تاریخ کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کو ہر کور ایشو کے ساتھ مضبوط دیکھ کر مبالغہ شعار گوئبلز کی طبیعت اُتھل پُتھل ہو جاتی رہی۔ 2013ء کے الیکشنز میں مسلم لیگ (ن) کی دھاندلی زدہ وفاقی حکومت کی ہر شعبے میں کارکردگی پاکستان پیپلز پارٹی کی پچھلی حکومت کے مقابلے میں بدترین ہے مگر گوئبلز، رعونت کی خمیدہ کلغی اور الم ناک نوحوں کے ساتھ آصف علی زرداری کے خلاف “اگر، مگر، چونکہ چنانچہ” سے لیس اپنے پروپیگنڈے کے ساتھ اپنی حواس باختگی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
(جاری ہے)
کرپٹ زرداری” اور صادق و امین فرشتوں کی اصل کہانی “(1)
آصف علی زرداری اور اپنے تَئیں صادق و امین فرشتوں (اِس بھان متی کے
کُنبے میں ہیئت مقتدرہ اور اس کے ادنٰی غلام یعنی عدلیہ، میڈیا اور جمورے
سیاست دان شامل ہیں) کی اصل کہانی سمجھنے کے لیے ہمیں تھوڑا سا ماضی میں
جانا پڑے گا۔ سب سے پہلے آصف علی زرداری کے خاندانی پس منظر اور ابتدائی
زندگی کی طرف چلتے ہیں۔
آصف علی زرداری 26 جولائی 1955ء کو کراچی میں سردار حاکم علی زرداری مرحوم کے گھر پیدا ہوئے۔ آصف علی زرداری اولادِ نرینہ میں اکلوتے ہیں۔ حاکم علی زرداری ایک قبائلی سردار اور ممتاز زمیندار تھے۔ نواب شاہ میں ان کی ہزاروں ایکڑ زمین تھی۔ اِن کی زمین کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایوب خان کے دور میں تقریباً آٹھ ہزار ایکڑ زمین لینڈ ریفارمز میں چلی گئی۔ کہتے ہیں کہ نہری نظام سے قبل ان کے آباؤ اجداد کے پاس دس ہزار اُونٹ تھے۔ حاکم علی زرداری کا اندرونِ سندھ زمینداری کے علاوہ کراچی میں بھی کاروبار تھا۔ اُنھوں نے ساٹھ کی دہائی کے شروع میں این اے پی (موجودہ اے این پی) کے پلیٹ فارم سے سیاست شروع کی۔ وہ 1965ء میں ضلع کونسل نواب شاہ سے ممبر منتخب ہوئے اور 1970ء کے اِنتخابات میں نواب شاہ سے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر پہلی بار ایم این اے بنے تھے۔ اِن کی انتخابی مہم کی خصوصی بات یہ تھی کہ اعجاز درانی (نور جہاں کے خاوند)، طارق عزیز سمیت دوسرے اداکار اِن کی الیکشن کمپیئن چلانے کے لیے آئے تھے۔ اِن کی فیض احمد فیض اور جوش ملیح آبادی سے بھی دوستی تھی۔ حاکم علی زرداری نے ڈکٹیٹر ضیاءالحق کے ظالمانہ دور میں بیگم نصرت بھٹو کا بھی بھرپور ساتھ دیا۔ ساٹھ کی دہائی میں حاکم علی زرداری کی حیثیت یہ تھی کہ اگر کوئی بھی اِنٹرنیشنل ڈیلیگشن دارالحکومت کراچی میں آتا تھا تو ڈیلیگیشن میں شامل لوگوں کی حاکم علی زرداری سے ملاقات و ضیافت کی خواہش ضرور ہوتی تھی۔ حاکم علی زرداری کراچی میں دو میں سے ایک بڑی عمارت یعنی بمبینو چیمبرز کے مالک بھی تھے (دوسری عمارت تبت سنٹر تھی)۔ بمبینو چیمبرز سات منزلہ بلڈنگ تھی۔ اس کی ساتویں منزل پر اس زمانے میں حاکم علی زرداری یعنی آصف علی زرداری کی والدہ نے ساتویں منزل پر پینٹ ہاؤس بھی بنوایا تھا، جس کی اُس سستے زمانے میں لاگت تین لاکھ روپے آئی تھی۔ بمبینو چیمبرز میں بمبینو نامی سینما گھر بھی تھا، جو بعد میں ایک اسکول کو عطیہ کر دیا گیا۔ حاکم علی زرداری بمبینو سینما گھر کے علاوہ کراچی میں مشہورِ زمانہ لارکس اور اسکالا سمیت پانچ سینما گھروں کے بھی مالک تھے۔ اُس دور میں فلم انڈسٹری اور سینما گھروں کا کاروبار بہت زیادہ منفعت بخش تھا۔ حاکم علی زرداری کے سینما گھر جدید ترین مووی ٹیکنالوجی سے لیس تھے۔ ان کے سینما گھر پورے برصغیر یعنی بھارت، پاکستان اور بنگلا دیش میں سب سے بہتر تھے اور ان کی اس میدان میں اجارہ داری تھی۔ ان کے سینما گھر سنیما انڈسٹری میں انقلاب لے کر آئے۔ ان کے پانچوں سینیما گھروں میں ٹکٹوں کی خرید ریزرویشن کے ذریعے ہوتی تھی۔ سینما گھروں کے ٹکٹوں کی ریزرویشن کے سلسلے کی شروعات بھی یہاں سے ہوتی ہے۔ حاکم علی زرداری نے ایک سندھی فلم سُورٹ نامی بھی بنائی تھی۔ وہ فلموں کے پروڈیوسر ہونے کے علاوہ فلم ڈسٹریبیوشن ایسوسی ایشن کے چیئرمین بھی تھے۔ اُس وقت کے سُپر سٹار اور امیر ترین فلمسٹار محمد علی کی ان کے ساتھ بہت زیادہ دوستی تھی اور اِن کا ایک دوسرے کے گھر بہت آنا جانا تھا۔ یاد رہے کہ آصف علی زرداری نے سالگرہ نامی ایک فلم میں چائلڈ ایکٹر کے طور پر بھی کام کیا تھا، جس کے ہیرو سُپر سٹار وحید مراد تھے۔
یہاں یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ مندرجہ بالا وہی مشہور زمانہ بمبینو سینما گھر تھا، جہاں سے پروپیگنڈسٹ آصف علی زرداری سے ٹکٹ بلیک کرواتے ہیں۔ حیرت ہے کہ اُس دور میں آصف علی زرداری شاید پرائمری اسکول میں پڑھ رہے ہوں گے اور یہ دروغ گو بڑے دھڑلے سے ایک امیر ترین آدمی کے اکلوتے بیٹے سے اتنی چھوٹی سی عمر میں ٹکٹیں بلیک کروائی جا رہے ہیں۔
آصف علی زرداری کی والدہ نامور مسلم دانشور مولانا خان بہادر حسن علی آفندی کی پوتی تھیں، اس طرح مولانا آفندی آصف علی زرداری کے پڑ نانا تھے۔ حسن علی آفندی آل انڈیا مسلم لیگ سے ملحق رہے اور مسلم لیگ پارلیمانی بورڈ کے رکن بھی رہے۔ 1934ء سے 1938ء تک وہ سندھ کی قانون ساز اسمبلی کے رکن بھی رہے۔ انہوں نے محمد علی جناح کے ساتھ مل کر مسلم لیگ کو مسلمانوں میں متعارف کرانے کا کام کیا۔ مزید برآں، انہوں نے مصر، فلسطین، شام، عراق، یمن، سعودی عرب اور امریکہ کا دورہ بھی کیا، جہاں انھوں نے اپنی تقریروں میں ہندوستان کی آزادی اور اسلام کے بارے میں گفتگو کی۔ مولانا حسن علی سندھ مدرسۃ الاسلام کے بانی تھے، جو انھوں نے اپنی ذاتی آٹھ ایکڑ زمین پر تعمیر کیا۔ یہ وہی مدرسہ ہے، جہاں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ایسی عظیم ہستی 1887ء سے لے کر 1892ء تک زیر تعلیم رہی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے والد شاہ نواز بھٹو کے علاوہ عبداللہ ہارون، ایوب کھوڑو، سر غلام حسین ہدایت اللہ ایسی کئی عظیم ہستیوں نے بھی اِسی عظیم تعلیمی درسگاہ سے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ یہ مدرسہ 1943ء میں ہائی سکول سے کالج بنا۔ 2012ء صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے سندھ مدرسۃ الاسلام کو کالج سے یونیورسٹی کا درجہ دے دیا۔ آج مولانا آفندی کے بنائے ہوئے اس تعلیمی ادارے کے بطن سے نکلے ایس ایم لا کالج سمیت کئی تعلیمی ادارے موجود ہیں۔
آصف علی زرداری اپنی پرائمری تعلیم کراچی گرائمر اور سینٹ پیٹرکس سکول میں مکمل کرنے کے بعد سیکنڈری تعلیم کے لیے دادو میں قائم کیڈٹ کالج پٹارو چلے گئے۔ 1972ء میں پٹارو سے انٹرمیڈیٹ مکمل کرنے کے بعد وہ بزنس کی تعلیم کے لیے لندن روانہ ہو گئے۔ آصف زرداری اوائل عمر سے ہی “یاروں کے یار” ٹائپ شخص کے طور پر کراچی کے متمول حلقوں میں جانے جاتے تھے۔ وہ نوجوانی میں پولو اور باکسنگ کے کِھلاڑی رہے ہیں۔ انہوں نے پولو کی “زرداری فور” نامی ٹیم کی قیادت بھی کی ہے۔
آصف علی زرداری کے اُس زمانے کے ایک ساتھی کے بیان کے مطابق آصف ایک بڑے دل والے شخص ہیں۔ اس کے بقول کہ ہم لوگ ایک مرتبہ کراچی کے مضافات میں ہارس رائیڈنگ کر رہے تھے کہ ہمارے گروپ میں شامل ایک جرمن سفارت کار کی بیٹی کا گھوڑا دلدل میں دَھنس گیا۔ اس صورت حال میں کوئی آگے نہیں بڑھا۔ لیکن آصف دَلدل میں اکیلا اُتر گیا اور اُس نے پہلے لڑکی کو بچایا پھر گھوڑے کو بھی باہر نکال کر سب کو حیران کر دیا۔
سیاست سے آصف علی زرداری کا اسی کی دہائی کے وسط تک دُور دُور تک واسطہ نہیں تھا۔ بس ایک سراغ یہ مِلتا ہے کہ 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات میں آصف علی زرداری نے نواب شاہ میں صوبائی اسمبلی کی ایک نِشست سے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے تھے۔ مگر یہ کاغذات واپس لے لیے گئے۔ اسی زمانے میں آصف علی زرداری نے کنسٹرکشن کا کاروبار شروع کیا لیکن اس شعبے میں وہ صرف دو اڑھائی برس ہی فعال رہے۔
1987ء آصف علی زرداری کے لئے فیصلہ کن سال تھا، تب اِن کی زندگی میں ایک نیا موڑ آیا اور ان کی زندگی ایک نئی ڈگر کو چل نکلی، جب ان کی سوتیلی والدہ ڈاکٹر زریں آراء اور بیگم نصرت بھٹو نے محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتھ اِن کا رشتہ طے کیا۔
18 دسمبر 1987ء کو ہونے والی محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی شادی کراچی کی یادگار تقاریب میں شمار ہوتی ہے۔ جس کا اِستقبالیہ کراچی کے امیر ترین علاقے کلفٹن کے ساتھ ساتھ غریب ترین علاقے لیاری کے ککری گراؤنڈ میں بھی منعقد ہوا اور اُمرا کے شانہ بشانہ ہزاروں عام لوگوں نے بھی شرکت کی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے بعد محترمہ بینظیر بھٹو اور انکے لاکھوں سیاسی پرستاروں کے لیے یہ پہلی بڑی خوشی تھی۔
آصف علی زرداری کی زندگی محترمہ بینظیر بھٹو سے شادی کے بعد ہنگامہ خیز ہو گئی۔ چِیرہ دست اِسٹیبلشمنٹ نے زرداری پر محترمہ بینظیر بھٹو سے رشتہ طے ہونے کے دن سے ہی اپنی “نظرِعنایت” اور کرتب کاری شروع کر دی تھی، جو 1967ء سے پاکستان پیپلز پارٹی کو ختم کرنے کی پرانی خواہش مند تھی کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی اِسٹیبلیشمنٹ کے لئے پہلے دن سے ہی ایک دہشت کا نام رہی ہے۔ اور یہ دہشت زدہ اِسٹیبلشمنٹ ہمیشہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چھوٹے سے چھوٹے نشان سے بھی گھبرا کر اُسے مٹانے کے درپے رہی ہے۔ مثال کے طور پر ضیاءالحق کے غیر آئینی دور میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جھنڈے کے تین رنگ یعنی کالا، لال اور سبز پر غیر اِعلانیہ پابندی تھی۔ پابندی اتنی سخت تھی کہ گلی محلے اور بازار کے رنگ ریز خواتین کے دوپٹے رنگتے ہوئے بھی یہ احتیاط کرتے تھے کہ مبادا یہ تین رنگ کسی دوپٹے میں یکجا ہو کر”مومنی” مارشل لاء کے جاہ و جلال کو نہ للکار دیں۔
1988ء کے الیکشن کی انتخابی مہم کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف غدار اور ملک توڑنے کے الزامات عائد ہوتے رہے۔ مگر جب عوام نے پاکستان پیپلز پارٹی کو دھاندلی کے باوجود جتوا دیا اور اِس طرح بھٹو فیملی کے خلاف بے بنیاد الزامات کی بھرمار کے باوجود عوام کے رجحان نے اِسٹیبلشمنٹ کے سامنے حقیقت کھول کر رکھ دی تھی۔ انتخابات کے نتائج آنے کے بعد پُرکار اِسٹیبلشمنٹ کو نئی جہت میں آصف علی زرداری آسان ٹارگٹ لگے، اِن پر خُوب طبع آزمائی کی گئی اور گھٹیا سے گھٹیا حرکت تک سے گریز نہ کیا گیا۔ اور اس دن سے زرداری کے بارے میں ان “فرشتوں” کا طریقہْ واردارت ڈاکٹر جوزف گوئبلز والا رہا ہے۔
یاد رہے کہ پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈر گوئبلز کے بارے میں مختصر بتاتے چلیں کہ وہ پروپیگنڈے میں مہارت کی وجہ سے بہت جلد ایڈولف ہٹلر کا قریبی ساتھی اور وزیر پروپیگنڈہ بن گیا اور اس نے اپنی وزارت کو بڑی کامیابی سے چلایا۔ یہ وزارت جنگ عظیم کے اواخر یعنی 1945ء تک گوئبلز کے پاس رہی۔ گوئبلزکا بڑا مشہور قول ہے کہ ”جھوٹ باربار اور اتنی بار بولو کہ سننے والے اسے سچ مان لیں”۔
جب ہم وطنِ عزیز میں پروپیگنڈے کے “صادق و امین فرشتوں” کو وافر مقدار میں دیکھتے ہیں، تو بے چارہ گوئبلز ان کے سامنے بالکل طفلِ مکتب لگتا ہے۔ ان پاکستانی گوئبلز نے اپنی مہاکاری 1987ء سے لے کر آج تک منظم انداز میں آصف علی زرداری پر خوب آزمائی ہے۔ انہوں نے میڈیا کے ذریعے اِن کی کردار کشی کی بد ترین مہم چلائی۔ پروپیگنڈسٹوں نے ان کے خلاف منظم طریقے سے جھوٹ بار بار اور اتنی بار بولے کہ اب ان کے خلاف کوئی بھی بودے سے بودا سا الزام آئے تو برین واشڈ لوگ فوراً سچ مان لیتے ہیں۔ (جاری ہے)
آصف علی زرداری 26 جولائی 1955ء کو کراچی میں سردار حاکم علی زرداری مرحوم کے گھر پیدا ہوئے۔ آصف علی زرداری اولادِ نرینہ میں اکلوتے ہیں۔ حاکم علی زرداری ایک قبائلی سردار اور ممتاز زمیندار تھے۔ نواب شاہ میں ان کی ہزاروں ایکڑ زمین تھی۔ اِن کی زمین کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایوب خان کے دور میں تقریباً آٹھ ہزار ایکڑ زمین لینڈ ریفارمز میں چلی گئی۔ کہتے ہیں کہ نہری نظام سے قبل ان کے آباؤ اجداد کے پاس دس ہزار اُونٹ تھے۔ حاکم علی زرداری کا اندرونِ سندھ زمینداری کے علاوہ کراچی میں بھی کاروبار تھا۔ اُنھوں نے ساٹھ کی دہائی کے شروع میں این اے پی (موجودہ اے این پی) کے پلیٹ فارم سے سیاست شروع کی۔ وہ 1965ء میں ضلع کونسل نواب شاہ سے ممبر منتخب ہوئے اور 1970ء کے اِنتخابات میں نواب شاہ سے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر پہلی بار ایم این اے بنے تھے۔ اِن کی انتخابی مہم کی خصوصی بات یہ تھی کہ اعجاز درانی (نور جہاں کے خاوند)، طارق عزیز سمیت دوسرے اداکار اِن کی الیکشن کمپیئن چلانے کے لیے آئے تھے۔ اِن کی فیض احمد فیض اور جوش ملیح آبادی سے بھی دوستی تھی۔ حاکم علی زرداری نے ڈکٹیٹر ضیاءالحق کے ظالمانہ دور میں بیگم نصرت بھٹو کا بھی بھرپور ساتھ دیا۔ ساٹھ کی دہائی میں حاکم علی زرداری کی حیثیت یہ تھی کہ اگر کوئی بھی اِنٹرنیشنل ڈیلیگشن دارالحکومت کراچی میں آتا تھا تو ڈیلیگیشن میں شامل لوگوں کی حاکم علی زرداری سے ملاقات و ضیافت کی خواہش ضرور ہوتی تھی۔ حاکم علی زرداری کراچی میں دو میں سے ایک بڑی عمارت یعنی بمبینو چیمبرز کے مالک بھی تھے (دوسری عمارت تبت سنٹر تھی)۔ بمبینو چیمبرز سات منزلہ بلڈنگ تھی۔ اس کی ساتویں منزل پر اس زمانے میں حاکم علی زرداری یعنی آصف علی زرداری کی والدہ نے ساتویں منزل پر پینٹ ہاؤس بھی بنوایا تھا، جس کی اُس سستے زمانے میں لاگت تین لاکھ روپے آئی تھی۔ بمبینو چیمبرز میں بمبینو نامی سینما گھر بھی تھا، جو بعد میں ایک اسکول کو عطیہ کر دیا گیا۔ حاکم علی زرداری بمبینو سینما گھر کے علاوہ کراچی میں مشہورِ زمانہ لارکس اور اسکالا سمیت پانچ سینما گھروں کے بھی مالک تھے۔ اُس دور میں فلم انڈسٹری اور سینما گھروں کا کاروبار بہت زیادہ منفعت بخش تھا۔ حاکم علی زرداری کے سینما گھر جدید ترین مووی ٹیکنالوجی سے لیس تھے۔ ان کے سینما گھر پورے برصغیر یعنی بھارت، پاکستان اور بنگلا دیش میں سب سے بہتر تھے اور ان کی اس میدان میں اجارہ داری تھی۔ ان کے سینما گھر سنیما انڈسٹری میں انقلاب لے کر آئے۔ ان کے پانچوں سینیما گھروں میں ٹکٹوں کی خرید ریزرویشن کے ذریعے ہوتی تھی۔ سینما گھروں کے ٹکٹوں کی ریزرویشن کے سلسلے کی شروعات بھی یہاں سے ہوتی ہے۔ حاکم علی زرداری نے ایک سندھی فلم سُورٹ نامی بھی بنائی تھی۔ وہ فلموں کے پروڈیوسر ہونے کے علاوہ فلم ڈسٹریبیوشن ایسوسی ایشن کے چیئرمین بھی تھے۔ اُس وقت کے سُپر سٹار اور امیر ترین فلمسٹار محمد علی کی ان کے ساتھ بہت زیادہ دوستی تھی اور اِن کا ایک دوسرے کے گھر بہت آنا جانا تھا۔ یاد رہے کہ آصف علی زرداری نے سالگرہ نامی ایک فلم میں چائلڈ ایکٹر کے طور پر بھی کام کیا تھا، جس کے ہیرو سُپر سٹار وحید مراد تھے۔
یہاں یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ مندرجہ بالا وہی مشہور زمانہ بمبینو سینما گھر تھا، جہاں سے پروپیگنڈسٹ آصف علی زرداری سے ٹکٹ بلیک کرواتے ہیں۔ حیرت ہے کہ اُس دور میں آصف علی زرداری شاید پرائمری اسکول میں پڑھ رہے ہوں گے اور یہ دروغ گو بڑے دھڑلے سے ایک امیر ترین آدمی کے اکلوتے بیٹے سے اتنی چھوٹی سی عمر میں ٹکٹیں بلیک کروائی جا رہے ہیں۔
آصف علی زرداری کی والدہ نامور مسلم دانشور مولانا خان بہادر حسن علی آفندی کی پوتی تھیں، اس طرح مولانا آفندی آصف علی زرداری کے پڑ نانا تھے۔ حسن علی آفندی آل انڈیا مسلم لیگ سے ملحق رہے اور مسلم لیگ پارلیمانی بورڈ کے رکن بھی رہے۔ 1934ء سے 1938ء تک وہ سندھ کی قانون ساز اسمبلی کے رکن بھی رہے۔ انہوں نے محمد علی جناح کے ساتھ مل کر مسلم لیگ کو مسلمانوں میں متعارف کرانے کا کام کیا۔ مزید برآں، انہوں نے مصر، فلسطین، شام، عراق، یمن، سعودی عرب اور امریکہ کا دورہ بھی کیا، جہاں انھوں نے اپنی تقریروں میں ہندوستان کی آزادی اور اسلام کے بارے میں گفتگو کی۔ مولانا حسن علی سندھ مدرسۃ الاسلام کے بانی تھے، جو انھوں نے اپنی ذاتی آٹھ ایکڑ زمین پر تعمیر کیا۔ یہ وہی مدرسہ ہے، جہاں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ایسی عظیم ہستی 1887ء سے لے کر 1892ء تک زیر تعلیم رہی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے والد شاہ نواز بھٹو کے علاوہ عبداللہ ہارون، ایوب کھوڑو، سر غلام حسین ہدایت اللہ ایسی کئی عظیم ہستیوں نے بھی اِسی عظیم تعلیمی درسگاہ سے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ یہ مدرسہ 1943ء میں ہائی سکول سے کالج بنا۔ 2012ء صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے سندھ مدرسۃ الاسلام کو کالج سے یونیورسٹی کا درجہ دے دیا۔ آج مولانا آفندی کے بنائے ہوئے اس تعلیمی ادارے کے بطن سے نکلے ایس ایم لا کالج سمیت کئی تعلیمی ادارے موجود ہیں۔
آصف علی زرداری اپنی پرائمری تعلیم کراچی گرائمر اور سینٹ پیٹرکس سکول میں مکمل کرنے کے بعد سیکنڈری تعلیم کے لیے دادو میں قائم کیڈٹ کالج پٹارو چلے گئے۔ 1972ء میں پٹارو سے انٹرمیڈیٹ مکمل کرنے کے بعد وہ بزنس کی تعلیم کے لیے لندن روانہ ہو گئے۔ آصف زرداری اوائل عمر سے ہی “یاروں کے یار” ٹائپ شخص کے طور پر کراچی کے متمول حلقوں میں جانے جاتے تھے۔ وہ نوجوانی میں پولو اور باکسنگ کے کِھلاڑی رہے ہیں۔ انہوں نے پولو کی “زرداری فور” نامی ٹیم کی قیادت بھی کی ہے۔
آصف علی زرداری کے اُس زمانے کے ایک ساتھی کے بیان کے مطابق آصف ایک بڑے دل والے شخص ہیں۔ اس کے بقول کہ ہم لوگ ایک مرتبہ کراچی کے مضافات میں ہارس رائیڈنگ کر رہے تھے کہ ہمارے گروپ میں شامل ایک جرمن سفارت کار کی بیٹی کا گھوڑا دلدل میں دَھنس گیا۔ اس صورت حال میں کوئی آگے نہیں بڑھا۔ لیکن آصف دَلدل میں اکیلا اُتر گیا اور اُس نے پہلے لڑکی کو بچایا پھر گھوڑے کو بھی باہر نکال کر سب کو حیران کر دیا۔
سیاست سے آصف علی زرداری کا اسی کی دہائی کے وسط تک دُور دُور تک واسطہ نہیں تھا۔ بس ایک سراغ یہ مِلتا ہے کہ 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات میں آصف علی زرداری نے نواب شاہ میں صوبائی اسمبلی کی ایک نِشست سے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے تھے۔ مگر یہ کاغذات واپس لے لیے گئے۔ اسی زمانے میں آصف علی زرداری نے کنسٹرکشن کا کاروبار شروع کیا لیکن اس شعبے میں وہ صرف دو اڑھائی برس ہی فعال رہے۔
1987ء آصف علی زرداری کے لئے فیصلہ کن سال تھا، تب اِن کی زندگی میں ایک نیا موڑ آیا اور ان کی زندگی ایک نئی ڈگر کو چل نکلی، جب ان کی سوتیلی والدہ ڈاکٹر زریں آراء اور بیگم نصرت بھٹو نے محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتھ اِن کا رشتہ طے کیا۔
18 دسمبر 1987ء کو ہونے والی محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی شادی کراچی کی یادگار تقاریب میں شمار ہوتی ہے۔ جس کا اِستقبالیہ کراچی کے امیر ترین علاقے کلفٹن کے ساتھ ساتھ غریب ترین علاقے لیاری کے ککری گراؤنڈ میں بھی منعقد ہوا اور اُمرا کے شانہ بشانہ ہزاروں عام لوگوں نے بھی شرکت کی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے بعد محترمہ بینظیر بھٹو اور انکے لاکھوں سیاسی پرستاروں کے لیے یہ پہلی بڑی خوشی تھی۔
آصف علی زرداری کی زندگی محترمہ بینظیر بھٹو سے شادی کے بعد ہنگامہ خیز ہو گئی۔ چِیرہ دست اِسٹیبلشمنٹ نے زرداری پر محترمہ بینظیر بھٹو سے رشتہ طے ہونے کے دن سے ہی اپنی “نظرِعنایت” اور کرتب کاری شروع کر دی تھی، جو 1967ء سے پاکستان پیپلز پارٹی کو ختم کرنے کی پرانی خواہش مند تھی کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی اِسٹیبلیشمنٹ کے لئے پہلے دن سے ہی ایک دہشت کا نام رہی ہے۔ اور یہ دہشت زدہ اِسٹیبلشمنٹ ہمیشہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چھوٹے سے چھوٹے نشان سے بھی گھبرا کر اُسے مٹانے کے درپے رہی ہے۔ مثال کے طور پر ضیاءالحق کے غیر آئینی دور میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جھنڈے کے تین رنگ یعنی کالا، لال اور سبز پر غیر اِعلانیہ پابندی تھی۔ پابندی اتنی سخت تھی کہ گلی محلے اور بازار کے رنگ ریز خواتین کے دوپٹے رنگتے ہوئے بھی یہ احتیاط کرتے تھے کہ مبادا یہ تین رنگ کسی دوپٹے میں یکجا ہو کر”مومنی” مارشل لاء کے جاہ و جلال کو نہ للکار دیں۔
1988ء کے الیکشن کی انتخابی مہم کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف غدار اور ملک توڑنے کے الزامات عائد ہوتے رہے۔ مگر جب عوام نے پاکستان پیپلز پارٹی کو دھاندلی کے باوجود جتوا دیا اور اِس طرح بھٹو فیملی کے خلاف بے بنیاد الزامات کی بھرمار کے باوجود عوام کے رجحان نے اِسٹیبلشمنٹ کے سامنے حقیقت کھول کر رکھ دی تھی۔ انتخابات کے نتائج آنے کے بعد پُرکار اِسٹیبلشمنٹ کو نئی جہت میں آصف علی زرداری آسان ٹارگٹ لگے، اِن پر خُوب طبع آزمائی کی گئی اور گھٹیا سے گھٹیا حرکت تک سے گریز نہ کیا گیا۔ اور اس دن سے زرداری کے بارے میں ان “فرشتوں” کا طریقہْ واردارت ڈاکٹر جوزف گوئبلز والا رہا ہے۔
یاد رہے کہ پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈر گوئبلز کے بارے میں مختصر بتاتے چلیں کہ وہ پروپیگنڈے میں مہارت کی وجہ سے بہت جلد ایڈولف ہٹلر کا قریبی ساتھی اور وزیر پروپیگنڈہ بن گیا اور اس نے اپنی وزارت کو بڑی کامیابی سے چلایا۔ یہ وزارت جنگ عظیم کے اواخر یعنی 1945ء تک گوئبلز کے پاس رہی۔ گوئبلزکا بڑا مشہور قول ہے کہ ”جھوٹ باربار اور اتنی بار بولو کہ سننے والے اسے سچ مان لیں”۔
جب ہم وطنِ عزیز میں پروپیگنڈے کے “صادق و امین فرشتوں” کو وافر مقدار میں دیکھتے ہیں، تو بے چارہ گوئبلز ان کے سامنے بالکل طفلِ مکتب لگتا ہے۔ ان پاکستانی گوئبلز نے اپنی مہاکاری 1987ء سے لے کر آج تک منظم انداز میں آصف علی زرداری پر خوب آزمائی ہے۔ انہوں نے میڈیا کے ذریعے اِن کی کردار کشی کی بد ترین مہم چلائی۔ پروپیگنڈسٹوں نے ان کے خلاف منظم طریقے سے جھوٹ بار بار اور اتنی بار بولے کہ اب ان کے خلاف کوئی بھی بودے سے بودا سا الزام آئے تو برین واشڈ لوگ فوراً سچ مان لیتے ہیں۔ (جاری ہے)
Subscribe to:
Comments (Atom)